جس نے کسی تنگ دست کو مہلت دی یا اس کے قرض کا کچھ حصہ معاف کردیا، اسے قیامت کے دن اللہ تعالی اپنے عرش کے سائے میں جگہ دے گا، جس دن اس کے سائے کے سوا کوئی اور سایہ نہ ہو گا"۔
یقینا تم لوگ اپنے رب کو اسی طرح دیکھو گے، جیسے اس چاند کو دیکھ رہے ہو۔ اسے دیکھنے میں تمھیں کوئی دقت نہیں ہوگی
کیا میں تمہیں جنتیوں کے اوصاف نہ بتاؤں؟ ہر کمزور اور متواضع شخص، اگر اللہ پر قسم اٹھا لے، تو اللہ اس کی قسم کی لاج رکھ لے۔ کیا میں تمھیں جہنمیوں کے اوصاف نہ بتاؤں؟ ہر تند خو، سرکش وبخیل اور متکبر شخص"۔
جنت میں سو درجے ہیں جنہیں اللہ تعالیٰ نے اپنی راہ میں جہاد کرنے والوں کے لیے تیار کر رکھا ہے۔ ہر دو درجوں میں اس قدر فاصلہ ہے جتنا آسمان و زمین کے مابین ۔
قیامت کے دن بہت موٹا اور عظیم آدمی لایا جائے گا لیکن اللہ کے نزدیک وہ مچھر کے پر کے برابر بھی نہ ہوگا۔
قیامت کے دن کسی شخص کے قدم اس وقت تک اپنی جگہ سے نہ ہٹیں گے، جب تک اس کی عمر کے بارے میں نہ پوچھ لیا جائے کہ اسے کس چیز میں فنا کیا، اس کے علم کے بارے میں نہ پوچھ لیا جائے کہ اس سے کیا کیا، اس کے مال کے بارے میں نہ پوچھ لیا جائے کہ اسے کہاں سے کمایا اور کہاں خرچ کیا اور اس کے جسم کے بارے میں نہ پوچھ لیا جائے کہ اسے کہاں کھپایا۔
دوزخیوں میں سے کچھ لوگ وہ ہوں گے جن کے دونوں ٹخنوں تک آگ ہوگی، کچھ لوگ وہ ہوں گے جن کے دونوں گھٹنوں تک آگ ہوگی، کچھ وہ ہوں گے جن کی کمر تک آگ ہوگی اور کچھ لوگ وہ ہوں گے جن کی ہنسلی کی ہڈی تک آگ آ رہی ہو گی۔
بے شک قیامت والے دن اللہ تعالیٰ فرمائے گا: اے آدم کے بیٹے ! میں بیمار ہوا اور تو نے میری بیمار پرسی نہیں کی۔
”جو بھی سونا یا چاندی والا شخص اپنے اس مال کا حق (زکوٰۃ) ادا نہیں کرتا، اس کے لیے قیامت کے دن آگ کی تختیاں تیار کی جائیں گی
میرے رب نے مجھ سے وعدہ کیا ہے کہ وہ میری امت میں سے ستّر ہزار لوگوں کو حساب اور عذاب کے بغیر جنت میں داخل کرے گا اور ( ان ستر ہزار میں سے) ہر ہزار کے ساتھ مزید ستر ہزار لوگ ہوں گے اور میرے رب کے لپوں میں سے تین لپ بھر کر لوگ جنت میں جائیں گے۔
پل صراط کو جہنم کے اوپر رکھا جائےگا۔ جس پر سعدان کے خاردار پودے کی طرح کانٹے ہوں گے۔ پھر لوگوں کو اس کے اوپر سے گزارا جائے گا تو کچھ لوگ صحیح سلامت گزر جائیں گے، کچھ زخمی ہو کر بچ نکلیں گے، کچھ ان سے الجھ کر جہنم میں گرپڑیں گے۔
ہمارا رب قیامت کے دن اپنی پنڈلی کھولے گا اس وقت ہر مومن مرد اور ہر مومنہ عورت اس کے لیے سجدہ میں گر پڑیں گے۔ صرف وہ باقی رہ جائیں گے جو دنیا میں دکھاوے اور ناموری کے لیے سجدہ کرتے تھے۔ جب وہ سجدہ کرنا چاہیں گے تو ان کی پیٹھ تختہ ہو جائے گی اور وہ سجدے کے لیے نہ مڑ سکے گی۔
