1. مرکزی
  2. زمرہ جات (کٹیگریز)

حدیث مضبوط مومن اللہ کے نزدیک کمزور مومن سے بہتر اور محبوب ہے۔ تاہم خیر تو دونوں ہی میں ہے۔

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رضي الله عنه قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:

«الْمُؤْمِنُ الْقَوِيُّ، خَيْرٌ وَأَحَبُّ إِلَى اللهِ مِنَ الْمُؤْمِنِ الضَّعِيفِ، وَفِي كُلٍّ خَيْرٌ، احْرِصْ عَلَى مَا يَنْفَعُكَ، وَاسْتَعِنْ بِاللهِ وَلَا تَعْجَزْ، وَإِنْ أَصَابَكَ شَيْءٌ، فَلَا تَقُلْ لَوْ أَنِّي فَعَلْتُ كَانَ كَذَا وَكَذَا، وَلَكِنْ قُلْ قَدَرُ اللهِ وَمَا شَاءَ فَعَلَ، فَإِنَّ (لَوْ) تَفْتَحُ عَمَلَ الشَّيْطَانِ».

ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا :
"مضبوط مومن اللہ کے نزدیک کمزور مومن سے بہتر اور محبوب ہے۔ تاہم خیر تو دونوں ہی میں ہے۔ جو چیز تمہارے لیے فائدے مند ہو، اس کی حرص رکھو اور اللہ سے مدد مانگو اور عاجز نہ بنو۔ اگر تم پر کوئی مصیبت آ جائے، تو یہ نہ کہو کہ اگر میں ایسا کر لیتا، تو ایسا ہوجاتا۔ بلکہ یہ کہو کہ یہ اللہ کی تقدیر ہے اور وہ جو چاہتا ہے کرتا ہے۔ کیوں کہ ”اگر“ شیطان کے عمل دخل کا دروازہ کھول دیتا ہے“۔

صحيح رواه مسلم صحيح مسلم - 2664

شرح

اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم بتا رہے ہیں کہ ویسے تو ہر مومن میں خیر ہوتی ہے، لیکن ایمان، عزیمت اور مال وغیرہ طاقت کے پہلوؤں میں قوی مومن اللہ عز و جل کے یہاں کمزور مومن سے بہتر اور زیادہ محبوب ہے۔ اس کے بعد اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے مومن کو ایسے اسباب اختیار کرنے کی وصیت فرمائی جن سے دنیا وآخرت کی بھلائی حاصل ہو سکے‘ ساتھ ہی اللہ پر اعتماد، اس سے مدد مانگنے کا جذبہ اور اس پر بھروسہ شامل حال ہوں۔ پھر اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے عاجزی، سستی اور دونوں جہانوں میں نفع پہنچانے والی چيزوں سے پیچھے رہنے سے منع فرمایا ہے۔ جب مومن پوری تندہی سے عمل کرے، اسباب اختیار کرے، اللہ سے مدد اور خیر طلب کرتا رہے، تو اس کے بعد بس اتنا بچ جاتا ہے کہ اپنا معاملہ اللہ کے حوالے کر دے اور اس بات کا یقین رکھے کہ اللہ جو کرے گا، وہ خیر ہی ہوگا۔ اس کے بعد اگر کوئی مصیبت لاحق ہو، تو یہ نہ کہے : "اگر میں ایسا کر لیتا، تو ایسا اور ایسا ہوتا۔" "کیوں کہ لفظ (اگر) شیطان کے عمل کے راستے کھول دیتا ہے۔" یعنی انسان تقدیر پر اعتراض اور فوت شدہ چيز پر افسوس کرنے لگتا ہے۔ انسان کو راضی بہ رضا رہتے ہوئے اور خود سپردگی کا ثبوت دیتے ہوئے بس اتنا کہنا چاہیے : "یہ اللہ کا فیصلہ ہے اور اللہ جو چاہتا ہے، کرتا ہے۔" لہذا جو کچھ ہوا، وہ اللہ کے ارادے کے مطابق ہوا۔ کیوں کہ وہ جو چاہتا ہے، کر گزرتا ہے۔ اس کے فیصلے کو کوئی ٹال نہيں سکتا اور اس کے حکم کو کوئی روک نہیں سکتا۔

حدیث کے بعض فوائد

  1. ایمان میں لوگوں کا تفاوت۔
  2. اعمال میں قوت کا استحباب، کیوں کہ قوت سے وہ وہ فوائد حاصل ہو سکتے ہيں، جو ضعف سے حاصل نہيں ہو سکتے۔
  3. انسان کو چاہیے کہ نفع بخش چیزوں کا اہتمام کرے اور نقصان دہ امور سے اجتناب کرے۔
  4. مومن پر واجب ہے کہ اپنے تمام معاملات میں اللہ سے مدد طلب کرے اور اپنی ذات پر بھروسہ کرکے نہ بیٹھے۔
  5. قضا اور قدر کا ثبوت۔ قضا و قدر پر ایمان اسباب اختیار کرنے اور خیر كی کوشش کرنے سے متصادم نہیں ہے۔
  6. مصیبتوں کے وقت ناراضگی کے طور پر لفظ "اگر" کہنے کی ممانعت اور قضا و قدر پر اعتراض کرنے کی حرمت۔

تراجم کا مشاہدہ

58 زبان
EN English الإنجليزية
ES Español الإسبانية
ID Indonesia الإندونيسية
UG ئۇيغۇرچە الأيغورية
BN বাংলা البنغالية
FR Français الفرنسية
TR Türkçe التركية
RU Русский الروسية
BS Bosanski البوسنية
SI සිංහල السنهالية
HI हिन्दी الهندية
ZH 中文 الصينية
FA فارسی الفارسية
VI Tiếng Việt الفيتنامية
TL Tagalog تجالوج
KU Kurdî الكردية
HA Hausa الهوسا
PT Português البرتغالية
ML മലയാളം المليالم
TE తెలుగు التلغو
SW Kiswahili السواحيلية
MY မြန်မာ البورمية
TH ไทย التايلندية
DE Deutsch الألمانية
PS پښتو بشتو
AS অসমীয়া الأسامية
SQ Shqip الألبانية
SV Svenska السويدية
AM አማርኛ الأمهرية
NL Nederlands الهولندية
GU ગુજરાતી الغوجاراتية
KY Кыргызча القيرقيزية
NE नेपाली النيبالية
YO Yorùbá اليوروبا
LT Lietuvių الليتوانية
PRS دری الدرية
SR Српски الصربية
SO Soomaali الصومالية
TG тоҷикӣ الطاجيكية
RW Kinyarwanda الكينياروندا
RO Română الرومانية
HU Magyar المجرية
CS Čeština التشيكية
MOS Moore الموري
MG Malagasy المالاجاشية
IT Italiano الإيطالية
OM Oromoo الأورومو
KN ಕನ್ನಡ الكانادا
WO Wolof الولوف
AZ Azərbaycan الأذربيجانية
UZ O‘zbek الأوزبكية
UK Українська الأوكرانية
KA ქართული الجورجية
MK Македонски المقدونية
KM ភាសាខ្មែរ الخميرية
PA ਪੰਜਾਬੀ البنجابية
MR मराठी الماراثية
KMR Kurmancî الكرمنجية
زمرہ جات (کٹیگریز)
  • . .