آپ مجھے بتلائیے اگر میں فرض نمازوں کو ادا کروں اور رمضان کے روزے رکھوں اور حلال کو حلال اور حرام کو حرام سمجھوں
”جس نے ایمان کے ساتھ اور اجر و ثواب کے حصول کی نیت سے رمضان کا روزہ رکھا، اس کے سابقہ گناہ بخش دیے جائیں گے۔“
جوایمان کے ساتھ اور اجر و ثواب کے حصول کی نیت سے شب قدر میں قیام کرتا ہے، اس کے پچھلے گناہ معاف کر دیے جائیں گے"۔
نبی ﷺ ہر رمضان میں دس دن کا اعتکاف فرماتے تھے، اور جس سال آپ ﷺ کی وفات ہوئی اس سال آپ ﷺ نے بیس دن کا اعتکاف کیا۔
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے : آدم کی اولاد کا ہر عمل اس کے لیے ہے، سوائے روزے کے کہ وہ صرف میرے لیے ہے اور میں ہی اس کا بدلہ دوں گا۔
رسول اللہ ﷺ رمضان کے آخری دس دنوں میں عبادت میں جنتی محنت کرتے تھے، اتنی دوسرے دنوں میں نہيں کرتے تھے۔
ایک شخص نے آپ ﷺ سے سفر میں روزہ رکھنے کے متعلق پوچھا، تو آپ ﷺ نے فرمایا: اگر چاہو تو روزہ رکھو اور اگر چاہو تو روزہ نہ رکھو۔
فجر ہو جاتی اور رسول اللہ ﷺ اپنی بیویوں کے ساتھ جماع کرنے کی وجہ سے جنبی ہوتے تھے۔ پھر آپ ﷺ غسل فرماتے اور روزہ رکھتے۔
رسول اللہ ﷺ نے دو دن یعنی عید الفطر اور عید الاضحی کے دنوں میں روزہ رکھنے سے، ایک کپڑے کو سارے بدن پر لپیٹنے سے، ایک کپڑے میں گوٹ مار کر بیٹھنے سے اور صبح اور عصر کے بعد نماز پڑھنے سے منع فرمایا ہے
مجھے میرے دوست ( نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ) نے تین چیزوں کی وصیت کی؛ ہر مہینے میں تین دن روزہ رکھنے، چاشت کی دو ركعت نماز پڑھنے اور سونے سے پہلے وتر پڑھنے کی۔
جب اِدھر (مشرق) سے رات پڑنا شروع ہو جائے اور اُدھر (مغرب) سے دن رخصت ہونا شروع ہو جائے تو اس وقت روزہ دار افطار کر لے۔
یا رسول اللہ! میں نے زمانۂ جاہلیت میں نذر مانی تھی کہ میں ایک رات -اور دوسری روایت کے مطابق ایک دن- مسجد حرام میں اعتکاف کروں گا۔ آپ ﷺ نے فرمایا: اپنی نذر کو پورا کرو۔
”جب تم (رمضان کا) چاند دیکھو تو روزہ رکھو اور جب (شوال کا) چاند دیکھو تو روزہ رکھنا بند کر دو۔ (اور) اگر مطلع ابر آلود ہو تو اس کا اندازہ لگالو۔ (یعنی مہینے کے تیس دن پورے کر لو)“۔
اے نوجوانوں کی جماعت! جو تم میں سے نکاح کرنے کی طاقت رکھتا ہو وہ نکاح کر لے۔ کیوں کہ نکاح نظر کو نیچی رکھنے اور شرم گاہ کو (بُرائی سے) محفوظ رکھنے کا ذریعہ ہے اور اگر کسی میں نکاح کرنے کی طاقت نہ ہو، تو اسے چاہیے کہ روزے رکھے۔ کیوں کہ روزہ اس کی شہوت کو ختم کر دیتا ہے۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سب سے زیادہ سخی انسان تھے اور آپ سب سے زیادہ سخی رمضان میں ہوا کرتے تھے، جب جبریل عليہ السلام آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے ملاقات کرتے
