+ -

عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ رضي الله عنه عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:
«سَتَكُونُ أَثَرَةٌ وَأُمُورٌ تُنْكِرُونَهَا» قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ فَمَا تَأْمُرُنَا؟ قَالَ: «تُؤَدُّونَ الحَقَّ الَّذِي عَلَيْكُمْ، وَتَسْأَلُونَ اللَّهَ الَّذِي لَكُمْ».

[صحيح] - [متفق عليه]
المزيــد ...

عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا:
"آنے والے وقت میں ترجیح دیے جانے کے معاملے اور ایسی باتیں سامنے آئیں گی، جو تمھیں بری لگیں گی۔" صحابہ نے کہا : اے اللہ کے رسول! تو آپ ہمیں کیا حکم دیتے ہيں؟ فرمایا : "تم اپنی ذمے داریاں ادا کرتے رہنا اور اپنا حق اللہ سے مانگنا۔"

صحیح - متفق علیہ

شرح

اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے بتایا کہ آنے والے دنوں میں مسلمانوں کے حکمراں ایسے لوگ بن جائیں گے، جو مسلمانوں کے اموال وغیرہ کو اپنی مرضی کے مطابق خرچ کریں گے اور مسلمانوں کو ان کے حقوق سے محروم رکھیں گے۔ ان کی جانب سے دین سے متعلق کئی ایسی چیزیں سامنے آئيں گی، جو قابل نکیر ہوں گی۔ چنانچہ صحابہ رضی اللہ عنہم نے پوچھا : ایسی حالت میں ان کو کیا کرنا چاہیے؟ آپ نے بتایا کہ ان کا عام مسلمانوں کے اموال کو ہڑپ لینا تم کو اس بات پر نہ ابھارے کہ ان کی بات سننے اور ماننے کی جو ذمہ داری تمہارے اوپر عائد ہوتی ہے‘ اس کو ادا کرنے سے دست بردار ہو جاؤ۔ تم صبر سے کام لینا، ان کی بات سننا اور ماننا، ان سے الجھنے کی کوشش مت کرنا، اپنا حق اللہ سے مانگنا اور اس بات کی دعا کرنا کہ اللہ ان کی اصلاح فرمائے اور ان کے شر اور ظلم سے تم کو بچائے۔

ترجمہ: انگریزی زبان اسپینی انڈونیشیائی زبان ایغور بنگالی زبان فرانسیسی زبان ترکی زبان روسی زبان بوسنیائی زبان سنہالی ہندوستانی چینی زبان فارسی زبان ویتنامی تجالوج کردی ہاؤسا پرتگالی سواحلی تھائی پشتو آسامی السويدية الأمهرية الغوجاراتية الدرية
ترجمہ دیکھیں

حدیث کے کچھ فوائد

  1. یہ حدیث محمد صلی اللہ علیہ و سلم کے اللہ کے نبی ہونے کی ایک اہم دلیل ہے، کیوں اس میں آپ نے اپنی امت کے اندر ایک بات پیش آنے کی بات کہی اور وہ بات بالکل اسی طرح پیش آبھی گئی۔
  2. جس شخص پر کوئی مصیبت آنے والی ہو، اسے اس مصیبت کے بارے میں پہلے ہی بتا دینا جائز ہے، تاکہ وہ اس کے لیے تیار رہے اور جب مصیبت آئے تو صبر سے کام لے اور اسے ثواب کا ذریعہ سمجھے۔
  3. کتاب و سنت پر مضبوطی سے قائم رہنا فتنے و اختلاف سے نکلنے کا راستہ ہے۔
  4. حکمرانوں کی باتوں کو بھلے طریقے سے سننے اور ماننے اور ان کے خلاف بغاوت نہ کرنے کی ترغیب، اگرچہ ان کی جانب سے کچھ ظلم بھی ہو رہا ہو۔
  5. فتنوں کے وقت سنت کى اتباع کرنا اور حکمت سے کام لینا چاہیے۔
  6. انسان کو اپنے اوپر واجب حقوق کو ادا کرنا چاہیے، اگرچہ اس کے اوپر تھوڑا بہت ظلم ہی کیوں نہ ہو رہا ہو۔
  7. اس حدیث سے اس شرعی قاعدے کی دلیل ملتی ہے کہ جب دو برائیاں سامنے ہوں، تو ان میں سے زیادہ ہلکی برائی کا انتخاب کیا جائے گا۔ یا پھر جب دو نقصان دہ چیزیں سامنے ہوں، تو ان میں سے کم نقصان دہ چیز کا انتخاب کیا جائے گا۔
مزید ۔ ۔ ۔