1. مرکزی
  2. زمرہ جات (کٹیگریز)

حدیث آنے والے وقت میں ترجیح دیے جانے کے معاملے اور ایسی باتیں سامنے آئیں گی، جو تمھیں بری لگیں گی۔" صحابہ نے کہا : اے اللہ کے رسول! تو آپ ہمیں کیا حکم دیتے ہيں؟ فرمایا : "تم اپنی ذمے داریاں ادا کرتے رہنا اور اپنا حق اللہ سے مانگنا۔

عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ رضي الله عنه عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:

«سَتَكُونُ أَثَرَةٌ وَأُمُورٌ تُنْكِرُونَهَا» قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ فَمَا تَأْمُرُنَا؟ قَالَ: «تُؤَدُّونَ الحَقَّ الَّذِي عَلَيْكُمْ، وَتَسْأَلُونَ اللَّهَ الَّذِي لَكُمْ».

عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا:
"آنے والے وقت میں ترجیح دیے جانے کے معاملے اور ایسی باتیں سامنے آئیں گی، جو تمھیں بری لگیں گی۔" صحابہ نے کہا : اے اللہ کے رسول! تو آپ ہمیں کیا حکم دیتے ہيں؟ فرمایا : "تم اپنی ذمے داریاں ادا کرتے رہنا اور اپنا حق اللہ سے مانگنا۔"

صحيح متفق عليه صحيح البخاري - 3603

شرح

اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے بتایا کہ آنے والے دنوں میں مسلمانوں کے حکمراں ایسے لوگ بن جائیں گے، جو مسلمانوں کے اموال وغیرہ کو اپنی مرضی کے مطابق خرچ کریں گے اور مسلمانوں کو ان کے حقوق سے محروم رکھیں گے۔ ان کی جانب سے دین سے متعلق کئی ایسی چیزیں سامنے آئيں گی، جو قابل نکیر ہوں گی۔ چنانچہ صحابہ رضی اللہ عنہم نے پوچھا : ایسی حالت میں ان کو کیا کرنا چاہیے؟ آپ نے بتایا کہ ان کا عام مسلمانوں کے اموال کو ہڑپ لینا تم کو اس بات پر نہ ابھارے کہ ان کی بات سننے اور ماننے کی جو ذمہ داری تمہارے اوپر عائد ہوتی ہے‘ اس کو ادا کرنے سے دست بردار ہو جاؤ۔ تم صبر سے کام لینا، ان کی بات سننا اور ماننا، ان سے الجھنے کی کوشش مت کرنا، اپنا حق اللہ سے مانگنا اور اس بات کی دعا کرنا کہ اللہ ان کی اصلاح فرمائے اور ان کے شر اور ظلم سے تم کو بچائے۔

حدیث کے بعض فوائد

  1. یہ حدیث محمد صلی اللہ علیہ و سلم کے اللہ کے نبی ہونے کی ایک اہم دلیل ہے، کیوں اس میں آپ نے اپنی امت کے اندر ایک بات پیش آنے کی بات کہی اور وہ بات بالکل اسی طرح پیش آبھی گئی۔
  2. جس شخص پر کوئی مصیبت آنے والی ہو، اسے اس مصیبت کے بارے میں پہلے ہی بتا دینا جائز ہے، تاکہ وہ اس کے لیے تیار رہے اور جب مصیبت آئے تو صبر سے کام لے اور اسے ثواب کا ذریعہ سمجھے۔
  3. کتاب و سنت پر مضبوطی سے قائم رہنا فتنے و اختلاف سے نکلنے کا راستہ ہے۔
  4. حکمرانوں کی باتوں کو بھلے طریقے سے سننے اور ماننے اور ان کے خلاف بغاوت نہ کرنے کی ترغیب، اگرچہ ان کی جانب سے کچھ ظلم بھی ہو رہا ہو۔
  5. فتنوں کے وقت سنت کى اتباع کرنا اور حکمت سے کام لینا چاہیے۔
  6. انسان کو اپنے اوپر واجب حقوق کو ادا کرنا چاہیے، اگرچہ اس کے اوپر تھوڑا بہت ظلم ہی کیوں نہ ہو رہا ہو۔
  7. اس حدیث سے اس شرعی قاعدے کی دلیل ملتی ہے کہ جب دو برائیاں سامنے ہوں، تو ان میں سے زیادہ ہلکی برائی کا انتخاب کیا جائے گا۔ یا پھر جب دو نقصان دہ چیزیں سامنے ہوں، تو ان میں سے کم نقصان دہ چیز کا انتخاب کیا جائے گا۔

تراجم کا مشاہدہ

58 زبان
EN English الإنجليزية
ES Español الإسبانية
ID Indonesia الإندونيسية
UG ئۇيغۇرچە الأيغورية
BN বাংলা البنغالية
FR Français الفرنسية
TR Türkçe التركية
RU Русский الروسية
BS Bosanski البوسنية
SI සිංහල السنهالية
HI हिन्दी الهندية
ZH 中文 الصينية
FA فارسی الفارسية
VI Tiếng Việt الفيتنامية
TL Tagalog تجالوج
KU Kurdî الكردية
HA Hausa الهوسا
PT Português البرتغالية
ML മലയാളം المليالم
TE తెలుగు التلغو
SW Kiswahili السواحيلية
TA தமிழ் التاميلية
MY မြန်မာ البورمية
TH ไทย التايلندية
DE Deutsch الألمانية
PS پښتو بشتو
AS অসমীয়া الأسامية
SQ Shqip الألبانية
SV Svenska السويدية
AM አማርኛ الأمهرية
NL Nederlands الهولندية
GU ગુજરાતી الغوجاراتية
KY Кыргызча القيرقيزية
NE नेपाली النيبالية
YO Yorùbá اليوروبا
LT Lietuvių الليتوانية
PRS دری الدرية
SR Српски الصربية
SO Soomaali الصومالية
TG тоҷикӣ الطاجيكية
RW Kinyarwanda الكينياروندا
RO Română الرومانية
HU Magyar المجرية
CS Čeština التشيكية
MOS Moore الموري
MG Malagasy المالاجاشية
OM Oromoo الأورومو
KN ಕನ್ನಡ الكانادا
WO Wolof الولوف
AZ Azərbaycan الأذربيجانية
UZ O‘zbek الأوزبكية
UK Українська الأوكرانية
KA ქართული الجورجية
MK Македонски المقدونية
KM ភាសាខ្មែរ الخميرية
PA ਪੰਜਾਬੀ البنجابية
MR मराठी الماراثية
KMR Kurmancî الكرمنجية
زمرہ جات (کٹیگریز)
  • . .