عن أبي واقد الليثي -رضي الله عنه- قال: خَرَجْنا مع رسول الله -صلى الله عليه وسلم- إلى حُنَيْنٍ ونحن حُدَثاءُ عَهْد بكُفْرٍ، وللمشركين سِدْرَةٌ يَعْكُفُون عندَها، ويَنُوطُون بها أسلحتهم، يُقَالُ لها: ذاتُ أَنْوَاطٍ، فمَرَرْنا بسِدْرَةٍ فقلنا: يا رسول الله، اجعل لنا ذاتَ أَنْوَاطٍ كما لهم ذاتُ أَنْواطٍ؛ فقال رسول الله -صلى الله عليه وسلم-: «الله أكبر، إنها السُّنَنُ! قلتم والذي نفسي بيده كما قالت بنو إسرائيل لموسى: {اجْعَلْ لَنَا إِلَهًا كَمَا لَهُمْ آلِهَةٌ قَالَ إِنَّكُمْ قَوْمٌ تَجْهَلُونَ} لتَرْكَبُنَ سُنَنَ من كان قَبْلَكم».
[صحيح.] - [رواه الترمذي وأحمد.]
المزيــد ...

ابو واقد لیثی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ ہم نبی کریم ﷺ کے ساتھ حنین کے لیے نکلے اور ہم کفر کے زمانے سے ابھی بہت قریب سے گزرے تھے، کفار کا ایک بیری کا درخت تھا جہاں وہ جا کر رُکتے تھے اور اس پر اپنا اسلحہ لٹکایا کرتے تھے، اسے ”ذات انواط“ کہا جاتا تھا چنانچہ راستے میں ہم لوگ ایک بیری کے درخت سے گزرے تو ہم نے عرض کیا کہ اے اللہ کے رسول! (ﷺ) ہمارے لیے بھی ایک ذات انواط مقرر فرما دیجیے جیسا کہ مشرکین کا ایک ذات انواط ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ”اللہ اکبر! یہی تو (گمراہی اور سابقہ قوموں کے) راستے ہیں، اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! تم نے تو وہی بات کہہ دی جو بنی اسرائیل نے موسی علیہ السلام سے کہی تھی ﴿اجْعَلْ لَنَا إِلٰھًا كَمَا لَهُمْ آلِهَةٌ قَالَ إِنَّكُمْ قَوْمٌ تَجْهَلُونَ﴾ کہ اے موسیٰ! ہمارے لیے بھی ایک معبود ایسا ہی مقرر کر دیجیے جیسے ان کے یہ معبود ہیں۔ واقعی تم لوگوں میں بڑی جہالت ہے. پھر نبی ﷺ نے فرمایا تم بھی پہلی امتوں کے طریقوں پر چلو گے“۔
صحیح - اسے امام ترمذی نے روایت کیا ہے۔

شرح

ابو واقد لیثی رضی اللہ عنہ ایک واقعہ کی خبر دے رہے ہیں جو تعجب خیز بھی ہے اور نصیحت آموز بھی۔ وہ یہ ہے کہ انھوں نے آپ ﷺ کے ساتھ قبیلہ ھوازن سے جہاد کے لیے نکلے۔ ان کے اسلام لانے کا زمانہ قریب تھا جس کی وجہ سے ان پر شرک کا معاملہ ابھی مخفی تھا، جب انھوں نے دیکھا کہ مشرکین درخت سے تبرّک حاصل کررہے ہیں تو آپ علیہ الصلاۃ والسلام سے مطالبہ کیا کہ ان کے لیے بھی اسی طرح ایک درخت مقرر کردیں۔ یہ سن کر آپ ﷺ نے اس بات پر انکار اور تعجب کرتے ہوئے اللہ کی بڑائی کے طور پر تکبیر کہی اور فرمایا کہ یہ جملہ موسیٰ علیہ السلام کی قوم کے جملے کی طرح ہے کہ جب انھوں نے بتوں کو دیکھا تو کہا ﴿اجْعَلْ لَنَا إِلٰھًا كَمَا لَهُمْ آلِهَةٌ﴾ ”ہمارے لیے بھی اسی طرح کا خدا بنادیں جیسا کہ ان کا ہے“۔ یہ لوگ ان کی اتباع کر رہے ہیں۔ پھر آپ ﷺ نے فرمایا کہ یہ امت عنقریب یہود و نصاریٰ کے راستے پر چلے گی، ان کا راستہ اختیار کرکے ان جیسے کام کرے گی۔ یہ خبریہ انداز میں کہا جارہا ہے جس کا مطلب اس کام سے روکنا اور مذمت بیان کرنا ہے۔

ترجمہ: انگریزی زبان فرانسیسی زبان اسپینی ترکی زبان انڈونیشیائی زبان بوسنیائی زبان روسی زبان بنگالی زبان چینی زبان فارسی زبان تجالوج ہندوستانی ایغور کردی ہاؤسا پرتگالی
ترجمہ دیکھیں