1. مرکزی
  2. زمرہ جات (کٹیگریز)

حدیث کوئی عورت دو دن کی مسافت کے سفر پر اس وقت تک نہ نکلے، جب تک اس کے ساتھ اس کا شوہر یا اس کا کوئی محرم نہ ہو

عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الخُدْرِيَّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ -وَكَانَ غَزَا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثِنْتَيْ عَشْرَةَ غَزْوَةً- قَالَ: سَمِعْتُ أَرْبَعًا مِنَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَعْجَبْنَنِي، قَالَ:

«لاَ تُسَافِرِ المَرْأَةُ مَسِيرَةَ يَوْمَيْنِ إِلَّا وَمَعَهَا زَوْجُهَا أَوْ ذُو مَحْرَمٍ، وَلاَ صَوْمَ فِي يَوْمَيْنِ: الفِطْرِ وَالأَضْحَى، وَلاَ صَلاَةَ بَعْدَ الصُّبْحِ حَتَّى تَطْلُعَ الشَّمْسُ، وَلاَ بَعْدَ العَصْرِ حَتَّى تَغْرُبَ، وَلاَ تُشَدُّ الرِّحَالُ إِلَّا إِلَى ثَلاَثَةِ مَسَاجِدَ: مَسْجِدِ الحَرَامِ، وَمَسْجِدِ الأَقْصَى، وَمَسْجِدِي هَذَا».

ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، جو اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم کے ساتھ بارہ غزوات میں شریک ہوئے تھے، وہ کہتے ہیں کہ میں نے اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم سے چار باتیں سنی ہیں، جو مجھے بڑی اچھی لگتی ہيں۔ آپ نے فرمایا ہے :
"کوئی عورت دو دن کی مسافت کے سفر پر اس وقت تک نہ نکلے، جب تک اس کے ساتھ اس کا شوہر یا اس کا کوئی محرم نہ ہو، دو دنوں میں روزہ نہیں ہے، عیدالفطر کے دن اور عید الاضحی کے دن، صبح کی نماز کے بعد سورج نکلنے تک اور عصر کی نماز کے بعد سورج ڈوبنے تک کوئی نماز نہیں ہے اور سفر کر کے بس تین مسجدوں کی جانب جانا جائز ہے، مسجد حرام، مسجد اقصی اور میری یہ مسجد۔"

صحيح متفق عليه صحيح البخاري - 1995

شرح

اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے چار باتوں سے منع کیا ہے :
1- عورت کو دو دن کی مسافت اپنے شوہر یا کسی محرم کے بغیر اکیلے طے کرنے سے منع کیا ہے۔ محرم سے مراد بیٹا، باپ، بھتیجا، بھانجا، چچا اور ماموں وغیرہ ایسے لوگ ہيں، جن سے ہمیشہ کے لیے شادی حرام ہے۔
2۔ عیدالفطر اور عید الاضحی کے دن روزہ رکھنے کی ممانعت۔ روزہ نذز کا ہو یا نفلی ہو یا کفارے کا۔
3- عصر کی نماز کے بعد سورج ڈوبنے تک اور صبح کی نماز کے بعد سورج نکلنے تک نفل نماز پڑھنے کی ممانعت۔
4- حدیث میں ذکر شدہ تین مسجدوں کو چھوڑ کر کسی اور سرزمین کا سفر کرنے، اس کی فضیلت کا عقیدہ رکھنے اور وہاں زیادہ ثواب ملنے کا عقیدہ رکھنے کی ممانعت۔ ان تین مسجدوں کو چھوڑ کر کسی دوسری جگہ کا سفر، وہاں نماز پڑھنے کے ارادے سے نہیں کیا جائے گا۔ کیوں کہ ان تین مسجدوں، مسجد حرام، مسجد نبوی اور مسجد اقصی کے علاوہ کسی اور جگہ میں نماز پڑھنے سے نماز کے ثواب میں کوئی اضافہ نہیں ہوتا۔

