خَرَجْنَا فِي لَيْلَةٍ مَطِيرَةٍ وَظُلْمَةٍ شَدِيدَةٍ، نَطْلُبُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؛ يُصَلِّي لَنَا، قَالَ: فَأَدْرَكْتُهُ، فَقَالَ: «قُلْ»، فَلَمْ أَقُلْ شَيْئًا، ثُمَّ قَالَ: «قُلْ»، فَلَمْ أَقُلْ شَيْئًا، قَالَ: «قُلْ»، فَقُلْتُ: مَا أَقُولُ؟ قَالَ: «{قُلْ هُوَ اللهُ أَحَدٌ} وَالْمُعَوِّذَتَيْنِ حِينَ تُمْسِي وَتُصْبِحُ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ، تَكْفِيكَ مِنْ كُلِّ شَيْءٍ». المزيد
عبداللہ بن خبیب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں :
ہم ایک بارش اور سخت تاریکى والی رات میں اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم کو نماز پڑھانے کے لیے ڈھونڈنے نکلے۔ ان کا کہنا ہے کہ ہم نے جب آپ کو پایا تو آپ نے کہا : "تم کہو۔" میں نے کچھ نہيں کہا، تو آپ نے دوبارہ کہا : "تم کہو۔" میں نے پھر بھی کچھ نہيں کہا تو آپ نے تیسری بار کہا : "تم کہو۔" اس بار میں نے عرض کیا کہ میں کیا کہوں؟ آپ نے جواب دیا : "تم صبح شام تین بار (قل ھو اللہ احد)، (قل اعوذ برب الفلق) اور (قل اعوذ برب الناس) کہہ لیا کرو۔ یہ تین سورتیں تمھارے لیے ہر چيز سے کافی ہوں گی۔"