حدیث کی فہرست

دین خیر خواہی کا نام ہے
عربي الإنجليزية الأوردية
آنے والے وقت میں ترجیح دیے جانے کے معاملے اور ایسی باتیں سامنے آئیں گی، جو تمھیں بری لگیں گی۔" صحابہ نے کہا : اے اللہ کے رسول! تو آپ ہمیں کیا حکم دیتے ہيں؟ فرمایا : "تم اپنی ذمے داریاں ادا کرتے رہنا اور اپنا حق اللہ سے مانگنا۔
عربي الإنجليزية الأوردية
اے اللہ! جو شخص بهى میری امت کے کسی معاملے کا ذمہ دار بنے، پھر وہ ان کو مشقت ميں ڈالے تو تو بھی اس پر سختی فرما، اور جو میری امت کے کسی معاملے کا ذمہ دار بنےِ، پھر وہ ان کے ساتھ نرمی کرے تو تو بھی اس کے ساتھ نرمی فرما۔
عربي الإنجليزية الأوردية
”تم میں سے ہر آدمی ذمہ دار ہے اور ہر آدمی اپنے ماتحتوں کے بارے میں جواب دہ ہے؛
عربي الإنجليزية الأوردية
ہمارے پاس موجود سونے کے ایک ٹکڑے کا خیال میرے ذہن میں آیا۔ مجھے یہ برا لگا کہ میری توجہ اس کی طرف لگی رہے۔ چنانچہ میں نے اسے بانٹ دینے کا حکم دےدیا۔
عربي الإنجليزية الأوردية
اللہ کی قسم! ہم کسی ایسے شخص کو اس کام کی ذمے داری نہیں دیتے، جو اس کو طلب کرے اور نہ ہی ایسے شخص کو جو اس کا خواہش مند ہو۔
عربي الإنجليزية الأوردية
میرے بیٹے ! میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا: بدترین راعی، سخت گیر اور ظلم کرنے والا ہوتا ہے، تم اس سے بچنا کہ تم ان میں سے ہو۔
عربي الإنجليزية الأوردية
میں آپ ﷺ کے ساتھ چل رہا تھا اور آپ ﷺ کے جسم پر ایک موٹے کنارے والی نجرانی چادر تھی۔ اتنے میں ایک دیہاتی آپ کے پاس آیا اور اس نے آپ کی چادر بڑے زور سے کھینچی۔
عربي الإنجليزية الأوردية
نبی ﷺ نے قبیلۂ ازد کے ایک شخص کو، جنھیں ابن لتبیہ کہا جاتا تھا، زکاۃ کی وصولی کے لیے عامل مقرر کیا۔ جب وہ (وصول کر کے) آئے، تو کہنے لگے: یہ مال تمھارے لیے ہے (یعنی مسلمانوں کا) اور یہ مجھے ہدیہ میں ملا ہے۔ رسول اللہ ﷺ منبر پر کھڑے ہوئے اور اللہ کی حمد و ثنا بیان کی
عربي الإنجليزية الأوردية
رسول الله ﷺ سفر کے دوران پیچھے رہتے، کمزور (کی سواری کو) کو آگے ہانکتے، (اگر وہ پیدل ہوتا تو اسے) اپنے پیچھے سوار کرتے اور اس کے لیے دعا کرتے۔
عربي الإنجليزية الأوردية
جسے اللہ عز وجل مسلمانوں کے کسی معاملے کا والی بنائے اور وہ ان کی حاجت، ضرورت اور فقر سے نظر بچاکے رہے، تو اللہ اس کی ضرورت، حاجت اور فقر سے نظر بچا لے گا
عربي الإنجليزية الأوردية
اگر بحرین سے مال آگیا تو میں تمہیں اتنا‘ اتنا اور اتنا دوں گا۔
عربي الإنجليزية الأوردية
امیر المؤ منین! اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی ﷺ سے فرمایا: {خُذِ الْعَفْوَ وَأْمُرْ بِالْعُرْفِ وَأَعْرِضْ عَنِ الْجَاهِلِينَ}۔ اور یہ جاہلوں میں سے ہیں۔
عربي الإنجليزية الأوردية
رسول اللہ ﷺ کے زمانے میں لوگوں کا وحی کے ذریعہ مواخذہ ہو جاتا تھا۔ لیکن اب چونکہ وحی کا سلسلہ ختم ہو گیا اس لیے ہم اب تمہارے ظاہری اعمال کے مطابق تمہارا مواخذہ کریں گے۔ جو کوئی ظاہر میں ہمارے سامنے خیر کرے گا، ہم اسے امن دیں گے اور اُسے اپنے قریب کریں گے اور اس کے باطن سے ہمیں کوئی سروکار نہ ہو گا۔ اس کے باطن کا حساب تو اللہ تعالیٰ کرے گا اور جو کوئی ہمارے سامنے ظاہر میں برائی کرے گا تو ہم بھی اسے امن نہیں دیں گے اور نہ ہم اس کی تصدیق کریں گے۔
عربي الإنجليزية الأوردية
اہل کوفہ نے سعد یعنی ابن ابی وقاص رضی اللہ عنہ کی شکایت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے کی تو عمر رضی اللہ عنہ نے ان کو معزول کر کے عمار رضی اللہ عنہ کو کوفہ کا حاکم بنایا۔
عربي الإنجليزية الأوردية
عمر بن الخطاب رضی اللہ عنہ نے مہاجرین اولین کے لئے چار ہزار وظیفہ مقرر کیا۔
عربي الإنجليزية الأوردية
بلاشبہ اللہ تعالیٰ نے محمد ﷺ کو حق کے ساتھ مبعوث کیا اور آپ پر کتاب نازل فرمائی۔ اللہ نے آپ پر جو نازل کیا اس میں رجم کی آیت بھی تھی، ہم نے اسے پڑھا، یاد کیا اور سمجھا، اس لیے رسول اللہ ﷺ نے بھی رجم کی سزا دی اور آپ ﷺ کےبعد ہم نے بھی رجم کی سزا دی۔
عربي الإنجليزية الأوردية