حدیث کے بعض فوائد

  1. محرم کے بغیر عورت کا سفر کرنا جائز نہيں ہے۔
  2. ایک عورت سفر میں دوسری عورت کا محرم نہيں بن سکتی۔ کیوں کہ حدیث کے الفاظ ہیں : "زوجُها أو ذو محرم" یعنی عورت کا شوہر یا اس کا کوئى محرم.
  3. ہر وہ مسافت جسے طے کرنے کو سفر کہا جائے، عورت کے لیے شوہر یا محرم کے بغیر اسے طے کرنا ممنوع ہوگا۔ یہ حدیث دراصل سائل کے حسب حال اور موقع ہے۔
  4. محرم سے مراد عورت کا شوہر یا ایسا شخص ہے، جس سے ابدی طور پر شادی حرام ہو۔ یہ حرمت قرابت کی وجہ سے بھی ہو سکتی ہے، جیسے باپ، چچا اور ماموں۔ رضاعت کی وجہ سے بھی ہو سکتی ہے، جیسے رضاعی باپ اور رضاعی چچا۔ سسرالی رشتے کی وجہ سے بھی ہو سکتی ہے، جیسے سسر۔ یہ بھی ضروری ہے کہ وہ مسلمان، بالغ، عقل مند، ثقہ اور ایسا شخص ہو کہ خود اس سے کوئی خطرہ نہ ہو۔ کیوں کہ محرم کا مقصد عورت کو تحفظ فراہم کرنا اور اس کے مصالح کی تکمیل ہے۔
  5. اسلامی شریعت نے عورت كا اور اسے تحفظ فراہم کرنے کا خاص خیال رکھا ہے۔
  6. فجر اور عصر کی نمازوں کے بعد عام نفل نمازیں درست نہيں ہیں۔ البتہ اس سے فوت ہوئی فرض نمازوں کی قضا اور اسباب والی نمازیں، جیسے تحیۃ المسجد وغیرہ مستثنی ہيں۔
  7. سورج طلوع ہونے کے فورا بعد نماز پڑھنا حرام ہے۔ اتنا انتظار کر لینا ضروری ہے کہ سورج ایک نیزے کے برابر اوپر اٹھ جائے، جس کی مدت لگ بھگ دس سے پندرہ منٹ ہے۔
  8. عصر کا وقت سورج ڈوبنے تک رہتا ہے۔
  9. اس حدیث میں اس بات کی دلیل ہے کہ تینوں مساجد کے لئے سفر کرنا جائز ہے۔
  10. مذکورہ تینوں مسجدوں کی فضیلت اور ديگر مسجدوں پر ان کا امتیاز۔
  11. قبروں کی زیارت کے لیے سفر جائز نہيں ہے۔ قبر خواہ نبی صلی اللہ علیہ و سلم ہی کی کیوں نہ ہو۔ البتہ اس کی زیارت مدینے کے اندر رہنے والے یا کسی مشروع یا جائز مقصد سے وہاں پہنچنے والے کے لیے جائز ہے۔

تراجم کا مشاہدہ

58 زبان
EN English الإنجليزية
ES Español الإسبانية
ID Indonesia الإندونيسية
UG ئۇيغۇرچە الأيغورية
BN বাংলা البنغالية
FR Français الفرنسية
TR Türkçe التركية
RU Русский الروسية
BS Bosanski البوسنية
SI සිංහල السنهالية
HI हिन्दी الهندية
ZH 中文 الصينية
FA فارسی الفارسية
VI Tiếng Việt الفيتنامية
TL Tagalog تجالوج
KU Kurdî الكردية
HA Hausa الهوسا
PT Português البرتغالية
ML മലയാളം المليالم
TE తెలుగు التلغو
SW Kiswahili السواحيلية
MY မြန်မာ البورمية
TH ไทย التايلندية
DE Deutsch الألمانية
PS پښتو بشتو
AS অসমীয়া الأسامية
SQ Shqip الألبانية
SV Svenska السويدية
AM አማርኛ الأمهرية
NL Nederlands الهولندية
GU ગુજરાતી الغوجاراتية
KY Кыргызча القيرقيزية
NE नेपाली النيبالية
YO Yorùbá اليوروبا
LT Lietuvių الليتوانية
PRS دری الدرية
SR Српски الصربية
SO Soomaali الصومالية
TG тоҷикӣ الطاجيكية
RW Kinyarwanda الكينياروندا
RO Română الرومانية
HU Magyar المجرية
CS Čeština التشيكية
MOS Moore الموري
MG Malagasy المالاجاشية
IT Italiano الإيطالية
OM Oromoo الأورومو
KN ಕನ್ನಡ الكانادا
WO Wolof الولوف
AZ Azərbaycan الأذربيجانية
UZ O‘zbek الأوزبكية
UK Українська الأوكرانية
KA ქართული الجورجية
MK Македонски المقدونية
KM ភាសាខ្មែរ الخميرية
PA ਪੰਜਾਬੀ البنجابية
MR मराठी الماراثية
KMR Kurmancî الكرمنجية
زمرہ جات (کٹیگریز)
  • . .
  • . .
  • .