عن ابن عباس رضي الله عنهما أن رسول الله -صلى الله عليه وسلم- صام يوم عاشوراء وأمر بصيامه.
[صحيح.] - [متفق عليه.]
المزيــد ...

ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے یوم عاشوراء کا روزہ رکھا اور (دوسروں کو بھی) اس دن روزہ رکھنے کا حکم دیا۔
صحیح - متفق علیہ

شرح

علماء کا اس بات پر اتفاق ہے کہ عاشوراء کا روزہ سنت ہے، واجب نہیں ہے تاہم ابتدائے اسلام میں جب رمضان سے پہلے اس دن کا روزہ مشروع ہوا تو اس کے حکم کے سلسلے میں ان کے مابین اختلاف پایا جاتا ہے کہ آیا وہ واجب تھا یا نہیں؟ اگر اس گروہ کی رائے کو درست مان بھی لیا جائے جن کا کہنا ہے کہ یہ واجب تھا تو پھر بھی صحیح احادیث کی وجہ سے اس کا وجوب منسوخ ہوچکاہے۔ انہی احادیث میں سے ایک اُم المومنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی حدیث ہے جس میں وہ فرماتی ہیں کہ قریش دورِ جاہلیت میں عاشوراء کے دن کا روزہ رکھا کرتے تھے۔ بعدازاں آپ ﷺ نے اس دن روزہ رکھنے کا حکم دیا تاوقتیکہ کہ رمضان کے روزے فرض ہوگئے۔ اس پر آپ ﷺ نے فرمایا کہ جو چاہے وہ اس دن روزہ رکھے اور جو چاہے روزہ نہ رکھے۔ (بخاری ومسلم)

ترجمہ: انگریزی زبان فرانسیسی زبان اسپینی ترکی زبان انڈونیشیائی زبان بوسنیائی زبان روسی زبان بنگالی زبان چینی زبان فارسی زبان تجالوج ہندوستانی سنہالی کردی ہاؤسا پرتگالی
ترجمہ دیکھیں