عن أبي هريرة -رضي الله عنه- قال: «لَعَن رسول الله -صلى الله عليه وسلم- الرَّاشِي والمُرْتَشِي في الحُكْم».
[صحيح.] - [رواه الترمذي وأحمد.]
المزيــد ...

ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں : "اللہ کے رسول ﷺ نے فیصلے کو متاثر کرنے کے لیے رشوت دینے اور رشوت لینے والے پر لعنت کی ہے"۔
صحیح - اسے امام ترمذی نے روایت کیا ہے۔

شرح

چوں کہ رشوت نام ہی ہے ناجائز مقاصد کے حصول کے لیے مال خرچ کرنے کا، اس لیے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم نے رشوت دینے اور لینے والے کے حق میں دھتکارے جانے اور اللہ کی رحمت سے دور کیے جانے کی بد دعا کی ہے۔ پھر کیونکہ فرد اور سماج دونوں کے لیے رشوت کے نقصانات بہت ہى بڑے ہین-اور رشوت مطلق طور پر حرام ہے۔ لیکن، اسے اس حدیث میں فیصلے کے ساتھ خاص کرکے اس لیے بیان کیا گیا ہے، کیوں کہ فیصلے کى وجہ سے رشوت دینا اور زیادہ بڑا جرم ہے، کیوں کہ یہ شریعت کے حکم کو بدلنے کی کوشش ہے, بعیں طور کہ قاضی کو کوئی ایسی چیز دے دی جائے، جو فیصلے کو بدلنے، اس کی دھار کو کند کرنے اور رشوت دینے والے کے مفاد کے تحفظ میں اثر انداز ہو۔

ترجمہ: انگریزی زبان فرانسیسی زبان اسپینی انڈونیشیائی زبان بوسنیائی زبان روسی زبان بنگالی زبان چینی زبان فارسی زبان ہندوستانی ایغور کردی پرتگالی مليالم تلگو سواحلی
ترجمہ دیکھیں
1: رشوت دینا، رشوت لینا اور اس میں واسطہ کا کردار ادا کرنا حرام ہے, نیز اس کے تعلق سے کسى قسم کا تعاون کرنا حرام ہے، کیوںکہ یہ حرام کام پر مدد کرنے کے زمرے میں داخل ہے
2: رشوت میں ملوث ہونا کبیرہ گناہ ہے، کیوں کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے رشوت دینے والے اور لینے والے پر لعنت کی ہے اور لعنت کسى کبیرہ گناہ پر ہی کی جاتی ہے۔ ساتھ ہی تمام علما کا رشوت کے حرام ہونے پر اجماع ہے۔
3: فیصلے کو متاثر کرنے کے لیے رشوت دینا اور لینا زیادہ بھیانک جرم اور بڑا گناہ ہے، کیونکہ اس میں ناجائز طریقے سے لوگوں کا مال کھانے، اللہ کے حکم کو بدلنے اور اللہ کی اتاری ہوئی شریعت کو بالائے طاق رکھ کر فیصلہ کرنے جیسے کئی مفاسد پائے جاتے ہیں۔ ساتھ ہی یہ بھی کہ رشوت لینے والا رشوت لے کر اپنے اوپر ظلم کرتا ہے، جس کے حق میں فیصلہ کرتا ہے اس پر ظلم کرتا ہے اور جس کے خلاف فیصلہ کرتا ہے، اس پر بھی ظلم کرتا ہے۔