1. مرکزی
  2. زمرہ جات (کٹیگریز)

حدیث ان دونوں کو عذاب دیا جا رہا ہے اور وہ بھی عذاب کسی بڑے گناہ کی وجہ سے نہیں دیا جا رہا ہے۔ دونوں میں سے ایک شخص پیشاب سے نہیں بچتا تھا اور دوسرا شخص لگائی بجھائی کرتا پھرتا تھا

عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رضي الله عنهما قَالَ:

مَرَّ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِقَبْرَيْنِ، فَقَالَ: «إِنَّهُمَا لَيُعَذَّبَانِ، وَمَا يُعَذَّبَانِ فِي كَبِيرٍ، أَمَّا أَحَدُهُمَا فَكَانَ لاَ يَسْتَتِرُ مِنَ البَوْلِ، وَأَمَّا الآخَرُ فَكَانَ يَمْشِي بِالنَّمِيمَةِ» ثُمَّ أَخَذَ جَرِيدَةً رَطْبَةً، فَشَقَّهَا نِصْفَيْنِ، فَغَرَزَ فِي كُلِّ قَبْرٍ وَاحِدَةً، قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، لِمَ فَعَلْتَ هَذَا؟ قَالَ: «لَعَلَّهُ يُخَفِّفُ عَنْهُمَا مَا لَمْ يَيْبَسَا».

عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں:
اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم دو قبروں کے پاس سے گزرے، تو فرمایا : "ان دونوں کو عذاب دیا جا رہا ہے اور وہ بھی عذاب کسی بڑے گناہ کی وجہ سے نہیں دیا جا رہا ہے۔ دونوں میں سے ایک شخص پیشاب سے نہیں بچتا تھا اور دوسرا شخص لگائی بجھائی کرتا پھرتا تھا۔" پھر ایک تازہ شاخ لی، اسے آدھا آدھا پھاڑا اور ایک ایک حصہ دونوں قبروں پر گاڑ دیا۔ صحابہ نے پوچھا کہ اے اللہ کے رسول! آپ نے ایسا کیوں کیا؟ تو آپ نے جواب دیا: "شاید ان دونوں کا عذاب اس وقت تک کے لیے ہلکا کر دیا جائے، جب تک یہ دونوں شاخیں سوکھ نہ جائیں۔"

الملاحظة
حدیث قبروں پر عزاب کا ہونا
النص المقترح لا يوجد...
الملاحظة
没有音标
النص المقترح لا يوجد...

صحيح متفق عليه صحيح البخاري - 218

شرح

اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم دو قبروں کے پاس سے گزرے اور فرمایا: ان قبروں میں دفن دونوں شخص عذاب کا سامنا کر رہے ہیں اور یہ عذاب ایسے کاموں کی وجہ سے جھیل رہے ہیں، جو تمھاری نظروں میں تو بڑے نہیں ہیں، لیکن اللہ کی نظر میں بڑے ہيں۔ ان دونوں میں سے ایک شخص قضائے حاجت کے وقت اپنے جسم اور کپڑوں کو پیشاب سے بچانے پر دھیان نہيں دیتا تھا۔ جب کہ دوسرا شخص لوگوں کے بیچ لگائی بجھائی کرتا پھرتا تھا۔ وہ نقصان پہنچانے اور اختلاف پیدا کرنے کے ارادے سے ایک شخص کی بات دوسرے شخص کو پہنچایا کرتا تھا۔

حدیث کے بعض فوائد

  1. لگائی بجھائی کرنا اور پیشاب سے بچنے پر دھیان نہ دینا کبیرہ گناہ اور عذاب قبر کا سبب ہے۔
  2. اللہ نے اپنے نبی صلی اللہ علیہ و سلم کے سامنے کچھ غیب کی چیزیں کھول دیں، تاکہ یہ آپ کے نبی ہونے کی ایک دلیل بن سکے۔
  3. ایک شاخ لینے اور اسے پھاڑ کر قبر پر رکھنے کا یہ عمل اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم کے ساتھ خاص ہے۔ کیوں کہ اللہ نے آپ کو ان دونوں قبروں میں دفن لوگوں کا حال بتا دیا تھا۔ اس سلسلے میں آپ پر کسی کو قیاس اس لیے نہیں کیا جا سکتا کہ کوئی قبر میں دفن لوگوں کا حال جان نہیں سکتا۔

تراجم کا مشاہدہ

59 زبان
EN English الإنجليزية
ES Español الإسبانية
ID Indonesia الإندونيسية
UG ئۇيغۇرچە الأيغورية
BN বাংলা البنغالية
FR Français الفرنسية
TR Türkçe التركية
RU Русский الروسية
BS Bosanski البوسنية
SI සිංහල السنهالية
HI हिन्दी الهندية
ZH 中文 الصينية
FA فارسی الفارسية
VI Tiếng Việt الفيتنامية
TL Tagalog تجالوج
KU Kurdî الكردية
HA Hausa الهوسا
PT Português البرتغالية
ML മലയാളം المليالم
TE తెలుగు التلغو
SW Kiswahili السواحيلية
TA தமிழ் التاميلية
MY မြန်မာ البورمية
TH ไทย التايلندية
DE Deutsch الألمانية
PS پښتو بشتو
AS অসমীয়া الأسامية
SQ Shqip الألبانية
SV Svenska السويدية
AM አማርኛ الأمهرية
NL Nederlands الهولندية
GU ગુજરાતી الغوجاراتية
KY Кыргызча القيرقيزية
NE नेपाली النيبالية
YO Yorùbá اليوروبا
LT Lietuvių الليتوانية
PRS دری الدرية
SR Српски الصربية
SO Soomaali الصومالية
TG тоҷикӣ الطاجيكية
RW Kinyarwanda الكينياروندا
RO Română الرومانية
HU Magyar المجرية
CS Čeština التشيكية
MOS Moore الموري
MG Malagasy المالاجاشية
OM Oromoo الأورومو
KN ಕನ್ನಡ الكانادا
WO Wolof الولوف
AZ Azərbaycan الأذربيجانية
UZ O‘zbek الأوزبكية
UK Українська الأوكرانية
KA ქართული الجورجية
MK Македонски المقدونية
KM ភាសាខ្មែរ الخميرية
BM Bambara البامبارية
PA ਪੰਜਾਬੀ البنجابية
MR मराठी الماراثية
KMR Kurmancî الكرمنجية
زمرہ جات (کٹیگریز)
  • . .
  • . .
  • . .