عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:
«نَحْنُ آخِرُ الأُمَمِ، وَأَوَّلُ مَنْ يُحَاسَبُ، يُقَالُ: أَيْنَ الأُمَّةُ الأُمِّيَّةُ وَنَبِيُّهَا؟ فَنَحْنُ الآخِرُونَ الأَوَّلُونَ».

[صحيح] - [رواه ابن ماجه] - [سنن ابن ماجه: 4290]
المزيــد ...

ابن عباس رضي الله عنهما سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا:
”ہم سب سے آخری امت ہیں، اور سب سے پہلے ہمارا حساب وکتاب ہوگا، کہا جائے گا: امی امت اور اس کا نبی کہاں ہے؟ چنانچہ ہم ہی سب سے پیچھے اور سب سے آگے ہیں۔“

[صحيح] - [رواه ابن ماجه] - [سنن ابن ماجه - 4290]

شرح

نبی ﷺ نے خبر دی کہ آپ کی امت وجود اور زمانے کے اعتبار سے آخری امت ہے اور یہی وہ پہلی امت ہے جس کا بروز قیامت سب سے پہلے حساب وکتاب ہوگا۔ چنانچہ بروز قیامت کہا جائے گا: ”امی امت اور اس کے نبی کہاں ہیں؟“ یہ نسبت آپ ﷺ کے امی ہونے یعنی پڑھنے اور لکھنے سے ناواقفیت کی طرف ہے۔ چنانچہ انہیں سب سے پہلے حساب کے لیے بلایا جائے گا، ہم زمانے اور وجود کے اعتبار سے سب سے پیچھے ہیں، اور قیامت کے دن حساب وکتاب میں اور جنت میں داخل ہونے میں سب سے آگے ہوں گے۔

حدیث کے کچھ فوائد

  1. سابقہ امتوں پر اس امت کی فضیلت۔
ترجمہ دیکھیں
زبان: انگریزی زبان انڈونیشیائی زبان بنگالی زبان مزید ۔ ۔ ۔ (28)
مزید ۔ ۔ ۔