عَنْ عَائِشَةَ أُمِّ المُؤْمنينَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:
أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَعْتَكِفُ العَشْرَ الأَوَاخِرَ مِنْ رَمَضَانَ، حَتَّى تَوَفَّاهُ اللَّهُ، ثُمَّ اعْتَكَفَ أَزْوَاجُهُ مِنْ بَعْدِهِ.

[صحيح] - [متفق عليه] - [صحيح البخاري: 2026]
المزيــد ...

اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم کی بیوی ام المومنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے:
اللہ کے نبی ﷺ وفات تک رمضان کے آخری عشرے میں اعتکاف کرتے رہے۔ آپ کے بعد آپ کی ازواج نے بھی اعتکاف کیا۔

[صحیح] - [متفق علیہ] - [صحیح بخاری - 2026]

شرح

ام المومنین عائشہ رضی اللہ عنہا بتاتی ہیں کہ رسول صلی اللہ علیہ و سلم لیلۃ القدر کی طلب میں رمضان کے آخری دس دنوں میں پابندی کے ساتھ اعتکاف کیا کرتے تھے۔ وفات تک آپ اسی روش پر قائم رہے۔ آپ کے بعد آپ کی ازواج رضی اللہ عنہن نے بھی اعتکاف فرمایا۔

حدیث کے کچھ فوائد

  1. مسجدوں میں اعتکاف کی مشروعیت۔ حتى کہ عورتیں بھى شرعی ضوابط کے مطابق مسجد میں اعتکاف میں بیٹھ سکتی ہیں۔ اور اس شرط کے ساتھ کہ فتنے کا کوئی خطرہ نہ ہو۔
  2. نبی صلی اللہ علیہ وسلم پابندی کے ساتھ اعتکاف کرتے تھے۔ اس لیے رمضان کے آخری عشرے میں اعتکاف کرنا سنت مؤکدہ ہے۔
  3. اعتکاف ایک جاری وساری سنت ہے، جو منسوخ نہیں ہوئی۔ کیوں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد آپ کی بیویوں نے بھی اعتکاف کیا۔
ترجمہ دیکھیں
زبان: انگریزی زبان اسپینی انڈونیشیائی زبان مزید ۔ ۔ ۔ (44)
مزید ۔ ۔ ۔