عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:
«لَا يَزَالُ النَّاسُ بِخَيْرٍ مَا عَجَّلُوا الْفِطْرَ».

سهل بن سعد رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
"لوگ اس وقت تک بھلائی میں رہیں گے، جب تک جلد افطار کرتے رہیں گے۔"

صحيح متفق عليه صحيح مسلم - 1098

شرح

اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے بتایا کہ لوگ اس وقت تک بھلائی میں رہیں گے، جب تک سورج ڈوبنے کا یقین ہو جانے کے فورا بعد افطار کر لیا کریں گے۔ اور ایسا سنت کى پیروى اور اس کی متعین کردہ حد پر رک جانے کى وجہ سے ہوگا۔

حدیث کے بعض فوائد

  1. نووی کہتے ہيں: اس حدیث میں سورج ڈوبنے کا یقین ہو جانے کے بعد جلدی افطار کر لینے کی ترغیب دی گئی ہے۔ اس حدیث کے معنی یہ ہیں کہ اس امت کے اندر اس وقت تک نظم و ضبط برقرار رہے گا اور وہ خیر وبرکت سے محظوظ ہوتے رہيں گے، جب تک اس سنت پر کاربند رہيں گے۔ اور اس کا افطار میں تاخیر کرنا اس بات کی علامت ہوگی کہ وہ بگاڑ کی راہ پر گامزن ہونے جا رہی ہے۔
  2. لوگوں کے اندر خیر اتباع سنت کی وجہ سے باقی رہے گی۔ جیسے ہی سنت کے ساتھ چھیڑ چھاڑ شروع ہوگی، بگاڑ کی راہيں کھلنے لگیں گی۔
  3. اہل کتاب اور اہل بدعت کی مخالفت، جو افطار تاخیر سے کرتے ہيں۔
  4. ابن حجر کہتے ہیں: اس حدیث کے اندر افطار میں دیر نہ کرنے کی وجہ بیان کر دی گئی ہے۔ مہلب کہتے ہیں: اس کے اندر حکمت یہ ہے کہ دن کو دراز کر کے رات کے نہ اندر لے جایا جائے۔ یہ روزے دار کے لیے ‌زیادہ راحت بخش ہے اور اس سے اس کے اندر عبادت کی طاقت زیادہ آتی ہے۔ لیکن اس کے ساتھ ہی علما کا اس بات پر بھی اتفاق ہے کہ جلدی اس کے بعد ہی کی جائے گی، جب اپنی آنکھ سے دیکھ لینے یا عدالت سے متصف دو شخصوں کی گواہی کے بعد اس بات کا یقین حاصل ہو جائے کہ سورج ڈوب چکا ہے۔ راجح قول کے مطابق صفت عدالت سے متصف ایک شخص کی گواہی بھی کافی ہے۔
  5. ابن حجر کہتے ہیں: تنبیہ: آج کے زمانے میں رونما ہونے والی ایک بہت ہی غلط بدعت یہ ہے کہ ماہ رمضان میں فجر سے لگ بھگ بیس منٹ پہلے دوسری اذان دے دی جاتی ہے اور یہ بتانے کے لیے کہ اب روزے کا ارادہ رکھنے والوں کے لیے کھانا پینا حرام ہو چکا ہے، چراغ بجھا دیے جاتے ہيں۔ اور ایسا اس بدعت کے گھڑنے والے کے اس گمان کى بنیاد پر ہوتا ہے کہ یہ عبادت میں احتیاط کے لئے کیا جاتا ہے۔ جب کہ اس حقیقت سے صرف معدودے چند افراد ہى واقف ہوتے ہیں۔ اور اس بدعت کى وجہ سے ان کے اندر یہ بدعت بھى در آئى کہ وہ اب سورج ڈوبنے کے کچھ دیر بعد ہی اذان دیتے ہیں اس گمان کى بنیاد پر کہ صحیح معنوں میں وقت کو پالیں۔ اس طرح افطار کو وقت سے پیچھے کردیا اور سحر کو آگے کردیا اور سنت کی مخالفت کے شکار ہو گئے۔ اور اسى لئے ان کے اندر خیر کم ہوگیا اور ان کے اندر شر کی گرم بازاری ہوگئى۔ اللہ المستعان۔

تراجم کا مشاہدہ

47 زبان
EN English الإنجليزية
ES Español الإسبانية
ID Indonesia الإندونيسية
UG ئۇيغۇرچە الأيغورية
BN বাংলা البنغالية
TR Türkçe التركية
RU Русский الروسية
BS Bosanski البوسنية
SI සිංහල السنهالية
HI हिन्दी الهندية
ZH 中文 الصينية
FA فارسی الفارسية
VI Tiếng Việt الفيتنامية
TL Tagalog تجالوج
KU Kurdî الكردية
HA Hausa الهوسا
PT Português البرتغالية
ML മലയാളം المليالم
TE తెలుగు التلغو
SW Kiswahili السواحيلية
TA தமிழ் التاميلية
MY မြန်မာ البورمية
TH ไทย التايلندية
DE Deutsch الألمانية
PS پښتو بشتو
AS অসমীয়া الأسامية
SQ Shqip الألبانية
SV Svenska السويدية
AM አማርኛ الأمهرية
NL Nederlands الهولندية
GU ગુજરાતી الغوجاراتية
NE नेपाली النيبالية
PRS دری الدرية
SR Српски الصربية
RO Română الرومانية
HU Magyar المجرية
MOS Moore الموري
MG Malagasy المالاجاشية
OM Oromoo الأورومو
KN ಕನ್ನಡ الكانادا
WO Wolof الولوف
UK Українська الأوكرانية
KA ქართული الجورجية
MK Македонски المقدونية
KM ភាសាខ្មែរ الخميرية
PA ਪੰਜਾਬੀ البنجابية
MR मराठी الماراثية