زمره:

عَنْ أَبِي سَعِيدٍ سَعْدِ بْنِ مَالِكِ بْنِ سِنَانٍ الخُدْرِيّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:
«لَا ضَرَرَ وَلَا ضِرَارَ».

[حسن] - [رواه ابن ماجه، والدارقطني، وغيرهما مسندًا] - [الأربعون النووية: 32]
المزيــد ...

ابو سعید سعد بن مالک بن سنان الخدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
"نہ (ابتداءً) کسی کو نقصان پہنچانا جائز ہے اور نہ بدلے کے طور پر نقصان پہنچانا جائز ہے۔"

[حَسَنْ] - [اسے ابن ماجہ اور دار قطنی وغیرہ نے مسنداً روایت کیا ہے۔] - [اربعین نوویہ - 32]

شرح

اللہ کے نبی ﷺ بتا رہے ہیں کہ خود اپنے نفس کو اور دوسروں کو کسی بھی طرح کا ضرر پہنچانے سے بچنا ضروری ہے۔ نہ تو خود کو اذیت دینا جائز ہے اور نہ کسی اور کو اذیت دینا جائز ہے۔ دونوں ہی باتیں ناجائز ہيں۔ کسی کے لیے بھی ضرر کے مقابلے میں ضرر پہنچانا جائز نہيں ہے۔ کیوں کہ ضرر کا ازالہ ضرر کے ذریعے قصاص کے علاوہ کہیں اور جائز نہيں ہے۔ یہ بھی اس وقت جائز ہے جب ظلم وتعدی نہ ہو۔

حدیث کے کچھ فوائد

  1. جتنا نقصان پہنچایا گیا ہو اس سے زیادہ بدلہ لینا جائ‏ز نہيں ہے۔
  2. اللہ نے اپنے بندوں کو کسی ایسے کام کا حکم نہيں دیا ہے، جو ان کے لیے نقصان دہ ہو۔
  3. یہ حدیث ضرر رسانی کی حرمت کے سلسلے میں ایک قاعدے کی حیثیت رکھتی ہے۔ ضرر رسانی قول کے ذریعے ہو، فعل کے ذریعے ہو یا ترک کے ذریعے۔
  4. شریعت کا ایک قاعدہ یہ ہے کہ ضرر کو زائل کیا جائے گا۔ لہذا شریعت ضرر کو قبول نہيں کرتی، بلکہ اسے رد کرتی ہے۔
ترجمہ دیکھیں
زبان: انگریزی زبان اسپینی انڈونیشیائی زبان مزید ۔ ۔ ۔ (53)
زمرے
مزید ۔ ۔ ۔