جب رمضان آتا ہے تو جنت کے دروازے کھول دیے جاتے ہیں، جہنم کے دروازے بند کر دیے جاتے ہیں اور شیطانوں کو بیڑیاں پہنا دی جاتی ہیں۔
کیا وجہ ہے کہ حائضہ روزوں کی قضا تو کرتی ہے، لیکن نماز کی قضا نہیں کرتی؟ وہ کہنے لگیں کہ کیا تو حروریہ ہے؟ میں نے کہا کہ میں حروریہ نہیں ہوں، بلکہ صرف پوچھ رہی ہوں۔ اس پر آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے فرمایا کہ ہمیں حیض آتا، تو ہمیں روزوں کی قضا کا حکم دیا جاتا البتہ نماز کی قضا کا حکم نہیں دیا جاتا تھا۔
جنت میں ایک دروازہ ہے جسے ریان کہا جاتا ہے۔ روزِ قیامت اس سے صرف روزے دار داخل ہوں گے۔ ان کے سوا اس سے کوئی اور داخل نہیں ہو گا۔ کہا جائے گا: روزہے دار کہاں ہیں؟ تو وہ کھڑے ہوں گے (اور اس سے داخل ہو جائیں گے)، ان کے علاوہ اس سے کوئی اور داخل نہیں ہوگا۔ جب وہ داخل ہو جائیں گے تو اسے بند کر دیا جائے گا۔ چنانچہ کوئی اور اس سے داخل نہیں ہوگا
رسول اللہ ﷺ کسی مہینے میں روزے نہ رکھتے، تو ہمیں یوں لگنے لگتا کہ آپ ﷺ اس مہینے میں روزہ رکھیں گے ہی نہیں اور روزہ رکھنا شروع کر دیتے، تو ہمیں محسوس ہونے لگتا کہ آپ ﷺ اس میں سے کوئی دن بھی بنا روزے کے نہیں رہیں گے۔ رات کو آپ اگر رسول اللہ ﷺ کو نماز پڑھتے ہوئے دیکھنا چاہتے، تو دیکھ لیتے اور اگر سوتے ہوئے دیکھنا چاہتے، تو بھی دیکھ لیتے۔
جس نے میرے ساتھ اعتکاف کیا ہو وہ اب آخری عشرے میں بھی اعتکاف کرے۔ مجھے یہ (قدر کی) رات دکھائی گئی، لیکن پھر بھلا دی گئی۔ میں نے یہ بھی دیکھا کہ اسی کی صبح کو میں کیچڑ میں سجدہ کر رہا ہوں، اس لیے تم لوگ اسے آخری عشرہ کی طاق رات میں تلاش کرو۔
ہم رمضان کے مہینے میں سخت گرمی کے وقت رسول اللہ ﷺ کے ساتھ نکلے، ہم میں سے بعض نے اپنے سر پر سخت گرمی کی وجہ سے ہاتھ رکھ لیا تھا۔ ہمارے درمیان صرف اللہ کے رسول ﷺ اور عبداللہ بن رواحہ رضی اللہ عنہ روزے سے تھے۔
رسول اللہ ﷺ نے صوم وصال سے منع فرمایا۔ صحابہ رضی اللہ عنہم نے عرض کی کہ آپ بھی تو وصال کرتے ہیں؟ آپ ﷺ نے فرمایا کہ میں تمھاری طرح نہیں ہوں۔ مجھے تو کھلایا اور پلایا جاتا ہے۔
میری ماں وفات پا گئی ہے اور اس کے ایک مہینے کے روزے رہ گئے ہیں۔ کیا میں اس کی طرف سے ان کی ادائیگی کر سکتا ہوں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: اگر تمہاری ماں پر کوئی قرض واجب الادا ہوتا تو کیا تم اس کی طرف سے اسے ادا کرتے؟ اس نے جواب دیا کہ: ہاں۔ اس پر آپ ﷺ نے فرمایا: اللہ کا قرض ادائیگی کا زیادہ حق دار ہے۔
