1. مرکزی
  2. زمرہ جات (کٹیگریز)
  3. عقیدہ

حدیث ”قیامت کے روز اللہ تعالیٰ سب سے ہلکے ‏عذاب کا سامنا کر رہے دوزخی سے فرمائے گا کہ اگر اس وقت تیرے پاس روئے زمین کی ساری دولت موجود ہوتی، تو کیا تو اپنے آپ کو آزاد کرانے کے لیے اسے دے دیتا؟ وہ کہے گا: ہاں۔

عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:
«يَقُولُ اللَّهُ تَعَالَى لِأَهْوَنِ أَهْلِ النَّارِ عَذَابًا يَوْمَ القِيَامَةِ: لَوْ أَنَّ لَكَ مَا فِي الأَرْضِ مِنْ شَيْءٍ أَكُنْتَ تَفْتَدِي بِهِ؟ فَيَقُولُ: نَعَمْ، فَيَقُولُ: أَرَدْتُ مِنْكَ أَهْوَنَ مِنْ هَذَا، وَأَنْتَ فِي صُلْبِ آدَمَ: أَلّاَ تُشْرِكَ بِي شَيْئًا، فَأَبَيْتَ إِلَّا أَنْ تُشْرِكَ بِي».

انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا:
”قیامت کے روز اللہ تعالیٰ سب سے ہلکے ‏عذاب کا سامنا کر رہے دوزخی سے فرمائے گا کہ اگر اس وقت تیرے پاس روئے زمین کی ساری دولت موجود ہوتی، تو کیا تو اپنے آپ کو آزاد کرانے کے لیے اسے دے دیتا؟ وہ کہے گا: ہاں۔ اس پر اللہ تعالیٰ ارشاد فرمائے گا: تم جب آدم کی پشت میں تھے، تو مَیں نے تجھ سے اس کے مقابلے میں بہت ہی آسان بات کا مطالبہ کیا تھا۔ مطالبہ یہ کیا تھا کہ میرے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہرانا۔ لیکن تونے میری یہ بات نہ مانی اور شرک کیا۔“

صحيح متفق عليه صحيح البخاري - 6557

شرح

اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے بتایا کہ اللہ تعالی ایک ایسے شخص سے کہے گا، جو جہنم میں داخل ہونے کے بعد سب سے کم تر عذاب کا سامنا کر رہا ہوگا: اگر آج تیرے پاس دنیا اور اس کے ساری دولتیں آجائيں، تو کیا اس عذاب سے آزاد ہونے کے لیے انھیں فدیہ کے طور پر دے دیگا؟ وہ عرض کرے گا: ضرور۔ یہ جواب سننے کے بعد اللہ فرمائے گا: جب تم آدم کی پشت میں تھے اور تم سے عہد و پیمان لیا گيا تھا، تو تم سے اس سے کہیں کم تر بات کا مطالبہ کیا تھا۔ تم سے بس اتنا کہا گیا تھا کہ کسی کو میرا شریک نہ ٹھہرانا۔ لیکن تم نے میری ایک نہ سنی۔ جب میں نے تم کو دنیا میں بھیجا، تو تم شرک کی راہ پر چل پڑے۔

حدیث کے بعض فوائد

  1. توحید کی فضیلت اور یہ کہ توحید پر عمل کرنا بڑا آسان ہے۔
  2. شرک ایک خطرناک عمل ہے اور اس کا انجام بہت برا ہوگا۔
  3. اللہ نے انسانوں سے شرک نہ کرنے کا عہد و پیمان لیا تھا دراں حال کہ وہ آدم علیہ السلام کی پشت میں تھے۔
  4. اس حدیث میں شرک سے خبردار کیا گیا ہے اور بتایا گیا ہے کہ قیامت کے دن پوری دنیا بھی کافر کے کچھ کام نہ آ سکے گی۔

تراجم کا مشاہدہ

52 زبان
EN English الإنجليزية
ES Español الإسبانية
ID Indonesia الإندونيسية
BN বাংলা البنغالية
TR Türkçe التركية
RU Русский الروسية
BS Bosanski البوسنية
SI සිංහල السنهالية
HI हिन्दी الهندية
ZH 中文 الصينية
FA فارسی الفارسية
VI Tiếng Việt الفيتنامية
TL Tagalog تجالوج
KU Kurdî الكردية
HA Hausa الهوسا
PT Português البرتغالية
ML മലയാളം المليالم
TE తెలుగు التلغو
SW Kiswahili السواحيلية
TA தமிழ் التاميلية
MY မြန်မာ البورمية
TH ไทย التايلندية
DE Deutsch الألمانية
PS پښتو بشتو
AS অসমীয়া الأسامية
SQ Shqip الألبانية
SV Svenska السويدية
AM አማርኛ الأمهرية
NL Nederlands الهولندية
GU ગુજરાતી الغوجاراتية
KY Кыргызча القيرقيزية
NE नेपाली النيبالية
LT Lietuvių الليتوانية
PRS دری الدرية
SR Српски الصربية
TG тоҷикӣ الطاجيكية
RW Kinyarwanda الكينياروندا
RO Română الرومانية
HU Magyar المجرية
CS Čeština التشيكية
MOS Moore الموري
MG Malagasy المالاجاشية
OM Oromoo الأورومو
KN ಕನ್ನಡ الكانادا
WO Wolof الولوف
AZ Azərbaycan الأذربيجانية
UK Українська الأوكرانية
KA ქართული الجورجية
MK Македонски المقدونية
KM ភាសាខ្មែរ الخميرية
PA ਪੰਜਾਬੀ البنجابية
MR मराठी الماراثية