عن أبي هريرة -رضي الله عنه- قال: قال رسول الله -صلى الله عليه وسلم-: «ما مِن صاحب ذَهب، ولا فِضَّة، لا يُؤَدِّي منها حقَّها إلا إذا كان يوم القيامة صُفِّحَتْ له صَفَائِحُ من نار، فَأُحْمِيَ عليها في نار جهنَّم، فيُكْوى بها جَنبُه، وجَبينُه، وظهرُه، كلَّما بَرَدَت أُعِيْدَت له في يوم كان مِقداره خمسين ألف سنة، حتى يُقْضَى بين العِباد فَيَرى سَبِيلَه، إما إلى الجنة، وإما إلى النار». قيل: يا رسول الله، فالإبْل؟ قال: «ولا صَاحِبِ إِبل لا يُؤَدِّي منها حَقَها، ومن حقِّها حَلْبُهَا يوم وِرْدِهَا، إلا إذا كان يوم القيامة بُطِح لها بِقَاعٍ قَرْقَرٍ. أوْفَرَ ما كانت، لا يَفْقِد منها فَصِيلا واحِدَا، تَطَؤُهُ بِأخْفَافِهَا، وتَعَضُّه بِأفْوَاهِهَا، كلما مَرَّ عليه أُولاَها، رَدَّ عليه أُخْرَاها، في يوم كان مِقْداره خمسين ألف سنة، حتى يُقضى بين العباد، فَيَرَى سَبِيلَه، إما إلى الجنة، وإما إلى النار». قيل: يا رسول الله، فالبقر والغنم؟ قال: «ولا صاحب بقر ولا غَنَم لاَ يُؤَدِّي منها حقها، إلا إذا كان يوم القيامة، بُطِح لها بِقَاعٍ قَرْقَرٍ، لا يَفْقِد منها شيئا، ليس فيها عَقْصَاء، ولا جَلْحَاء، ولا عَضْبَاءُ، تَنْطَحُهُ بِقُرُونِها، وتَطَؤُهُ بِأظْلاَفِهَا، كلَّمَا مَرَّ عليه أُولاَها، رَدَّ عليه أُخْرَاها، في يوم كان مِقداره خمسين ألف سنة حتى يُقضى بين العِباد، فَيَرَى سَبيلَه، إما إلى الجنة، وإما إلى النار». قيل: يا رسول الله فالخيل؟ قال: «الخَيل ثلاثة: هي لرَجُلٍ وِزْرٌ، وهي لرَجُل سِتْر، وهي لِرَجُلٍ أجْرٌ. فأمَّا التي هي له وِزْرٌ فَرَجُلٌ ربَطَهَا رِيَاءً وَفَخْرًا وَنِوَاءً على أهل الإسلام، فهي له وِزْرٌ، وأما التي هي له سِتْرٌ، فرَجُل ربَطَها في سبيل الله، ثم لم يَنْس حَقَّ الله في ظُهورها، ولا رقَابِها، فهي له سِتْرٌ، وأما التي هي له أَجْرٌ، فرَجُل ربَطَها في سبيل الله لأهل الإسلام في مَرْج، أو رَوْضَةٍ فما أكلت من ذلك المَرْجِ أو الرَّوْضَةِ من شيء إلا كُتِبَ له عَدَدَ ما أكَلَتْ حسنات وكتب له عَدَد أرْوَاثِهَا وَأبْوَالِهَا حسنات، ولا تَقْطَعُ طِوَلَهَا فَاسْتَنَّتْ شَرَفا أو شَرَفَيْنِ إلا كَتَب الله له عَدَد آثَارِهَا، وَأرْوَاثِهَا حسنات، ولا مَرَّ بها صَاحِبُها على نَهْر، فشَربَت منه، ولا يُريد أن يَسْقِيهَا إلا كَتَب الله له عَدَد ما شَرَبت حسنات» قيل: يا رسول الله فالحُمُرُ؟ قال: «ما أُنْزِل عليَّ في الحُمُر شيء إلا هذه الآية الفَاذَّة الجَامعة: ?فمن يعمل مثقال ذرة خيرا يره ومن يعمل مثقال ذرة شرا يره? [الزلزلة: 7 - 8]».