اللہ کے نزدیک سب سے زیادہ پسندیدہ روزے داود علیہ السلام کے روزے ہیں۔ اور اللہ کے نزدیک سب سے زیادہ پسندیدہ نماز داود علیہ السلا کی نماز ہے۔ وہ آدھی رات تک سوتے اور پھر اس کے ایک تہائی حصے میں قیام کرتے اور جب چھٹا حصہ باقی رہ جاتا تو اس میں سو جایا کرتے تھے۔ اور آپ علیہ السلام ایک دن روزہ رکھتے اور ایک دن بغیر روزے کے رہا کرتے تھے۔
میرے بھائی داؤد علیہ السلام کے روزے -آدھے سال کے روزے- سے زیادہ روزہ جائز نہیں۔ ایک دن کا روزہ رکھ اور ایک دن کا روزہ چھوڑ دیا کر۔
جو شخص اللہ کے راستے ميں ايک دن کا روزہ رکھتا ہے، اللہ تعالی اس کے اور جہنم کی آگ کے درميان آسمان اور زمين کے درمیانی فاصلے کے بقدر خندق ڈال ديتا ہے۔
شیطان انسان کے اندر خون کی طرح دوڑتا رہتا ہے۔ اس لیے مجھے ڈر لگا کہ کہیں تمھارے دلوں میں بھی کوئی بری بات نہ ڈال دے۔
سوموار اور جمعرات کو (اللہ کے ہاں) اعمال پيش کیے جاتے ہيں، لہٰذا مجھے يہ پسند ہے کہ ميرا عمل (بارگاہِ الٰہی میں) پيش کیا جائے تو ميں روزے سے ہوں
جو شخص جہاد فی سبیل اللہ کے دوران ایک دن کا روزہ رکھتا ہے اللہ تعالی اس کا چہرہ جہنم سے ستّر سال دور کر دیتا ہے۔
ہم نے رسول الله ﷺ کے ساتھ سحری کی۔ پھر آپ ﷺ (صبح کی) نماز کے لیے کھڑے ہوئے۔ انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے زید رضی اللہ عنہ سے پوچھا کہ سحری اور اذان میں کتنے وقت کا وقفہ ہوتا تھا؟ تو انہوں نے کہا کہ پچاس آیتیں پڑھنے کے بقدر۔
اللہ کے نبی ﷺ وفات تک رمضان کے آخری عشرے میں اعتکاف کرتے رہے۔ آپ کے بعد آپ کی ازواج نے بھی اعتکاف کیا۔
میں نے عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے ساتھ نماز عید ادا کی۔ انہوں نے فرمایا کہ یہ دو دن ایسے ہیں، جن میں روزہ رکھنے سے رسول اللہ ﷺ نے منع فرمایا ہے۔ ایک ( رمضان کے ) روزوں کے بعد افطار کا دن ( عید الفطرکا دن )، اور دوسرا وہ دن جس میں تم اپنی قربانی کا گوشت کھاتے ہو (یعنی عید الاضحی کا دن)۔
’’میں دیکھ رہا ہوں کہ تمہارے سب کے خواب آخری سات تاریخوں پر متفق ہو گئے ہیں۔ اس لیے جسے اس (شب قدر) کی تلاش ہو وہ آخری سات راتوں میں تلاش کرے‘‘۔
جب رمضان کا آخری عشرہ آتا، تو رسول اللہ ﷺ شب بیداری کرتے، اپنے گھر والوں کو اس کے لیے جگاتے اور پوری کوشش وتن دہی کے ساتھ عبادت کرتے۔
جس نے ہمیشہ روزہ رکھا، اس نے دراصل روزہ ہی نہیں رکھا۔ مہینے کے تین روزے سال بھر روزہ رکھنے کی طرح ہیں