عن عائشة -رضي الله عنها- قالت: ألا أُحَدِّثكم عنِّي وعن رسول الله -صلى الله عليه وسلم- قلنا: بلى، قال: قالت: لمَّا كانت ليلتي التي كان النبيُّ -صلى الله عليه وسلم- فيها عندي، انقلب فوضعَ رداءه، وخلع نعلَيْه، فوضعهما عند رجليه، وبسط طرفَ إزاره على فراشه، فاضطجع، فلم يلبث إلا رَيْثما ظنَّ أن قد رقدتُ، فأخذ رداءه رُوَيْدًا، وانتعل رُوَيْدًا، وفتح الباب فخرج، ثم أجافه رُوَيْدًا، فجعلتُ دِرْعي في رأسي، واختمرتُ، وتَقنَّعتُ إزاري، ثم انطلقتُ على إثره، حتى جاء البَقِيعَ فقام، فأطال القيام، ثم رفع يديه ثلاث مرات، ثم انحرف فانحرفتُ، فأسرع فأسرعت، فهَرْول فهرولتُ، فأحضر فأحضرت، فسبقتُه فدخلت، فليس إلا أن اضطجعتُ فدخل، فقال: «ما لك؟ يا عائشُ، حَشْيا رابِية» قالت: قلت: لا شيء، قال: «تُخْبِرِينِي أَو لَيُخْبِرَنِّي اللطيفُ الخبير» قالت: قلت: يا رسول الله، بأبي أنت وأمي، فأخبرته، قال: «فأنتِ السواد الذي رأيتُ أمامي؟» قلت: نعم، فلَهَدَني في صدري لَهْدةً أوجعتني، ثم قال: «أظننتِ أنْ يَحِيفَ اللهُ عليك ورسولُه؟» قالت: مَهْما يكتمِ الناسُ يعلمه الله، قال: «نعم، فإن جبريلَ أتاني حين رأيتِ، فناداني، فأخفاه منك، فأجبتُه، فأخفيته منك، ولم يكن يدخل عليك وقد وضعتِ ثيابك، وظننت أن قد رقدت، فكرهتُ أن أوقظَك، وخشيتُ أن تستوحشي، فقال: إنَّ ربَّك يأمركَ أن تأتيَ أهلَ البَقِيع فتستغفر لهم»، قالت: قلت: كيف أقول لهم يا رسول الله؟ قال «قولي: السلامُ على أهل الدِّيار من المؤمنين والمسلمين، ويرحمُ اللهُ المستقدمين منا والمستأخرين، وإنَّا إن شاء الله بكم للاحِقون».
[صحيح.] - [رواه مسلم.]
المزيــد ...

عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا: کیا میں تم لوگوں کو اپنی اور رسول ﷺ کی بیتی سناؤں؟ ہم نے عرض کیا ضرور، فرمایا: نبی ﷺ میرے پاس میری باری کی رات میں تھے کہ آپ ﷺ نے کروٹ لی اور اپنی چادر اوڑھ لی اور جوتے اتارے اور ان کو اپنے پاؤں کے پاس رکھ دیا اور اپنی چادر کا کنارہ اپنے بستر پر بچھایا اور لیٹ گئے اور آپ ﷺ اتنی ہی دیر ٹھہرے کہ آپ ﷺ نے گمان کرلیا کہ میں سو چکی ہوں، آپ ﷺ نے آہستہ سے اپنی چادر لی اور آہستہ سے جوتا پہنا اور دروازہ کھولا اور باہر نکلے پھر اس کو آہستہ سے بند کردیا، (یہ دیکھ کر) میں نے اپنی چادر اپنے سر پر اوڑھی اور اپنا ازار پہنا اور آپ ﷺ کے پیچھے پیچھے چلی یہاں تک کہ آپ ﷺ بقیع (کے قبرستان) میں پہنچے اور کھڑے ہوگئے اور بہت لمبی مدت تک کھڑے رہے، پھر آپ ﷺ نے اپنے دونوں ہاتھوں کو تین بار اٹھایا اور پھر آپ ﷺ واپس لوٹے، میں بھی لوٹی آپ ﷺ تیز چلے تو میں بھی تیز چلنے لگی، آپ ﷺ دوڑے تو میں بھی دوڑی، آپ ﷺ (گھر) پہنچے اور میں بھی پہنچی گئی، میں آپ ﷺ سے سبقت لے گئی اور داخل ہوتے ہی لیٹ گئی، آپ ﷺ تشریف لائے تو فرمایا اے عائشہ! تجھے کیا ہوگیا ہے؟ کہ تمہارا سانس پھول رہا ہے، میں نے کہا: کچھ نہیں۔ آپ ﷺ نے فرمایا تم بتادو ورنہ مجھے لطیف وخبیر (باریک بین اور انتہائی باخبر) یعنی اللہ تعالیٰ خبر دے دے گا، تو میں نے عرض کیا یا رسول اللہ ﷺ! میرے ماں باپ آپ پر قربان! پھر پورے قصہ کی خبر میں نے آپ ﷺ کو دے دی، فرمایا میں اپنے آگے آگے جو سیاہ سی چیز دیکھ رہا تھا وہ تم تھیں؟ میں نے عرض کیا جی ہاں، تو آپ ﷺ نے میرے سینے پر اس طرح مارا کہ مجھے تکلیف ہوئی، پھر فرمایا تم نے خیال کیا کہ اللہ اور اس کا رسول تمہارا حق مار لیں گے؟ فرماتی ہیں کہ لوگ (کسی بات کو) کتنا ہی چھپا لیں اللہ اس کو جانتا ہے۔ آپ ﷺ نے فرمایا کہ جبرائیل (علیہ السلام) میرے پاس آئے، جب تو نے (مجھے جاتے ہوئے) دیکھا، (انہوں نے) مجھے پکارا اور تم سے چھپایا تو میں نے بھی تم سے چھپانے ہی کو پسند کیا اور وہ تمہارے پاس اس لیے نہیں آئے کہ تم نے اپنے کپڑے اتار دیے تھے اور میں نے گمان کیا کہ تم سو چکی ہو اور میں نے تمہیں بیدار کرنا پسند نہ کیا، میں نے یہ خوف کیا کہ تم گھبرا جاؤ گی، جبرائیل نے کہا کہ آپ کے رب نے آپ کو حکم دیا ہے کہ آپ بقیع تشریف لے جائیں اور ان کے لیے مغفرت مانگیں، میں نے عرض کیا اے اللہ کے رسول! میں ان کے حق میں (دعا کے لیے) کیسے کہوں؟ آپ ﷺ نے فرمایا کہو: ”السَّلَامُ عَلَی أَهْلِ الدِّيَارِ مِنْ الْمُؤْمِنِينَ وَالْمُسْلِمِينَ وَيَرْحَمُ اللَّهُ الْمُسْتَقْدِمِينَ مِنَّا وَالْمُسْتَأْخِرِينَ وَإِنَّا إِنْ شَاءَ اللَّهُ بِکُمْ لَلَاحِقُونَ“ یعنی کہو سلام ہو ایمان والے گھر والوں پر اور مسلمانوں پر، اللہ تعالیٰ ہم سے آگے جانے والوں اور بعد میں آنے والوں پر رحم کرے اور ہم ان شاء اللہ ضرور تمہارے ساتھ ملنے والے ہیں۔
صحیح - اسے امام مسلم نے روایت کیا ہے۔

شرح

ام المومنین عائشہ رضی اللہ عنہا اپنا ایک قصہ بیان کر رہی ہیں جو رسول ﷺ کے ساتھ پیش آیا ،یہ واقعہ اس رات کا ہے جب ان کے یہاں آپ ﷺ کی باری تھی، فرمایا: ایک رات نبی ﷺ میرے یہاں تھے کہ آپ ﷺ نے کروٹ لی اور اپنی چادر اور اپنی جوتی اپنے پاؤں کے آگے رکھی اور پھر لیٹ گئے اور جب یہ گمان ہو گیا کہ میں سو گئی ہوں، آپ ﷺ نے اپنی چادر آہستہ سے لی، تاکہ مجھے پتہ نہ چلے اور آہستہ سے جوتی پہنی، اور دروازہ کھولا اور باہر نکل گئے اور پھر آہستہ سے اس کو بند کر دیا۔ آپ ﷺ نے ایسا اس لیے کیا تاکہ میں بیدار نہ ہو جاؤں اور اکیلے چلے جائیں تاکہ مجھے رات کی تاریکی میں اکیلے رہتے ہوئے خوف نہ محسوس کریں۔ عائشہ ضی اللہ عنہا نے بھی اپنے لباس زیب تن کیے دو پٹہ سر پر اوڑھا اور آپ ﷺ کے پیچھے چل پڑیں، یہاں تک کہ آپ ﷺ بقیع پہنچے، جو مدینہ کا قبرستان ہے اور دیر تک کھڑے رہے، پھر دعا کرتے ہوئے اپنے دونوں ہاتھ تین بار اٹھائے اور پھر واپس گھر آنے کے لیے پلٹے، عائشہ رضی اللہ عنہا بھی تیزی سے پلٹیں، نبی ﷺ تیزی سے چلنے لگے میں بھی تیزی سے چلنے لگی، پھر آپ ﷺ دوڑنے لگے اور میں بھی دوڑی اور گھر آپ سے پہلے پہنچ کر لیٹ گئی آپ ﷺ گھر میں داخل ہوئے اور فرمایا: ”اے عائشہ! تجھے کیا ہوگیا ہے؟ کہ تمہارا سانس پھول رہا ہے“، یعنی اے عائشہ! کیا ہوا تم کو ، تمہارے تیز چلنے کی وجہ سانس پھولا ہوا ہے جس کی وجہ سے بات کرنے میں اتار چڑھاؤ ہو رہا ہے۔ ”رابِية“ یعنی پیٹ پھولا ہوا ہونا، میں نے کہا: کچھ نہیں۔ آپ ﷺ نے فرمایا تم بتادو ورنہ مجھے لطیف وخبیر (باریک بین اور انتہائی باخبر) یعنی اللہ تعالیٰ خبر دے دے گا، چنانچہ جو کچھ ہوا تھا میں نے بتا دیا، فرمایا اچھا تو میں اپنے آگے آگے جو سیاہ سی چیز دیکھ رہا تھا وہ تم تھیں؟ میں نے عرض کیا جی ہاں، تو آپ ﷺ نے میرے سینے پر اس طرح مارا کہ مجھے تکلیف ہوئی، پھر فرمایا تم نے خیال کیا کہ اللہ اور اس کا رسول تمہارا حق مار لیں گے؟ یعنی کیا تم یہ سمجھتی ہو کہ اللہ اور اس کے رسول تم پر ظلم کریں گے کہ تمہارے پاس رات گزارنے کے وقت دوسری ازواج کے یہاں چلا جاؤں؟ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ لوگ (کسی بات کو) کتنا ہی چھپا لیں اللہ اس کو جانتا ہے، یعنی جو کچھ بھی لوگ چھپاتے ہیں اللہ تعالی اس سے خوب باخبر ہے، جب آپ رضی اللہ عنہا نے یہ جملہ کہا تو گویا اپنے تئیں اس خیال کی تصدیق کر دی، پھر آپ ﷺ نے بتایا کہ جبرائیل علیہ السلام تشریف لائے تھے مگر گھر میں داخل نہیں ہوئے کیونکہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے اپنے کپڑے نکال کر نیند کے لیے تیار ہو چکی تھیں، نبی ﷺ نےسمجھا کہ وہ سو چکی ہیں اور یہ ناپسند کیا کہ انہیں بیدار کر دیں کہ وہ رات کی تاریکی میں اکیلے گھبرا نہ جائیں، جبرائیل علیہ السلام نے کہا کہ آپ کے رب نے آپ کو حکم دیا ہے کہ آپ بقیع تشریف لے جائیں اور اہل بقیع کے لیے مغفرت طلب کریں چنانچہ نبی ﷺ اس حکم کی تعمیل کرتے ہوئے نکلے اور بقیع پہنچ کر اہل بقیع کے لیے مغفرت طلب کی اور ان کے حق میں دعا کی۔ عائشہ رضی اللہ عنہا نے عرض کیا اے اللہ کے رسول! میں ان کے حق میں (دعا کے لیے) کیسے کہوں؟ آپ ﷺ نے فرمایا کہو: ”السَّلَامُ عَلَی أَهْلِ الدِّيَارِ مِنْ الْمُؤْمِنِينَ وَالْمُسْلِمِينَ وَيَرْحَمُ اللَّهُ الْمُسْتَقْدِمِينَ مِنَّا وَالْمُسْتَأْخِرِينَ وَإِنَّا إِنْ شَاءَ اللَّهُ بِکُمْ لَلَاحِقُونَ“ یعنی کہو سلام ہو ایمان والے گھر والوں پر اور مسلمانوں پر، اللہ تعالیٰ ہم سے آگے جانے والوں اور بعد میں آنے والوں پر رحم کرے اور ہم ان شاء اللہ ضرور تم سے ملنے والے ہیں۔

ترجمہ: انگریزی زبان فرانسیسی زبان اسپینی ترکی زبان انڈونیشیائی زبان بوسنیائی زبان بنگالی زبان چینی زبان فارسی زبان تجالوج ہندوستانی
ترجمہ دیکھیں