1. مرکزی
  2. زمرہ جات (کٹیگریز)
  3. فقہ و اصولِ فقہ

حدیث کسی مسلمان کا خون صرف تین وجہ سے جائز ہوتا ہے

عَنِ ابنِ مَسعُودٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:
«لَا يَحِلُّ دَمُ امْرِئٍ مُسْلِمٍ إِلَّا بِإِحْدَى ثَلَاثٍ: الثَّيِّبُ الزَّانِي، وَالنَّفْسُ بِالنَّفْسِ، وَالتَّارِكُ لِدِينِهِ المُفَارِقُ لِلْجَمَاعَةِ».

عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا:
"کسی مسلمان کا خون صرف تین وجہ سے جائز ہوتا ہے : یہ کہ وہ شادی شدہ زانی ہو، قتل کے بدلے میں اسے قتل کیا جائے اور وہ جو اپنے دین کو ترک کر کے (مسلمانوں کی) جماعت سے الگ ہو جائے۔"

صحيح متفق عليه صحيح مسلم - 1676

شرح

اللہ کے نبی ﷺ فرما رہے ہیں کہ مسلمان کا خون بہانا حرام ہے اور اس کی اجازت صرف اسی وقت دی جا سکتی ہے، جب اس سے درج ذیل تین کاموں میں سے کوئی ایک کام سرزد ہو جائے : پہلا : جس نے عقد صحیح کی بنیاد پر نکاح کرنے کے باوجود زنا کاری کی۔ ایسے شخص کو سنگ سار کیا جائے گا۔ دوسرا : جس نے کسی معصوم انسان کو جان بوجھ کر ناحق قتل کر دیا۔ ایسے شخص کو کچھ شرطوں کے ساتھ قتل کر دیا جائے گا۔ تیسرا : جو مسلمانوں کی جماعت سے نکل گیا ہو۔ خواہ اپنے مذہب یعنی اسلام کو پورے طور پر چھوڑ کر مرتد ہو گیا ہو یا پھر مرتد تو نہ ہوا ہو، لیکن اسلام کی بعض تعلیمات سے روگردانی کر کے مسلمانوں کی جماعت سے الگ ہو گیا ہو۔ جیسے بغاوت کی ہو، رہزنی کی ہو یا مسلمانوں سے مائل بہ جنگ ہو جیسے خوارج وغیرہ کا طریقہ ہے۔

حدیث کے بعض فوائد

  1. ان تینوں کاموں کو کرنا حرام ہے۔ جو ان میں سے کوئی ایک کام کرے، وہ سزائے موت کا حق دار بن جاتا ہے۔ سزائے موت کا حق دار یا تو کفر کی وجہ سے بنتا ہے۔ اس کی مثال ارتداد کا شکار شخص ہے۔ یا پھر حد کے طور پر۔ بطور حد سزائے موت کا حق دار دو لوگ بنتے ہیں: شادی شدہ زناکار اور جان بوجھ کر کسی کا قتل کرنے والا۔
  2. عزت و آبرو کی حفاظت کرنا اور اسے صاف ستھرا رکھنا واجب ہے۔
  3. مسلمان کا احترام واجب ہے۔ وہ معصوم الدم ہے۔
  4. مسلمانوں کی جماعت کے ساتھ جڑے رہنے اور جماعت سے الگ نہ ہونے کی ترغیب۔
  5. نبی ﷺ کے تعلیم دینے کا بہترین انداز کہ کبھی کبھی آپ اپنی بات تقسیم کے ذریعے رکھتے تھے۔ کیوں کہ تقسیم سے مسائل کا استقصا ہو جاتا ہے اور یاد کرنا بھی آسان ہو جاتا ہے۔
  6. اللہ تعالی نے جرم روکنے، معاشرے کو تحفظ فراہم کرنے اور اسے جرائم سے پاک صاف کرنے کے لیے حدود متعین کیے ہیں۔
  7. ان حدود کا نافذ کرنا حکمراں کا کام ہے۔
  8. قتل کے مذکورہ تین اسباب کے علاوہ اور بھی اسباب ہیں۔ البتہ وہ ان تین اسباب کے دائرے سے باہر نہيں ہيں۔ ابن عربی مالکی کہتے ہيں: دیگر اسباب ان تین اسباب سے کسی بھی صورت میں باہر نہيں ہيں۔ کیوں کہ جادو کرنے والا اور اللہ کے نبی ﷺ کو گالی دینے والا اپنا دین چھوڑنے والے کے زمرے میں آ جاتا ہے۔

تراجم کا مشاہدہ

50 زبان
EN English الإنجليزية
ES Español الإسبانية
ID Indonesia الإندونيسية
UG ئۇيغۇرچە الأيغورية
BN বাংলা البنغالية
FR Français الفرنسية
TR Türkçe التركية
RU Русский الروسية
BS Bosanski البوسنية
SI සිංහල السنهالية
HI हिन्दी الهندية
ZH 中文 الصينية
FA فارسی الفارسية
VI Tiếng Việt الفيتنامية
TL Tagalog تجالوج
KU Kurdî الكردية
HA Hausa الهوسا
PT Português البرتغالية
ML മലയാളം المليالم
TE తెలుగు التلغو
SW Kiswahili السواحيلية
TA தமிழ் التاميلية
MY မြန်မာ البورمية
TH ไทย التايلندية
DE Deutsch الألمانية
PS پښتو بشتو
SQ Shqip الألبانية
NL Nederlands الهولندية
GU ગુજરાતી الغوجاراتية
NE नेपाली النيبالية
YO Yorùbá اليوروبا
PRS دری الدرية
SR Српски الصربية
TG тоҷикӣ الطاجيكية
RO Română الرومانية
HU Magyar المجرية
CS Čeština التشيكية
MOS Moore الموري
MG Malagasy المالاجاشية
FF Fulfulde الفولانية
KN ಕನ್ನಡ الكانادا
UZ O‘zbek الأوزبكية
UK Українська الأوكرانية
KA ქართული الجورجية
MK Македонски المقدونية
KM ភាសាខ្មែរ الخميرية
PA ਪੰਜਾਬੀ البنجابية
MR मराठी الماراثية
DA Dansk الدنماركية
KMR Kurmancî الكرمنجية