اصولِ فقہ

18حدیث کی فہرست 10فرعی اقسام

حدیث کی فہرست 18

جس چیز میں تمہیں شک ہو، اسے چھوڑ کر وہ چیز اختیار کر لو جس میں تمہیں کوئی شک نہ ہو۔
نہ (ابتداءً) کسی کو نقصان پہنچانا جائز ہے اور نہ بدلے کے طور پر نقصان پہنچانا جائز ہے۔
جب تک میں تمہیں چھوڑے رکھوں تم بھی مجھے چھوڑے رکھو (اور بے جا سوالات نہ کرو)؛ کیونکہ تم سے پہلے کی امتیں (غیر ضروری) سوالات کرنے اور اپنے انبیا سے اختلاف كرنے کی وجہ سے تباہ ہو گئیں۔
”یقیناً حلال واضح ہے اور حرام بھی واضح ہے
”نہ (ابتداءً) کسی کو نقصان پہنچانا جائز ہے اور نہ بدلے کے طور پر نقصان پہنچانا۔ جو دوسرے کا نقصان کرے گا، اللہ اس کا نقصان کرے گا اور جو دوسرے کو مشقت میں ڈالے گا، اللہ اسے مشقت میں ڈالے گا‘‘۔
میں جس بات سے تمہیں منع کروں اس سے اجتناب کرو اور جس بات کا حکم دوں اسے مقدور بھر سر انجام دو۔ تم سے پہلی امتوں کی ہلاکت کا سبب ان کا بہت زیادہ سوالات کرنا اور ان کی اپنے انبیاء کی مخالفت کرنا بنا تھا۔
ان لوگوں کا خوف کیسا ہے؟ محکم (واضح) نصوص سن کر ان پر رقت طاری ہو جاتی ہے اور جب کوئی متشابہ نصوص سنتے ہیں تو ہلاک ہو جاتے ہیں (یعنی انکار کر بیٹھتے ہیں )
جو چيز تمہیں شک میں ڈالے اسے چھوڑ کر وہ اختیار کرو جو شک میں نہ ڈالے۔ کیوں کہ سچائی اطمینان ہے اور جھوٹ شک و شبہ ہے۔
تمہارے لئے دو مردار اور دو قسم کے خون حلال کئے گئے ہیں۔ رہے دو مردار تو وہ مچھلی اور ٹڈی ہیں، جب کہ دو قسم کے خون جگر اور تلی ہیں۔
اللہ تعالی یہ پسند کرتا ہے کہ اس کی رخصتوں پر عمل کیا جائے جس طرح اسے یہ پسند ہے کہ اس کے احکام واوامر پر عمل کیا جائے"۔
جب تم میں سے کسی کو اپنے پیٹ میں کچھ محسوس ہو اور اسے شبہ ہو جائے کہ اس میں سے کچھ نکلا ہے یا نہیں، تو ہرگز مسجد سے نہ نکلے یہاں تک کہ آواز سنے یا بو محسوس کر لے"۔
ہمیں جنازہ کے ساتھ چلنے سے روکا گیا ہے، لیکن ہم پر اس میں سختی نہ کی گئی۔
یا رسول اللہ! اگر کوئی شخص آ کر مجھ سے میرا مال چھیننا چاہے (تو مجھے کیا کرنا چاہیے)؟ آپ ﷺ نے فرمایا کہ اسے اپنا مال نہ دو۔
قرآن کے اندر یہ بھی اتارا گیا تھا کہ (دس بار دودھ پلانا ثابت اور متحقق ہونے پر حرمت ثابت ہوگی), پھر اسے منسوخ کرکے پانچ بار کی بات اتاری گئی۔ جب اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات ہوئی، تو اسے قرآن کے ساتھ پڑھا جا رہا تھا
”یقیناً تم میں سب سے زیادہ اللہ سے ڈرنے والا اور اسے جاننے والا میں ہی ہوں۔“
اے اللہ کے رسول ! آپ کی اس مرد کے بارے میں کیا رائے ہے جو بیوی سے جلدی ہٹا دیا جائے ، حالانکہ اس نے منی خارج نہ کی ہو؟ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: پانی، صرف پانی سے ہے۔