1. مرکزی
  2. زمرہ جات (کٹیگریز)
  3. فقہ و اصولِ فقہ

حدیث کوئی بھی عورت جو اللہ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتی ہو اس کے لیے کسی میت پر تین دن سے زیادہ سوگ منانا جائز نہیں، سوائے شوہر کے کہ اس کا (سوگ) چارماہ دس دن ہے۔

عن زينب بنت أبي سلمة قالت: تُوُفِّيَ حَمِيْمٌ لأم حبيبة، فدعت بصُفْرَةٍ، فَمَسحَتْ بذراعيها، فقالت: إنما أصنع هذا؛ لأني سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول: «لا يحل لامرأة تؤمن بالله واليوم الآخر أن تُحِدَّ على ميت فوق ثلاث، إلا على زوج: أربعة أشهر وعشرًا».

زینب بنت ابی سلمہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے وہ کہتی ہیں کہ ام حبیبہ رضی اللہ عنہا کے ایک قریبی رشتہ دار فوت ہو گئے۔ انہوں نے زرد رنگ کی ایک خوشبو منگوائی اور اسے اپنے بازوؤں پر مل لیا اور کہا کہ میں یہ اس لیے کر رہی ہوں کیونکہ میں نے نبی ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا ہے کہ کوئی بھی عورت جو اللہ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتی ہو اس کے لیے کسی میت پر تین دن سے زیادہ سوگ منانا جائز نہیں، سوائے شوہر کے کہ اس کا (سوگ) چار ماہ دس دن ہے۔

صحیح متفق علیہ

شرح

ام حبیبہ رضی اللہ عنہا کے والد وفات پا گئے۔ انہوں نے نبی ﷺ سے سن رکھا تھا کہ آپ ﷺ نے ماسوا شوہر کے کسی اور کے مرنے پر تین دن سے زیادہ سوگ سے منع فرمایا ہے۔ اسی حکم کی بجا آوری میں انہوں نے ایک زرد رنگ ملی خوشبو منگوائی اور اسے اپنے بازوؤں پر مَلْ لیا اورخوشبو لگانے کا سبب بیان کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے نبی ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا ہے کہ: ”کوئی بھی عورت جو اللہ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتی ہو اس کے لیےکسی میت پر تین دن سے زیادہ سوگ منانا جائز نہیں، سوائے شوہر کے کہ اس کا (سوگ) چار ماہ دس دن ہے“۔

تراجم کا مشاہدہ

17 زبان
EN English الإنجليزية
ES Español الإسبانية
ID Indonesia الإندونيسية
UG ئۇيغۇرچە الأيغورية
BN বাংলা البنغالية
FR Français الفرنسية
TR Türkçe التركية
RU Русский الروسية
BS Bosanski البوسنية
HI हिन्दी الهندية
ZH 中文 الصينية
FA فارسی الفارسية
VI Tiếng Việt الفيتنامية
TL Tagalog تجالوج
KU Kurdî الكردية
HA Hausa الهوسا
PT Português البرتغالية