1. مرکزی
  2. زمرہ جات (کٹیگریز)
  3. عقیدہ

حدیث شیطان تم میں سے کسی کے پاس آتا ہے اور اس سے کہتا ہے: یہ کس نے پیدا کیا؟ وہ کس نے پیدا کیا؟ حتی کہ سوال کرنے لگتا ہے کہ تیرے رب کو کس نے پیدا کیا؟ لہٰذا جب نوبت یہاں تک آپہنچے تو اسے اللہ تعالیٰ سے پناہ طلب کرنا چاہیے اور اس شیطانی خیال کو ترک کر دینا چاہیے"۔

عَن أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:
«يَأْتِي الشَّيْطَانُ أَحَدَكُمْ فَيَقُولُ: مَنْ خَلَقَ كَذَا؟ مَنْ خَلَقَ كَذَا؟ حَتَّى يَقُولَ: مَنْ خَلَقَ رَبَّكَ؟ فَإِذَا بَلَغَهُ فَلْيَسْتَعِذْ بِاللهِ وَلْيَنْتَهِ».

ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
"شیطان تم میں سے کسی کے پاس آتا ہے اور اس سے کہتا ہے: یہ کس نے پیدا کیا؟ وہ کس نے پیدا کیا؟ حتی کہ سوال کرنے لگتا ہے کہ تیرے رب کو کس نے پیدا کیا؟ لہٰذا جب نوبت یہاں تک آپہنچے تو اسے اللہ تعالیٰ سے پناہ طلب کرنا چاہیے اور اس شیطانی خیال کو ترک کر دینا چاہیے"۔

صحيح متفق عليه صحيح البخاري - 3276

شرح

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس حدیث میں ان سوالات کا کارگر علاج بیان فرمایا ہے جن کے ذریعہ شیطان مؤمن کو وسوسہ میں مبتلا کرتا ہے۔ شیطان وسوسہ ڈالتا ہے کہ یہ کس نے پیدا کیا؟ وہ کس نے پیدا کیا؟ آسمان کس نے بنایا؟ زمین کس نے تخلیق کی؟ ایسے میں مؤمن اپنے دین، فطرت اور عقل کی روشنی میں ان وسوسوں کا جواب دیتے ہوئے کہتا ہے کہ ان سب کو اللہ نے پیدا کیا ہے۔ لیکن شیطان انہی وسوسوں پر بس نہیں کرتا، بلکہ ایک کے بعد دوسرا سوال لاتا رہتا ہے۔ یہاں تک کہ اس سوال تک پہنچ جاتا ہے کہ تیرے رب کو کس نے پیدا کیا؟ ایسی صورت میں مؤمن کو چاہیے کہ ان وسوسوں کا مقابلہ تین چیزوں کے ذریعے کرے :
اللہ پر ایمان کے ذریعے،
شیطان سے اللہ کی پناہ طلب کرکے
اور وسوسوں کے پیچھے بھاگنے سے اپنے آپ کو روک کر۔

حدیث کے بعض فوائد

  1. شیطانی وسوسوں سے اعراض کرنا چاہیے اور ان میں غور وفکر نہیں کرنا چاہیے، بلکہ اللہ تعالی کی طرف رجوع کرکے ان وسوسوں کو دور کرنا چاہیے۔
  2. شریعت کے خلاف جو بھی وسوسے انسان کے دل میں پیدا ہوتے ہیں، وہ شیطانی کی طرف سے ہوتے ہیں۔
  3. اللہ کی ذات میں غور وفکر کرنے کی ممانعت آئی ہے اور اللہ کی مخلوقات اور اس کی نشانیوں میں غور وفکر کرنے کی ترغیب دی گئی ہے۔

تراجم کا مشاہدہ

68 زبان
EN English الإنجليزية
ES Español الإسبانية
ID Indonesia الإندونيسية
UG ئۇيغۇرچە الأيغورية
BN বাংলা البنغالية
FR Français الفرنسية
TR Türkçe التركية
RU Русский الروسية
BS Bosanski البوسنية
SI සිංහල السنهالية
HI हिन्दी الهندية
ZH 中文 الصينية
FA فارسی الفارسية
VI Tiếng Việt الفيتنامية
TL Tagalog تجالوج
KU Kurdî الكردية
HA Hausa الهوسا
PT Português البرتغالية
ML മലയാളം المليالم
TE తెలుగు التلغو
SW Kiswahili السواحيلية
TA தமிழ் التاميلية
MY မြန်မာ البورمية
TH ไทย التايلندية
DE Deutsch الألمانية
JA 日本語 اليابانية
PS پښتو بشتو
AS অসমীয়া الأسامية
SQ Shqip الألبانية
SV Svenska السويدية
AM አማርኛ الأمهرية
NL Nederlands الهولندية
GU ગુજરાતી الغوجاراتية
KY Кыргызча القيرقيزية
NE नेपाली النيبالية
YO Yorùbá اليوروبا
LT Lietuvių الليتوانية
PRS دری الدرية
SR Српски الصربية
SO Soomaali الصومالية
TG тоҷикӣ الطاجيكية
RW Kinyarwanda الكينياروندا
RO Română الرومانية
HU Magyar المجرية
CS Čeština التشيكية
MOS Moore الموري
MG Malagasy المالاجاشية
FF Fulfulde الفولانية
IT Italiano الإيطالية
OM Oromoo الأورومو
KN ಕನ್ನಡ الكانادا
WO Wolof الولوف
BG Български البلغارية
AZ Azərbaycan الأذربيجانية
EL Ελληνικά اليونانية
UZ O‘zbek الأوزبكية
UK Українська الأوكرانية
KA ქართული الجورجية
LN Lingala اللينجالا
MK Македонски المقدونية
KM ភាសាខ្មែរ الخميرية
BM Bambara البامبارية
PA ਪੰਜਾਬੀ البنجابية
MR मराठी الماراثية
DA Dansk الدنماركية
RN Kirundi الكيروندي
KMR Kurmancî الكرمنجية
MS Bahasa Melayu الملايو