عَنْ عَائِشَةَ أُمِّ المُؤْمِنينَ رَضِيَ اللهُ عَنْها قَالَتْ:
كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا أَمَرَهُمْ أَمَرَهُمْ مِنَ الأَعْمَالِ بِمَا يُطِيقُونَ، قَالُوا: إِنَّا لَسْنَا كَهَيْئَتِكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّ اللَّهَ قَدْ غَفَرَ لَكَ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِكَ وَمَا تَأَخَّرَ، فَيَغْضَبُ حَتَّى يُعْرَفَ الغَضَبُ فِي وَجْهِهِ، ثُمَّ يَقُولُ: «إِنَّ أَتْقَاكُمْ وَأَعْلَمَكُمْ بِاللَّهِ أَنَا».
[صحيح] - [رواه البخاري] - [صحيح البخاري: 20]
المزيــد ...
امّ المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، وہ کہتی ہيں:
رسول اللہ ﷺ جب انہیں اعمال کا حکم دیتے تو انہی کا حکم دیتے جن کی وہ طاقت رکھتے تھے۔ صحابہ عرض کرتے: ”اے اللہ کے رسول! ہم آپ کی طرح نہیں ہیں، اللہ تعالیٰ نے تو آپ کے اگلے پچھلے سب گناہ معاف فرما دیے ہیں“۔ اس پر آپ ﷺ غضب ناک ہو جاتے یہاں تک کہ غصہ آپ کے چہرۂ مبارک پر نمایاں ہو جاتا، پھر آپ ﷺ فرماتے: ”یقیناً تم میں سب سے زیادہ اللہ سے ڈرنے والا اور اسے جاننے والا میں ہی ہوں۔“
[صحيح] - [رواه البخاري] - [صحيح البخاري - 20]
ام المومنین عائشہ رضی اللہ عنہا بتاتی ہیں کہ نبی ﷺ جب لوگوں کو کسی عمل کا حکم دیتے تو انہیں اسی کام کا حکم دیتے جو ان کے لیے آسان ہوتا، نہ کہ مشکل کام کا؛ اس اندیشے سے کہ کہیں وہ اس پر ہمیشگی اختیار کرنے سے عاجز نہ ہو جائیں۔ آپ ﷺ خود بھی اسی آسانی پر عمل فرماتے جس کا آپ ﷺ انہیں حکم دیتے تھے۔ لیکن صحابہ نے آپ ﷺ سے مشقت والے کاموں کا مکلف بنانے کی درخواست کی، کیونکہ ان کا خیال تھا کہ آپ ﷺ کے برعکس انہیں بلند درجات حاصل کرنے کے لیے عمل میں مبالغہ کرنے کی ضرورت ہے۔ چنانچہ صحابہ عرض کرتے: یا رسول اللہ! ہمارا حال آپ کے جیسا نہیں ہے، بے شک اللہ نے آپ کے اگلے پچھلے تمام گناہ معاف فرما دیے ہیں۔ اس پر آپ ﷺ غضبناک ہو جاتے یہاں تک کہ غصہ آپ ﷺ کے چہرہ مبارک پر ظاہر ہو جاتا، پھر آپ ﷺ فرماتے: بے شک تم میں سب سے زیادہ متقی اور اللہ کو سب سے زیادہ جاننے والا میں ہی ہوں۔ لہذا وہی کرو جس کا میں تمہیں حکم دیتا ہوں۔