1. مرکزی
  2. زمرہ جات (کٹیگریز)

حدیث ایک شخص نے وضو کیا اور پیر میں ناخن کے برابر جگہ سوکھی چھوڑ دی۔ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے اسے دیکھا تو فرمایا : "جاؤ اور اچھی طرح وضو کر لو۔" لہذا وہ واپس گیا اور پھر سے نماز پڑھی۔

عَنْ جَابِرٍ رضي الله عنه قال: أَخْبَرَنِي عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ:

أَنَّ رَجُلًا تَوَضَّأَ فَتَرَكَ مَوْضِعَ ظُفُرٍ عَلَى قَدَمِهِ فَأَبْصَرَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: «ارْجِعْ فَأَحْسِنْ وُضُوءَكَ» فَرَجَعَ، ثُمَّ صَلَّى.

جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ مجھے عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے بتا یا:
ایک شخص نے وضو کیا اور پیر میں ناخن کے برابر جگہ سوکھی چھوڑ دی۔ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے اسے دیکھا تو فرمایا : "جاؤ اور اچھی طرح وضو کر لو۔" لہذا وہ واپس گیا اور پھر سے نماز پڑھی۔

صحيح بشواهده رواه مسلم صحيح مسلم - 243

شرح

عمر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے دیکھا کہ ایک شخص پورا وضو کر چکا ہے، لیکن اس کے قدم پر ایک ناخن کے برابر جگہ سوکھی رہ گئی ہے، جہاں وضو کا پانی پہنچا نہیں ہے۔ لہذا آپ نے وضو میں رہ جانے والی کمی کی جانب اشارہ کرتے ہوئے اس سے کہا کہ واپس جاؤ، وضو اچھی طرح اور مکمل انداز میں کرو اور سارے اعضائے وضو تک پانی پہنچاؤ۔ چنانچہ وہ شخص واپس گیا، مکمل وضو کیا اور اس کے بعد نماز پڑھی۔

حدیث کے بعض فوائد

  1. اچھے کام کا حکم دینے اور جاہل و غافل کی رہ نمائی کرنے میں جلدی کرنے کی ضرورت۔ خاص طور سے اس وقت، جب منکر کے نتیجے میں انسان کی عبادت ضائع ہو جائے۔
  2. وضو کے اعضا کو پورا پورا دھونا ضروری ہے۔ جس نے کسی عضو کے تھوڑے سے حصے کو بھی سوکھا رہنے دیا، اس کا وضو نہیں ہوگا اور زیادہ وقت گزر جانے پر وضو از سر نو دوبارہ کرنا پڑے گا۔
  3. اچھی طرح وضو کرنے کی مشروعیت۔ اچھی طرح وضو کرنے کا مطلب یہ ہے کہ اعضا کو مکمل اور پورے طور اسی طرح دھویا جائے، جس طرح شریعت نے حکم دیا ہے۔
  4. دونوں قدم اعضائے وضو میں داخل ہیں۔ ان کا مسح کر لینا کافی نہيں ہے۔ دھونا ضروری ہے۔
  5. وضو کے اعضا کو اس طرح لگاتار دھونا چاہیے کہ ہر عضو کو اس سے پہلے والے عضو کے خشک ہونے سے پہلے دھو لیا جائے۔
  6. عدم واقفیت یا بھول جانے کی وجہ سے کوئی واجب ساقط نہیں ہوتا۔ بس اتنا ہوتا ہے کہ انسان پر گناہ نہیں ہوتا۔ چنانچہ ہم دیکھتے ہیں کہ اس شخص نے عدم واقفیت کی بنا پر مکمل وضو نہیں کیا، تو آپ نے اس سے واجب یعنی وضو کو ساقط نہیں کیا، بلکہ اسے دوبارہ وضو کرلینے کا حکم دیا۔

تراجم کا مشاہدہ

58 زبان
EN English الإنجليزية
ES Español الإسبانية
ID Indonesia الإندونيسية
UG ئۇيغۇرچە الأيغورية
BN বাংলা البنغالية
FR Français الفرنسية
TR Türkçe التركية
RU Русский الروسية
BS Bosanski البوسنية
SI සිංහල السنهالية
HI हिन्दी الهندية
ZH 中文 الصينية
FA فارسی الفارسية
VI Tiếng Việt الفيتنامية
TL Tagalog تجالوج
KU Kurdî الكردية
HA Hausa الهوسا
PT Português البرتغالية
ML മലയാളം المليالم
TE తెలుగు التلغو
SW Kiswahili السواحيلية
MY မြန်မာ البورمية
TH ไทย التايلندية
DE Deutsch الألمانية
PS پښتو بشتو
AS অসমীয়া الأسامية
SQ Shqip الألبانية
SV Svenska السويدية
AM አማርኛ الأمهرية
NL Nederlands الهولندية
GU ગુજરાતી الغوجاراتية
KY Кыргызча القيرقيزية
NE नेपाली النيبالية
YO Yorùbá اليوروبا
LT Lietuvių الليتوانية
PRS دری الدرية
SR Српски الصربية
SO Soomaali الصومالية
TG тоҷикӣ الطاجيكية
RW Kinyarwanda الكينياروندا
RO Română الرومانية
HU Magyar المجرية
CS Čeština التشيكية
MOS Moore الموري
MG Malagasy المالاجاشية
IT Italiano الإيطالية
OM Oromoo الأورومو
KN ಕನ್ನಡ الكانادا
WO Wolof الولوف
AZ Azərbaycan الأذربيجانية
UZ O‘zbek الأوزبكية
UK Українська الأوكرانية
KA ქართული الجورجية
MK Македонски المقدونية
KM ភាសាខ្មែរ الخميرية
PA ਪੰਜਾਬੀ البنجابية
MR मराठी الماراثية
KMR Kurmancî الكرمنجية
زمرہ جات (کٹیگریز)
  • . . .