1. مرکزی
  2. زمرہ جات (کٹیگریز)
  3. فقہ و اصولِ فقہ

حدیث ہمیں جنازہ کے ساتھ چلنے سے روکا گیا ہے، لیکن ہم پر اس میں سختی نہ کی گئی۔

عن أُمِّ عَطِيَّةَ الأنصارية رضي الله عنها قالت: «نُهِينَا عن اتِّبَاعِ الجنائز ولم يُعْزَمْ علينا».

ام عطیہ انصاریہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ ہمیں جنازوں کے ساتھ جانے سے منع کیا گیا تاہم اس سلسلے میں سختی نہیں کی گئی۔

صحیح متفق علیہ

شرح

ام عطیہ انصاریہ رضی اللہ عنہا کا شمار جلیل القدر صحابیات میں ہوتا ہے۔ آپ رضی اللہ عنہا بتا رہی ہیں کہ نبی ﷺ نے عورتوں کو جنازوں کے ساتھ جانے سے منع فرمایا کیونکہ ان میں بہت رقت قبلی اور نرمی ہوتی ہے۔ ان کے پاس مردوں کی طرح صبر کرنے اور مصائب کو برداشت کرنے کی طاقت نہیں ہوتی۔ چنانچہ ان کے جنازوں کے ساتھ جانے کی وجہ سے وہ جزع فزع کریں گی اور جنازے کو اٹھانے اور پھر اسے دفنا کر واپس آنے کو دیکھ کر وہ آزمائش میں مبتلا ہوں گی۔ اس کے باوجود ام عطیہ رضی اللہ عنہا نے قرائن سے یہ بات سمجھی کہ نبی ﷺ نے بہت سختی کے ساتھ یہ ممانعت نہیں کی تھی۔ گویا کہ نبی ﷺ اس جانے کو عورتوں کے لیے حرام قرار نہیں دے رہے تھے۔ تاہم صحیح بات یہی ہے کہ عورتوں کا جنازے کے ساتھ جانا ممنوع ہے۔ ابن دقیق العید رحمہ اللہ کہتے ہیں ’’بہت سی ایسی احادیث آئی ہیں جو اس حدیث سے زیادہ سختی کے ساتھ عورتوں کے جنازوں کے ساتھ جانے کی ممانعت پر دلالت کرتی ہیں‘‘۔

تراجم کا مشاہدہ

37 زبان
EN English الإنجليزية
ES Español الإسبانية
ID Indonesia الإندونيسية
UG ئۇيغۇرچە الأيغورية
BN বাংলা البنغالية
TR Türkçe التركية
RU Русский الروسية
BS Bosanski البوسنية
SI සිංහල السنهالية
HI हिन्दी الهندية
ZH 中文 الصينية
FA فارسی الفارسية
VI Tiếng Việt الفيتنامية
TL Tagalog تجالوج
KU Kurdî الكردية
HA Hausa الهوسا
PT Português البرتغالية
ML മലയാളം المليالم
TE తెలుగు التلغو
SW Kiswahili السواحيلية
MY မြန်မာ البورمية
TH ไทย التايلندية
PS پښتو بشتو
AS অসমীয়া الأسامية
AM አማርኛ الأمهرية
NL Nederlands الهولندية
GU ગુજરાતી الغوجاراتية
PRS دری الدرية
SR Српски الصربية
RO Română الرومانية
HU Magyar المجرية
KN ಕನ್ನಡ الكانادا
KA ქართული الجورجية
MK Македонски المقدونية
KM ភាសាខ្មែរ الخميرية
PA ਪੰਜਾਬੀ البنجابية
MR मराठी الماراثية