عن أبي سعيد الخدري رضي الله عنه أن رسول الله -صلى الله وعليه وسلم- قال: «لا ضَرَرَ ولا ضِرَارَ».
[صحيح] - [رواه ابن ماجه من حديث أبي سعيد الخدري -رضي الله عنه- ومن حديث عبادة بن الصامت -رضي الله عنه-. ورواه أحمد من حديث عبادة بن الصامت -رضي الله عنه-. ورواه مالك من حديث عمرو بن يحي المازني مرسلا]
المزيــد ...

ابو سعيد خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمايا: ”نہ (ابتداءً) کسی کو نقصان پہنچانا جائز ہے اور نہ بدلے کے طور پر نقصان پہنچانا‘‘۔
صحیح - اسے ابنِ ماجہ نے روایت کیا ہے۔

شرح

یہ حدیث اسلامی احکام، اخلاقی قواعد اور لوگوں سے باہمی تعامل کا ایک ضابطہ فراہم کرتی ہے جو یہ ہے کہ لوگوں سے ہر قسم کے نقصان کو دور رکھا جائے۔ نقصان دینا حرام ہے اور اس کا دور کرنا واجب ہے۔ نقصان کو نقصان دے کر نہیں زائل کیا جا سکتا۔ نقصان دہ اشیاء حرام ہیں۔

ترجمہ: انگریزی زبان فرانسیسی زبان اسپینی ترکی زبان انڈونیشیائی زبان بوسنیائی زبان روسی زبان بنگالی زبان چینی زبان فارسی زبان تجالوج ہندوستانی سنہالی ایغور کردی ہاؤسا پرتگالی مليالم تلگو سواحلی تمل بورمی جرمنی جاپانی
ترجمہ دیکھیں

فوائد

  1. رسولﷺجوامع الکلم سے نوازے گئے تھے۔ اس کی بہت ساری دلیلیں ہیں۔ یہ آپﷺ کی خصوصیات میں سے ہے۔
  2. ضرر کو زائل کیا جائے گا۔
  3. مثل سے زیادہ بدلہ دینے کی ممانعت۔
  4. اللہ نے اپنے بندوں کو کسی نقصان دہ چیز کا حکم نہیں دیا ہے۔
  5. نفی کا نہی کے معنیٰ میں استعمال ہونا۔
  6. قول فعل یا ترک کے ذریعے نقصان پہنچاناحرام ہے۔
  7. دین اسلام سلامتی کا دین ہے۔
  8. یہ حدیث شریعت کے قاعدوں میں سے ایک قاعدہ ہے۔ وہ یہ کہ شریعت نقصان پہنچانے کو درست نہیں سمجھتی اور نقصان پہنچانے کا انکار کرتی ہے۔
  9. ’’ضرر‘‘اور ’’ضرار‘‘ کے درمیان فرق ہے یا نہیں؟ کچھ علما نے کہا ہے کہ یہ دونوں لفظ ایک ہی معنیٰ میں ہیں اور بطور تاکید آئے ہیں، جب کہ مشہور یہ ہے کہ ان دونوں کے درمیان فرق ہے۔ پھر کچھ لوگوں کا کہنا ہے کہ ضرر اسم ہے اور ضرار فعل ہے۔ اس اعتبار سےاس کے معنی یہ ہوں گے کہ ضرر بذات خود شریعت میں منع ہے اور اسی طرح کسی کو ناحق نقصان پہنچانا بھی منع ہے۔ ایک قول یہ بھی ہے کہ ضرر اپنے فائدہ کے لیے دوسرے کو نقصان پہنچانا ہے اور ضرار اپنے کسی فائدہ کے بغیر دوسرے کو نقصان پہنچانا ہے۔ جیسے کسی شخص کا اس چیز سے منع کرنا، جو اسے نقصان نہ پہنچائے اور اس سے روکے گئے شخص کو ضرر پہنچے۔ اسی قول کو ایک جماعت نے راجح قراردیا ہے، جس میں ابن عبد البر اور ابن صلاح جیسے لوک شامل ہیں۔ ایک قول یہ بھی ہے کہ ضرر اس شخص کو نقصان پہنچانا ہے جو اس کا نقصان نہ کرے اور ضرار ایسے شخص کو نقصان پہنچانا ہے، جو اسے ناحق نقصان پہنچائے۔ بہرحال جو بھی ہو، اتنا طے ہے کہ اللہ کے نبیﷺ نےناحق نقصان پہنچانے اور بدلہ کے طورپر نقصان پہنچانے کی نفی فرمائی ہے۔