میں جس بات سے تمہیں منع کروں اس سے اجتناب کرو اور جس بات کا حکم دوں اسے مقدور بھر سر انجام دو۔ تم سے پہلی امتوں کی ہلاکت کا سبب ان کا بہت زیادہ سوالات کرنا اور ان کی اپنے انبیاء کی مخالفت کرنا بنا تھا۔
کیا آپ کو معلوم نہیں کہ اسلام اپنے سے پہلے تمام گناہ کو منہدم کرتا ہے اور ہجرت اپنے سے پہلے کے گناہ کو ختم کردیتی ہے اور حج اپنے سے پہلے کے گناہ کو ختم کرتا ہے؟۔
کوئی عورت دو دن کی مسافت کے سفر پر اس وقت تک نہ نکلے، جب تک اس کے ساتھ اس کا شوہر یا اس کا کوئی محرم نہ ہو
ہم پر دنیا وسیع کردی گئی، ہمیں تو ڈر ہے کہ کہیں دنيا ہی ميں ہماری نيکيوں کا جلدی بدلہ تو نہيں دے ديا گيا۔
بے شک زمانہ پلٹ کر اسی حالت پر آگیا جیسا اس دن تھا جس دن اللہ تعالیٰ نے آسمانوں اور زمین کو پیدا فرمایا۔ سال بارہ مہینوں کا ہوتا ہے جن میں سے چار حرمت والے ہیں تین مسلسل مہینے؛ ذوالقعدہ، ذوالحجہ، محرّم، اور (چوتھا) رجب مُضَر ہے۔
ہم لوگ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم کے پاس رقعوں سے قرآن جمع کیا کرتے تھے۔ تو ایک بار آپ نے کہا : "شام کے لیے سعادت و خوشخبری ہے"۔
میں عید کے دن رسول اللہ ﷺ کے ساتھ نماز میں حاضر ہوا آپ ﷺ نے خطبہ سے پہلے اذان اور تکبیر کے بغیر نماز سے ابتدا کی پھر بلال رضی اللہ عنہ کا سہارا لے کر کھڑے ہوئے اللہ کے تقویٰ کا حکم دیا اس کی اطاعت پر ابھارا، لوگوں کو نصیحت کی اور انھیں (دین کی بنیادی باتوں کی) یاد دہانی کرائی۔
ہم سے پہلے مال غنیمت کسی کے لیے حلال نہ تھا۔ پھر اللہ تعالی نے ہماری کمزوری اور عاجزی کو دیکھتے ہوئے اسے ہمارے لیے جائز کر دیا۔
بنی اسرائیل میں تین شخص تھے، ایک کوڑھی، ایک گنجا اور ایک نابینا۔ اللہ تعالیٰ نے ان تینوں بندوں کو آزمانا چاہا، چنانچہ اللہ تبارک وتعالیٰ نے اُن کے پاس ایک فرشتہ بھیجا۔
تین شخص کہیں باہر جا رہے تھے کہ اچانک بارش ہونے لگی، انہوں نے ایک پہاڑ کے غار میں جا کر پناہ لی، اتفاق سے پہاڑ کی ایک چٹان اوپر سے لڑھک آئی۔
زید بن ثابت انصاری رضی اللہ عنہ- اور وہ قرآن لکھنے والوں میں سے تھے- کہتے ہیں، جب یمامہ کی لڑائی میں بہت سے صحابہ مارے گئے، تو ابوبکر رضی اللہ عنہ نے مجھے بلایا، اس وقت عمر رضی اللہ عنہ بھی ان کے پاس موجود تھے۔
”بنی اسرائیل کی رہ نمائی انبیا کرتے تھے۔ جب ایک نبی فوت ہو جاتا تو اس کا جانشین دوسرا نبی بن جاتا۔ مگر میرے بعد کوئی نبی نہیں ہوگا۔ البتہ میرے بعد خلفا ہوں گے اور کثرت سے ہوں گے“