[صحيح.] - [متفق عليه.]
المزيــد ...

ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جو شخص سونے اور چاندی (کے نصاب) کا مالک ہو اور اس کا حق ( زکوۃ) ادا نہ کرے تو قیامت کے دن اس کے ليے آگ کی تختیاں بنائی جائیں گی۔ وہ تختیاں دوزخ کی آگ میں گرم کی جائیں گی اور ان سے اس شخص کے پہلو، اس کی پیشانی اور اس کی پشت کو داغا جائے گا اور جب بھی وہ (تختیاں) ٹھنڈی ہو جائیں گی، انھیں دوبارہ آگ میں گرم کیا جائے گا (اور ان سے داغا جائے گا۔) حساب کتاب کے اس دن میں یہ عمل برابر جاری رہے گا جس کی مقدار پچاس ہزار سال ہوگی، یہاں تک کہ بندوں کے درميان فيصلہ کرديا جائے گا۔ پھر اسے اس کا راستہ جنت یا دوزخ کی طرف دکھا دیا جائے گا۔ عرض کیا گيا: اے اللہ کے رسول! اونٹوں کا کیا حکم ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: جو شخص اونٹوں کا مالک ہو اور وہ ان کا حق (زکوۃ) ادا نہ کرے اور ان کا حق یہ بھی ہے کہ ان کو پانی پلانے کے دن (ضرورت مندوں اور مسافروں کے لیے) ان کا دودھ دوہا جائے، تو قیامت کے دن اس شخص کو اونٹوں کے سامنے ایک ہموار میدان میں منہ کے بل اوندھا ڈال دیا جائے گا اور اس کے سارے اونٹ پہلے سے بھی زیادہ فربہ حالت میں وہاں موجود ہوں گے اور ان میں سے اونٹ کا ایک بچہ تک بھی کم نہ ہوگا۔ يہ اونٹ اپنے کھروں سے اس شخص کو روندیں گے اور اپنے مونہوں سے اسے کاٹیں گے۔ ان میں سے جب ان کا پہلا اونٹ گزر جائے گا تو اس پر پھر ان کا آخر ی اونٹ دوبارہ لوٹا دیا جائے گا۔ اس دن میں جس کی مقدار پچاس ہزار سال ہو گی، یہاں تک کہ بندوں کے درمیان فیصلہ کر دیا جائے گا۔ پس وہ شخص جنت یا دوزخ کی طرف اپنی راہ لے گا۔ عرض کیا گيا: اے اللہ کے رسول! گائے اور بکریوں کا کیا حکم ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا جو شخص گایوں اور بکریوں کا مالک ہو اور ان کا حق ادا نہ کرے تو قیامت کے دن اسے ایک ہموار میدان میں اس کی گایوں اور بکریوں کے سامنے اوندھے منہ ڈال دیا جائے گا، ان میں سے کوئی بھی کم نہیں ہوگی، کسی کا سینگ نہ مڑا ہوگا، نہ ٹوٹا ہوگا اور نہ کوئی بلا سینگ ہوگی۔ وه اپنے سينگوں سے اسے ماریں گی اور اپنے کھروں سے اسے کچلیں گی اور جب ایک قطار اسے مار کچل کر چلی جائے گی تو اس کے پیچھے دوسری قطار آجائے گی، ايک ايسے دن ميں جس کی مقدار پچاس ہزار سال ہوگی یہاں تک کہ لوگوں کے درمیان فیصلہ کر دیا جائے گا اور وہ شخص جنت یا دوزخ کی طرف اپنا راستہ دیکھ لے گا۔ عرض کیا گیا: اے اللہ کے رسول! گھوڑوں کے بارے میں کیا حکم ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: گھوڑے تین قسم کے ہوتے ہیں: ایک تو وہ گھوڑے جو آدمی کے لیے بوجھ (گناہ کا باعث) ہوتے ہیں، دوسرے وہ گھوڑے جو آدمی کے لیے پردہ ہوتے ہیں اور تیسرے وہ گھوڑے جو آدمی کے لیے ثواب کا باعث بنتے ہیں۔ چنانچہ جو اس کے لیے گناہ کا باعث ہوتے ہیں یہ وہ گھوڑے ہیں جنہیں وہ ریاکاری، اظہارِ فخر اور اہل اسلام کے خلاف مقابلے کے ليے رکھتا ہے۔ یہ اس کے لیے گناہ کا باعث ہوتے ہیں۔ اور جو اس کے لیے پردہ بنتے ہیں یہ وہ ہیں جنہیں آدمی اللہ کے راستے میں جہاد کے لیے باندھتا ہے اور ان کی پیٹھ اور گردنوں کے بارے میں اللہ کے حق کو نہیں بھولتا۔ تو یہ اس کے لیے پردہ بنتے ہیں۔ اور جو اس کے لیے اجر کا باعث ہوتے ہیں، یہ وہ گھوڑے ہیں جنہیں آدمی اللہ کے راستے میں جہاد کے لیے مسلمانوں کے لیے چراگاہ یا باغ میں باندھے۔ وہ گھوڑے اس چراگاہ یا باغ میں سے جو کچھ بھی کھاتے ہیں ان کے کھانے کے بقدر اس کے لیے نیکیاں لکھی جاتی ہیں اور ان کی لید اور پیشاب کے بقدر بھی اس کے لیے نیکیاں لکھی جاتی ہیں۔ اور اگر وہ اپنی رسی کو تڑوا کر ایک ٹیلے یا دو ٹیلوں پر دوڑ کر چڑھ جائیں تو ان کے پاؤں کے نشانات کے بقدر اور اس دوران گرنے والی لید پر بھی اللہ تعالیٰ اس کے لیے نیکیاں لکھ ديتا ہے۔ پھر اگر ان کا مالک انہیں کسی نہر پر لے جائے اور وہ اس میں سے پانی پی لیں حالانکہ اس کا انہیں پانی پلانے کا ارادہ نہ ہو تو پھر بھی وہ جتنا پانی پیتے ہیں اس کے بقدر الله تعالى اس کے لیے نیکیاں لکھ ديتا ہے۔ آپ ﷺ سے دریافت کیا گیاـ اے اللہ کے رسول! گدھوں کے بارے میں کیا حکم ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: گدھوں کے بارے میں مجھ پر کوئی حکم نازل نہیں ہوا تاہم یہ منفرد اور جامع آیت موجود ہے (جس سے معلوم ہوتا ہے کہ اگر گدھوں کو نیک کام کے لئے رکھا تو اس پر بھی اجر ملے گا): ﴿فَمَن يَعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ خَيْرًا يَرَهُ، وَمَن يَعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ شَرًّا يَرَهُ﴾ ”پس جس نے ذره برابر نیکی کی ہوگی وه اسے دیکھ لے گا، اور جس نے ذره برابر برائی کی ہوگی وه اسے دیکھ لے گا“۔ (سورہ زلزال: 7-8)
صحیح - متفق علیہ

شرح

جو شخص بھی سونے و چاندی کا مالک ہو لیکن وہ ان کی زکوۃ ادا نہ کرے تو روز قیامت اس کے لیے آگ کی تختیاں بنائى جائیں گی جنہیں آگ میں تپايا جائے گا اور ان تختیوں سے اس کے پہلو، پیشانی اور پشت کو داغا جائے گا اور جوں ہی یہ ٹھنڈی ہوں گی انہیں دوبارہ آگ میں تپایا جائے گا۔ یہ سب ایک ایسے دن میں ہوگا جس کی مقدار پچاس ہزار سال ہوگی، یہاں تک کہ اللہ تعالی بندوں کے مابین فیصلہ کر دے گا اور پھر وہ شخص جنت يا دوزخ کی طرف اپنی راہ ديکھے گا۔ تو سونے اور چاندی کی ذات ميں ہر حال میں زکوۃ واجب ہے۔ اگر آدمی زکوۃ نہ نکالے تو پھر اس کی سزا وہی ہوگی جو نبی ﷺ نے ذکر کی ہے۔ آپ ﷺ نے فرمایا: اونٹوں کا مالک جو ان کا حق ادا نہیں کرتا۔” چنانچہ اگر اونٹوں کا مالک ان میں سے اللہ کی طرف سے واجب کردہ زکوۃ نہ نکالے اور جس دن وہ پانی پیتے ہیں اس دن ان کا دودھ دوہ کر راہ گیروں اور گھاٹ پر آنے والوں کو نہ پلائے، تو قیامت کے دن اسے ایک ہموار میدان میں ان اونٹوں کے سامنے اوندھا ڈال دیا جائے گا جو گنتی میں پورے اور پہلے سے بھی موٹے تازے ہوں گے۔ مسلم شریف کی ایک روایت میں یہ الفاظ ہیں کہ: یہ پہلے سے بھی بڑے ہوں گے۔ یعنی دنیا میں جتنے بڑے تھے اس سے زیادہ بڑے ہوں گے۔ ایسا اس کی سزا میں اضافہ کرنے کے لیے ہوگا بایں طور کہ وہ بہت زیادہ، طاقتور اور پورے ڈیل ڈول والے ہوں گے اور یوں روندنے میں بہت بھاری ہوں گے۔ جب بھی آگے والے اس پر سے گزر کر نکل جائیں گے تو پیچھے والے آجائیں گے۔ مسلم شریف کی ایک روایت میں ہے: جب ان کے آخر والے اس پر سے گزر چکیں گے تو پہلے والے اس پر دوبارہ لوٹا دیے جائيں گے۔ مطلب یہ کہ اسے پچاس ہزار سال تک برابر عذاب دیا جاتا رہے گا، یہاں تک کہ بندوں کے مابین فیصلہ کرديا جائے، پھر وہ شخص جنت یا جہنم کی طرف اپنا راستہ دیکھ لے گا۔ پوچھا گیا کہ : اے اللہ کے رسول! گائے اور بھیڑ بکریوں کا معاملہ ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: جو شخص گایوں اور بکریوں کا مالک ہو اور ان کا حق ادا نہ کرے تو قیامت کے دن اسے ایک ہموار میدان میں اوندھے منہ ڈال دیا جائے گا۔ جو بندہ گائے اور بکریوں کی زکوۃ ادا نہیں کرتا اس کے بارے میں بھی وہی کچھ کہا جائے گا جو اس شخص کے بارے میں کہا گیا جو اونٹوں کی زکوۃ نہیں دیتا۔ اسی طرح وہ جانور جن کے سینگ ہوتے ہیں وہ اپنے سینگوں سمیت وہاں ہوں گے تاکہ خوب زخمی کریں اور صحیح طور پر ٹکر مار سکیں آپ ﷺ سے دریافت کیا گیا کہ: اے اللہ کے رسول! گھوڑوں کا کیا حکم ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: گھوڑے تین قسم کے ہوتے ہیں، ایک وہ جو آدمی کے لیے گناہ کا موجب اور بوجھ ہوتے ہیں، دوسرے وہ جو اس کے لیے پردہ ہوتے ہیں اور تیسرے وہ جو اس کے لیے اجر کا باعث ہوتے ہیں۔ یعنی گھوڑوں کی تین قسميں ہیں: پہلی قسم کی وضاحت آپ ﷺ نے یہ فرما کر کی کہ: رہے وہ جو اس کے لیے گناہ کا باعث اور بوجھ ہوتے ہیں، تو یہ وہ گھوڑے ہیں جنہیں وہ ریاکاری، اظہارِ فخر اور اہل اسلام سے دشمنی کے لیے پالتا ہے۔ یہ اس کے لیے گناہ کا باعث ہوتے ہیں۔ یہ شخص جو اپنے گھوڑوں کو ریاکاری، دکھاوے، اظہار فخر اور مسلمانوں کی عداوت کی غرض سے پالتا ہے وہ روزِ قيامت اس کے لیے بوجھ ہوں گے۔ دوسری قسم کی تفصیل آپ ﷺ نے ان الفاظ میں فرمائی: اور رہے وہ گھوڑے جو اس کے لیے پردہ بنتے ہیں، تو یہ وہ ہیں جنہیں آدمی اللہ کے راستے میں جہاد کے لیے باندھے اور ان کی پشت اور گردنوں کے بارے میں اللہ کے حق کو فراموش نہ کرے۔ تو یہ اس کے لیے پردہ اور آڑ بنتے ہیں۔ یعنی وہ گھوڑے جسے ان کے مالک نے اپنی ضرورت کے لیے پالا بایں طور کہ ان سے پیدا ہونے والے بچوں اور ان کے دودھ سے اس نے فائدہ اٹھایا، ان پر بوجھ لادے اور اسے کرایہ پر دیے تاکہ (ان سے حاصل ہونے والی آمدن کی وجہ سے وہ اپنی ضروریات پوری کرے اور) اسے لوگوں کے سامنے دست سوال دراز نہ کرنا پڑے تو اس کا یہ عمل اللہ کی اطاعت اور اس کی خوشنودی کے لیے متصور ہوگا اور یہ اس کے لیے آڑ بنیں گے کیونکہ اس وقت لوگوں سے کچھ مانگنا، جب کہ بندے کے پاس بقدر کفایت مال موجود ہو، حرام ہے۔ “پھر اس کے ساتھ ساتھ وہ ان کی پیٹھ اور گردنوں کے بارے میں اللہ کے حق کو بھی نہیں بھولتا۔” بایں طور کہ اللہ کے راستے میں جہاد کی غرض سے یا دیگر ضروریات کے لیے ان پر سوار ہوتا ہے اور ان پر ان کی طاقت سے زیادہ بوجھ نہیں لادتا، ان کا اچھے انداز میں خیال رکھتا اور دیکھ بھال کرتا ہے اور نقصان دہ چیزوں سے ان کو بچاتا ہے تو یہ اس شخص کے ليے فقر و محتاجگی سے پردہ بن جاتے ہیں۔ تیسری قسم کے گھوڑوں کے بارے میں آپ ﷺ نے فرمایا: البتہ جو اس کے لیے اجر کا باعث ہوتے ہیں، یہ وہ گھوڑے ہیں جنہیں آدمی اللہ کے راستے میں جہاد کی غرض سے مسلمانوں کے لیے چراگاہ یا باغ میں باندھ رکھتا ہے۔ وہ گھوڑے اس چراگاہ یا باغ میں سے جو کچھ بھی کھائیں گے ان کے کھانے کے بقدر اس کے لیے نیکیاں لکھی جائیں گی اور ان کی لید اور پیشاب کے بقدر بھی اس کے لیے نیکیاں لکھی جائیں گی۔ پھر اگر ان کا مالک انہیں کسی نہر پر لے جائے اور وہ اس میں سے پانی پی لیں حالانکہ اس کا انہیں پانی پلانے کا ارادہ نہ ہو تو پھر بھی وہ جتنا پانی پیتے ہیں اس کے بقدر اس کے لیے نیکیاں لکھ دی جاتی ہیں۔ یعنی اس نے انہیں اللہ کی راہ میں جہاد کے لیے تیار کیا ہو چاہے وہ ان پر خود جہاد کرتا ہو یا پھر اس نے انہیں اللہ کے راہ میں اس مقصد کے لیے وقف کردیا ہو کہ ان پر بیٹھ کر کفار سے جہاد کیا جائے۔ آپ ﷺ کا فرمان ہے: جس نے کسی مجاہد کو جہاد کے لیے (سامان جہاد فراہم کر کے اسے) تیار کیا اس نے گویا بذات خود جہاد کیا۔ یہ شخص جس نے اپنے گھوڑے اللہ کی راہ میں اس کے دین کی سر بلندی کے لیے تیار کئے اس کے لیے ہر اس شے کے بدلے میں نیکیاں لکھی جاتی ہیں جسے وہ زمین کے سبزے میں سے کھاتا ہے یہاں تک کہ اس کے پیشاب اور لید کے بدلے میں بھی اس کے لیے نیکیاں لکھی جاتی ہیں اورتمہارا رب کسی پر ظلم نہیں کرے گا۔ اور اگر وہ اپنی رسی کو توڑ کر ایک ٹیلے یا دو ٹیلوں پر دوڑ کر چڑھ جائیں تو ان کے پاؤں کے نشانات اور اس دوران گرنے والی لید پر بھی اس کے لیے نیکیاں لکھی جاتی ہیں۔ یعنی وہ رسی جس سے اسے باندھا جاتا ہے تاکہ یہ اپنی جگہ پر چرتے رہیں انہیں توڑ کر وہ کسی اور جگہ چرنے نکل جائیں تو اس صورت میں ان کے مالک کو ان کے پاؤں کے نشانات کی تعداد کے برابر اجر ملتا ہے جن پر وہ چل کر گئے ہوں گے اور اسی طرح اس کے پیشاب اور لید پر بھی اجر ملتا ہے۔ پھر اگر ان کا مالک انہیں کسی نہر پر لے جائے اور وہ اس میں سے پانی پی لیں حالانکہ اس کا انہیں پانی پلانے کا ارادہ نہ ہو تو پھر بھی وہ جتنا پانی پیتے ہیں اس کے بقدر اس کے لئے نیکیاں لکھ دی جاتی ہیں۔ یعنی یہ اگر نہر یا رہٹ سے پانی پئیں تو اس پر بھی ان کے مالک کو اجر دیا جاتا ہے، اگرچہ انہیں پانی پلانے کی اس کی نیت نہ بھی ہو۔ وہ جس قدر پانی پیئں گے اسی قدر ان کے مالک کو نیکیاں ملیں گی، حالانکہ اس کا انہیں پانی پلانے کا کوئی ارادہ نہیں تھا۔ ایسا اس لیے ہے کیونکہ (اجر کا مستحق ہونے کے لیے) اس کی سابقہ نیت ہی کافی ہے۔ یعنی اللہ کے راستے میں جہاد کے لیے انہیں تیار کرنے کی نیت، سارے عمل کے ساتھ شروع سے لے کر آخر تک ہمہ وقت ہونا ضروری نہیں ہے، جب تک کہ آدمی اس عمل سے نکل کر نیت ختم نہ کردے۔ آپ ﷺ سے پوچھا گیا: اے اللہ کے رسول! گدھوں کا کیا حکم ہے؟ یعنی زکوۃ کے واجب ہونے کے بارے میں ان کا حکم وہی ہے جو چوپایوں کا ہے یا پھر یہ گھوڑوں کی مانند ہیں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: گدھوں کے بارے میں مجھ پر کوئی حکم نازل نہیں ہوا ہے۔ یعنی ان کے بارے میں کوئی معین نص نازل نہیں ہوئی ہے، تاہم یہ منفرد اور جامع آیت ضرور نازل ہوئی ہے جو عام ہے اور ہر خیر اور نیکی کے عمل کو شامل ہے: ﴿فَمَن يَعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ خَيْرًا يَرَهُ، وَمَن يَعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ شَرًّا يَرَهُ﴾ ”پس جس نے ذره برابر نیکی کی ہوگی وه اسے دیکھ لے گا، اور جس نے ذره برابر برائی کی ہوگی وه اسے دیکھ لے گا“۔ (متفق علیہ) یہ آیت تمام قسم کے خیر وشر کے ليے عام ہے۔ کیونکہ جب آدمی ذرہ برابر بھی عمل دیکھے گا جو بہت ہی معمولی اور حقير شے ہوتی ہے اور اس پر اسے بدلہ ملے گا تو اس سے بڑی چیزوں پر تو اسے بطریق اولی جزا وسزا ملے گی۔ جیسا کہ اللہ تعالی کا فرمان ہے: ﴿يَوْمَ تَجِدُ كُلُّ نَفْسٍ مَّا عَمِلَتْ مِنْ خَيْرٍ مُّحْضَرًا وَمَا عَمِلَتْ مِن سُوءٍ تَوَدُّ لَوْ أَنَّ بَيْنَهَا وَبَيْنَهُ أَمَدًا بَعِيدًا﴾ ”جس دن ہر نفس (شخص) اپنی کی ہوئی نیکیوں کو اور اپنی کی ہوئی برائیوں کو موجود پالے گا، آرزو کرے گا کہ کاش! اس کے اور برائیوں کے درمیان بہت ہی دوری ہوتی“۔

ترجمہ: انگریزی زبان فرانسیسی زبان اسپینی ترکی زبان انڈونیشیائی زبان بوسنیائی زبان بنگالی زبان چینی زبان فارسی زبان تجالوج ہندوستانی ویتنامی ایغور کردی پرتگالی
ترجمہ دیکھیں