اے اللہ کے رسول! کیا ہم قیامت کے دن اپنے رب کو دیکھیں گے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ’’کیا تم کو سورج اور چاند دیکھنے میں کچھ تکلیف ہوتی ہے جب کہ آسمان صاف ہو؟
میں خوب جانتا ہوں کہ اہلِ جہنم میں سے کون سب سے آخر میں وہاں سے نکلے گا اور اہلِ جنت میں کون سب سے آخر میں داخل ہو گا۔ ایک شخص جہنم سے سرین کے بل گھسٹتے ہوئے نکلے گا اور اللہ تعالی اس سے کہے گا کہ: جاؤ اور جنت میں داخل ہو جاؤ، وہ جنت کے پاس آئے گا لیکن اسے ایسا معلوم ہو گا کہ جنت بھری ہوئی ہے۔
جس نے اذان سنتے وقت یہ دعا پڑھی: "اللَّهُم ربِّ هذه الدَّعْوَة التَّامة، والصَّلاة القَائمة، آتِ محمدا الوَسِيلَة والفَضِيلة، وابْعَثْه مَقَامًا محمودًا الَّذي وعَدْتَه" (اے اللہ! اس کامل دعوت اور قائم ہونے والی نماز کے رب! محمدﷺ کو قرب اور فضیلت عطا فرما اور انہیں مقام محمود پر کھڑا کر جس کا تو نے وعدہ کیا ہے)۔ اس کے لیے قیامت کے دن میری شفاعت واجب ہو جائے گی۔
بے شک اللہ تعالیٰ کسی مؤمن کے ساتھ ایک نیکی کے معاملے میں بھی ظلم نہیں فرماتا۔ اس کے بدلے اسے دنیا میں بھی دیا جاتا ہے اور آخرت میں بھی اس کی جزا دی جاتی ہے
میں حوض پر موجود ہوں گا اور دیکھوں گا کہ تم میں سے کون میرے پاس آتا ہے۔ پھر کچھ لوگوں کو مجھ سے الگ کر دیا جائے گا۔ میں کہوں گا : اے میرے رب! یہ تو میرے آدمی اور میری امت کے لوگ ہیں
{ثُمَّ لَتُسْأَلُنَّ يَوْمَئِذٍ عَنِ النَّعِيمِ} (پھر تم اس دن نعمتوں کے بارے میں ضرور پوچھے جاؤگے۔) [سورہ تکاثر : 8] نازل ہوئی
جو شخص اپنے غصے کو پورا کرنے کی قدرت ہونے کے باجود اسے دبا لیتا ہے، اسے اللہ سبحانہ و تعالی روز قیامت سب مخلوق کے سامنے بلائیں گے اور اختیار دیں گے کہ جنت کی بڑی آنکھوں والی حوروں میں سے جسے چاہے، چن لے۔
اللہ تعالیٰ قیامت کے دن فرمائے گا: میرے جلال کی بنا پر ایک دوسرے سے محبت کرنے والے کہاں ہیں؟ آج میں انھیں اپنے سایے میں رکھوں گا، آج کے دن جب کہ میرے سایے کے سوا کوئی اور سایہ نہیں ہوگا۔
روز قیامت اللہ آسمانوں کو لپیٹ کر اپنے دائیں ہاتھ میں لے لے گا اور پھر فرمائے گا: میں ہوں بادشاہ، کہاں ہیں وہ لوگ جو سرکش بنے پھرتے تھے؟ کہاں ہیں وہ لوگ جو متکبر بنے پھرتے تھے؟ پھر اللہ ساتوں زمینوں کو لپیٹ کر اپنے بائیں ہاتھ میں لے لے گا اور کہے گا: میں ہوں بادشاہ، کہاں ہیں جو سرکش بنے پھرتے تھے؟ کہاں ہیں جو متکبر بنے پھرتے تھے؟
