1. مرکزی
  2. زمرہ جات (کٹیگریز)
  3. فقہ و اصولِ فقہ

حدیث جس نے کسی روزے دار کو افطار کرایا، اسے روزے دار کے برابر ثواب ملے گا۔

عن زيد بن خالد الجهني رضي الله عنه عن النبي صلى الله عليه وسلم أنه قال: «مَنْ فَطَّرَ صائمًا، كان له مِثْلُ أجْرِهِ، غَيْرَ أنَّهُ لاَ يُنْقَصُ مِنْ أجْرِ الصَّائِمِ شَيْءٌ».

زید بن خالد الجھنی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا:”جس نے کسی روزے دار کو افطار کرایا، اسے روزے دار کے برابر ثواب ملے گا اور روزے دار کے اجر وثواب میں سے کوئی کمی نہ ہو گی“۔

صحیح اسے ابنِ ماجہ نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام ترمذی نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام نسائی نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام احمد نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام دارمی نے روایت کیا ہے۔

شرح

اس حدیث میں روزے دار کو افطار کرانے کی فضیلت ، اس کے مستحب ہونے کا بیان اور اس عمل کی ترغیب موجود ہے۔ جو اس عمل کو انجام دے گا، اس کے لیے روزے دار کے برابر اجر و ثواب لکھا جائے گا اور روزے دار کے اجر و ثواب میں کوئی کمی نہیں کی جائے گی۔ در اصل یہ اللہ تعالیٰ کی جانب سے اپنے بندوں پر برسنے والے فضل و احسان کا ایک مظہر ہے؛ کیوں کہ اس عمل کے نتیجے میں نیکی اور تقویٰ کے کاموں میں باہمی تعاون، محبت پیدا کرنے اور مسلمانوں کے مابین باہمی مفادات کو ملحوظ رکھنے، جیسے جذبات جنم لیتے ہیں۔ حدیث کا ظاہری مطلب یہی ہے کہ اگر کوئی انسان کسی روزے دار کو ایک کھجور ہی سے افطار کرائے، تو اس کو اس روزے دار کے برابر اجر و ثواب عطا کیا جائے گا۔ اس لیے بندۂ مومن کو چاہیے کہ وہ اپنی حیثیت و طاقت کے اعتبار سے روزے داروں کو افطار کرائے۔ اس عمل کی اہمیت اس وقت مزید بڑھ جاتی ہے، جب روزے دار محتاج و ضرورت مند ہوں یا انھیں افطار کرانے والے والے میسر ہی نہ ہوں۔

تراجم کا مشاہدہ

14 زبان
EN English الإنجليزية
ES Español الإسبانية
ID Indonesia الإندونيسية
UG ئۇيغۇرچە الأيغورية
FR Français الفرنسية
TR Türkçe التركية
RU Русский الروسية
BS Bosanski البوسنية
SI සිංහල السنهالية
HI हिन्दी الهندية
ZH 中文 الصينية
FA فارسی الفارسية
KU Kurdî الكردية
PT Português البرتغالية