عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُما قَالَ:
كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي سَفَرٍ، فَرَأَى زِحَامًا وَرَجُلًا قَدْ ظُلِّلَ عَلَيْهِ، فَقَالَ: «مَا هَذَا؟»، فَقَالُوا: صَائِمٌ، فَقَالَ: «لَيْسَ مِنَ البِرِّ الصَّوْمُ فِي السَّفَرِ»، وَفِي لَفْظٍ لِمُسلِمٍ: «عَلَيْكُمْ بِرُخْصَةِ اللهِ الَّذِي رَخَّصَ لَكُمْ».

[صحيح] - [متفق عليه] - [صحيح البخاري: 1946]
المزيــد ...

جابر بن عبد الله رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، انھوں نے فرمایا:
رسول اللہ ﷺ ایک سفر میں تھے، تو آپ نے ایک جگہ لوگوں کا ہجوم دیکھا کہ ایک شخص پر لوگوں نے سایہ کر رکھا ہے، آپ ﷺ نے دریافت فرمایا: ’’یہ کیا ہے؟‘‘، تو لوگوں نے کہا: روزہ دار ہے۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ’’سفر میں روزہ رکھنا کوئی نیکی نہیں ہے۔‘‘، مسلم کی ایک روایت کے یہ الفاظ ہیں: ’’اللہ نے جو تمہیں رخصت دی ہے اس پر عمل کرو۔‘‘

[صحيح] - [متفق عليه] - [صحيح البخاري - 1946]

شرح

رسول اللہ ﷺ ایک سفر میں تھے، تو آپ نے ایک شخص کو دیکھا جس کے گرد لوگ جمع تھے اور دھوپ کی شدت اور پیاس کی کثرت کی وجہ سے اس پر سایہ کیا ہوا تھا۔ آپ ﷺ نے دریافت فرمایا: ”اسے کیا ہوا ہے؟“ لوگوں نے کہا: ”یہ روزہ دار ہے“۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”سفر میں روزہ رکھنا کوئی نیکی نہیں ہے، اللہ نے جو تمہیں رخصت دی ہے اس پر عمل کرو“۔

حدیث کے کچھ فوائد

  1. شریعتِ اسلامیہ کی آسانی کا بیان۔
  2. سفر کے دوران روزہ رکھنے کا جواز، اور روزہ نہ رکھنے کی رخصت پر عمل کرنے کا جواز۔
  3. سفر میں اگر مشقت ہو تو روزہ رکھنا مکروہ ہے، لیکن اگر یہ ہلاکت کی حد تک پہنچ جائے تو حرام ہے۔
  4. نووی کہتے ہيں: ”سفر میں روزہ رکھنا کوئی نیکی نہیں ہے۔“ اس کا مطلب یہ ہے کہ جب تمہیں اس سے مشقت ہو اور ضرر کا اندیشہ ہو، حدیث کا سیاق اسی تاویل کا تقاضا کرتا ہے۔
  5. نبی ﷺ کا اپنے صحابہ کرام کا خیال رکھتے اور ان کی خبر گیری کرتے تھے۔
ترجمہ دیکھیں
زبان: انگریزی زبان اسپینی انڈونیشیائی زبان مزید ۔ ۔ ۔ (33)