عن عثمان بن عفان -رضي الله عنه- مرفوعاً: «ما من عبد يقول في صباح كل يوم ومساء كل ليلة: بسم الله الذي لا يضر مع اسمه شيء في الأرض ولا في السماء وهو السميع العليم، ثلاث مرات، إلا لم يَضُرَّهُ شيء».
[صحيح.] - [رواه أبو داود والترمذي وابن ماجه والنسائي في الكبرى وأحمد.]
المزيــد ...

عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جو بندہ ہر دن صبح اور شام تین بار یہ پڑھ لے اسے کوئی شے نقصان نہیں پہنچا سکتی: ”بِسْمِ اللَّهِ الَّذِي لَا يَضُرُّ مَعَ اسْمِهِ شَيْءٌ فِي الْأَرْضِ وَلَا فِي السَّمَاءِ وَهُوَ السَّمِيعُ الْعَلِيمُ“ میں اس اللہ کے نام کے ذریعہ سے پناہ مانگتا ہوں جس کے نام کی برکت سے زمین و آسمان کی کوئی چیز نقصان نہیں پہنچا سکتی اور وہ سننے والا جاننے والا ہے۔
صحیح - اسے ابنِ ماجہ نے روایت کیا ہے۔

شرح

جو بندہ ہر دن صبح اور شام یعنی طلوعِ فجر اور غروبِ آفتاب کے بعد یہ دعا پڑھتا ہے۔ مسند احمد کی روایت میں ہے کہ جس نے دن کے آغاز اور رات کی ابتداء میں یہ دعا پڑھی۔ ”بسم اللہ“ یعنی بیان عظمت اور حصول برکت کے لیے اس کا نام لیتا ہوں، ” جس کے نام کی برکت سے زمین و آسمان کی کوئی چیز نقصان نہیں پہنچا سکتی“ یعنی یقین کامل اور خالص نیت کے ساتھ اس کا نام لینے سے، ”اسے کوئی شے نقصان نہیں پہنچا سکتی“ یعنی چاہے وہ کوئی بھی چیز ہو، ” زمین و آسمان کی کوئی چیز“ یعنی آسمان سے نازل ہونے والی مصیبت۔ ”وہ سننے والا ہے“ یعنی ہمارے اقوال کو سننے والا ہے۔ ”جاننے والا ہے“ یعنی ہمارے احوال کو جاننے والا ہے۔ حدیث میں اس بات کی دلیل ہے کہ یہ کلمات اپنے پڑھنے والے سے ہر قسم کے نقصان کا دفاع کرتے ہیں چاہے وہ کسی بھی قسم کا ہو۔ عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ سے اس حدیث کو انکے فرزند ابان رحمہ اللہ نے روایت کیا ہے جن کا شمار ثقہ تابعین میں ہوتا ہے۔ ابان رحمہ اللہ فالج کے مرض میں مبتلا تھے چناچہ اس شخص نے جو اس حدیث کو سن رہا تھا ابان رحمہ اللہ کی طرف تعجب سے دیکھنے لگا، چنانچہ ابان رحمہ اللہ نے اس سے کہا: کیا بات ہے تم میری طرف تعجب سے دیکھ رہے ہو؟ اللہ کی قسم میں نے عثمان رضی اللہ عنہ پر جھوٹ نہیں باندھا ہے اور نہ ہی عثمان رضی اللہ عنہ نے نبیﷺ پر جھوٹ باندھا ہے، البتہ جس دن مجھے یہ مرض لاحق ہوا اس دن میں غصہ میں تھا اور اس دعا کو پڑھنا بھول گیا۔ اس واقعہ سے مذکورہ فوائد حاصل ہوتے ہیں: 1- غصہ ایک آفت ہے جو انسان اور اس کی عقل کے درمیان حائل ہوجاتی ہے۔ 2- جب اللہ تعالی تقدیر کے کسی فیصلہ کا ارادہ فرماتا ہے تو تقدیر اور بندے کے درمیان حائل ہونے والی چیز کو دور کردیتا ہے۔ 3- دعا تقدیر کو پھیر سکتی ہے۔ 4- متقدیمنِ سلف کے یقین کی مضبوطی جو کہ انہیں اللہ سبحانہ وتعالی پر تھا اور نبیﷺ کی بتائی ہوئی باتوں کے متعلق ان کی تصدیق۔

ترجمہ: انگریزی زبان فرانسیسی زبان اسپینی ترکی زبان انڈونیشیائی زبان بوسنیائی زبان بنگالی زبان چینی زبان فارسی زبان تجالوج ہندوستانی ویتنامی ایغور کردی پرتگالی
ترجمہ دیکھیں