اللہ عز وجل فرماتا ہے: میری عظمت وجلال کی وجہ سے ایک دوسرے سے محبت رکھنے والوں کے لیے (روزِ قیامت) نور سے بنے منبر ہوں گے۔ ان پر انبیاء اور شہداء بھی رشک کریں گے۔
قیامت کے دن سورج کو مخلوق کے نزدیک کر دیا جائے گا، یہاں تک کہ وہ ان سے ایک میل کے فاصلے پر رہ جائے گا۔
جس نے اپنے بھائی کی عزت یا کسی اور شے میں حق تلفی کی ہو، اسے چاہیے کہ وہ آج ہی اس سے بری الذمہ ہو جائے، اس سے پہلے کہ (وہ دن آئے) جب نہ دینار ہو ں گے اور نہ درہم۔
(روزِ قیامت) تمام لوگ ربُّ العالمین کے روبرو کھڑے ہوں گے یہاں تک کہ ان میں سے کچھ اپنے آدھے کانوں تک پسینے میں ڈوبے ہوں گے۔
تمھیں روزِ قیامت حق والوں کے حق ضرور ادا کرنے ہوں گے حتی کہ بغیر سینگ والی بکری کو سینگ والی بکری سے بدلہ دلوایا جائے گا۔
جنت اور دوزخ نے باہم بحث ومباحثہ کیا۔ دوزخ نے کہا: میں سرکش ومتکبر اور جابر وظالم لوگوں کے لیے مخصوص کردی گئی ہوں۔ جنت نے کہا: مجھے کیا ہوا کہ میرے اندر صرف کمزور، حقیر وکمتر اور بھولے بھالے (سادہ لوح) لوگ داخل ہوں گے
تم میں سےجنت میں سب سے ادنیٰ درجے کے جنتی کا مرتبہ یہ ہوگا کہ اس سے اللہ کہے گا کہ تو اپنی خواہشات بیان کر، وہ اپنی تمنائیں بیان کرے گا پھر اس سے پوچھے گا کہ کیا تیری ساری تمنائیں پوری ہوگئیں؟ وہ کہے گا:جی ہاں تو اللہ فرمائے گا کہ تو نے جتنی تمنائیں ظاہر کیں وہ بھی پوری کی جائیں گی اور اتنی ہی مزید عطا کی جائیں گی۔
کافر جب کوئی نیک عمل کرتا ہے تو اس کے بدلے میں دنیا ہی میں اسے رزق دے دیا جاتا ہے۔ جب کہ مومن کے لیے اللہ تعالی اس کی نیکیوں کو آخرت کے لیے رکھ چھوڑتے ہیں اور اس کی نیکی پر اسے دنیا میں بھی رزق دیتے ہیں۔
میں کیسے چین سے رہ سکتا ہوں جب کہ صور پھونکنے والا صور کو منہ سے لگائے ہوئے اور اپنی پیشانی جھکائے ہوئے اور اپنا کان لگائے ہوئے، انتظار میں ہے کہ اسے صور پھونکنے کا حکم دیا جائے تو وہ فوراً صور پھونک دے۔
علی بن ابو طالب رضی اللہ عنہ کا قول کہ میں پہلا آدمی ہوں گا، جو قیامت کے دن رحمن کے سامنے جھگڑنے کے لیے گھٹنوں پر بیٹھے گا
روزِ قیامت اللہ ہر مسلمان کے حوالے ایک یہودی یا عیسائی کرے گا اور کہے گا کہ یہ جہنم سے چھٹکارے کے لیے تیرا تاوان ہے۔
قسم اس ذات کی جس کے ہاتھ میں محمدﷺ کی جان ہے! مجھے امید ہے کہ اہلِ جنت میں سے آدھے تم ہو گے کیونکہ جنت میں وہی جائے گا جو مسلمان ہے اور تم مشرکوں کے اندر ایسے ہو جیسے ایک سفید بال سیاہ بیل کی کھال میں ہو یا آپ ﷺ نے فرمایا کہ ایک سرخ بیل کی کھال میں ایک سیاہ بال ہو۔