«صَلَاةُ الرَّجُلِ فِي جَمَاعَةٍ تَزِيدُ عَلَى صَلَاتِهِ فِي بَيْتِهِ وَصَلَاتِهِ فِي سُوقِهِ بِضْعًا وَعِشْرِينَ دَرَجَةً، وَذَلِكَ أَنَّ أَحَدَهُمْ إِذَا تَوَضَّأَ فَأَحْسَنَ الْوُضُوءَ، ثُمَّ أَتَى الْمَسْجِدَ لَا يَنْهَزُهُ إِلَّا الصَّلَاةُ، لَا يُرِيدُ إِلَّا الصَّلَاةَ، فَلَمْ يَخْطُ خَطْوَةً إِلَّا رُفِعَ لَهُ بِهَا دَرَجَةٌ، وَحُطَّ عَنْهُ بِهَا خَطِيئَةٌ، حَتَّى يَدْخُلَ الْمَسْجِدَ، فَإِذَا دَخَلَ الْمَسْجِدَ كَانَ فِي الصَّلَاةِ مَا كَانَتِ الصَّلَاةُ هِيَ تَحْبِسُهُ، وَالْمَلَائِكَةُ يُصَلُّونَ عَلَى أَحَدِكُمْ مَا دَامَ فِي مَجْلِسِهِ الَّذِي صَلَّى فِيهِ، يَقُولُونَ: اللهُمَّ ارْحَمْهُ، اللهُمَّ اغْفِرْ لَهُ، اللهُمَّ تُبْ عَلَيْهِ، مَا لَمْ يُؤْذِ فِيهِ، مَا لَمْ يُحْدِثْ فِيهِ». المزيد
ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا:
"ایک آدمی کا جماعت کے ساتھ نماز ادا کرنا اس کے گھر اور بازار میں نماز پڑھنے سے تیئیس گنا سے زائد افضل ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ جب کوئی شخص وضو کرتا ہے اور بالکل اچھی طرح وضو کرتا ہے، پھر مسجد کی طرف آتا ہے اور نماز کے سوا اس کا کوئی محرک اور کوئی ارادہ نہیں ہوتا ہے، تو جتنے قدم اٹھاتا ہے، ہر قدم کے بدلے میں اس کا ایک درجہ بلند کیا جاتا ہے اور ایک گناہ مٹادیا جاتا ہے، یہاں تک کہ وہ مسجد میں داخل ہو جاتا ہے۔ جب وہ مسجد میں داخل ہو جاتا ہے تو گویا وہ تب تک برابر نماز ہی میں ہوتا ہے، جب تک نماز اس کو روکے رکھتی ہے۔ فرشتے تم میں سے ایک شخص کے لیے برابر دعائیں کرتے رہتے ہیں، جب تک وہ اس جگہ پر بیٹھا رہتا ہے، جہاں اس نے نماز پڑھی ہے۔ فرشتے کہتے ہیں: ”اے اللہ! اس پر رحم فرما۔ اے اللہ! اس (کے گناہ) بخش دے۔ اے اللہ! اس کی توبہ قبول فرما۔ فرشتوں کی یہ دعائیں اس کے حق میں تب تک جاری رہتی ہیں، جب تک وہ وہاں ایذا نہیں دیتا، جب تک وہ بے وضو نہيں ہو جاتا۔“