1. مرکزی
  2. زمرہ جات (کٹیگریز)
  3. فضائل و آداب

حدیث بخیل وہ شخص ہے، جس کے سامنے میرا ذکر کیا جائے اور وہ مجھ پر درود نہ بھیجے۔

عَنِ الحُسَينِ بنِ عَلِيٍّ بنِ أَبِي طَالِبٍ رضي الله عنهما قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:
«الْبَخِيلُ مَنْ ذُكِرْتُ عِنْدَهُ فَلَمْ يُصَلِّ عَلَيَّ».

حسین بن علی بن ابوطالب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا:
"بخیل وہ شخص ہے، جس کے سامنے میرا ذکر کیا جائے اور وہ مجھ پر درود نہ بھیجے۔"

صحيح رواه الترمذي والنسائي في الكبرى وأحمد السنن الكبرى للنسائي - 8046

شرح

اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے اس بات سے خبردار کیا ہے کہ کسی کے سامنے آپ کا نام، کنیت یا وصف آئے اور آپ پر درود نہ بھیجے۔ فرمایا : پورا کا پورا بخیل وہ شخص ہے، جس کے سامنے میرا ذکر ہو اور وہ مجھ پر درود نہ بھیجے۔ اس کی کئی وجوہات ہیں :
1- اس نے ایک ایسی چيز خرچ کرنے میں کنجوسی دکھائی، جس میں ذرا بھی گھاٹا نہیں ہے۔ اس میں نہ مال خرچ ہوتا ہے اور نہ محنت لگتی ہے۔
2- اس نے خود کو اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم پر درود بھیجنے کی فضیلت سے محروم رکھا۔ اس نے آپ پر درود بھیجنے سے باز رہ کر ایک ایسے حق کی ادائيگی میں کنجوسی دکھائی، جو اس سلسلے میں وارد حکم کی تعمیل اور اجر و ثواب کے حصول کے لیے اسے ادا کرنا تھا۔
3- اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم پر درود بھیجنا ہمارے اوپر عائد آپ کے حقوق کی ادائيگی کی مختلف صورتوں میں سے ایک صورت ہے۔ کیوں کہ آپ نے ہمیں تعلیم دی، ہماری رہ نمائی فرمائی، ہمیں اللہ کی جانب بلایا، ہمارے پاس وحی اور ایک عظیم شریعت لے کر آئے۔ لہذا آپ اللہ کے بعد ہماری ہدایت کے سبب ہیں۔ چنانچہ آپ پر درود نہ بھیجنے والا خود اپنے نفس کے حق میں کنجوسی کرنے والا اور اپنے نبی کے ایک چھوٹے سے حق کی ادائيگی میں کنجوسی کرنے والا ہے۔

حدیث کے بعض فوائد

  1. اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم پر درود نہ بھیجنا کنجوسی کی علامت ہے۔
  2. ویسے تو اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم پر درود بھیجنا تمام اوقات میں ایک بہترین نیکی کا کام ہے، لیکن آپ کا ذکر آنے پر اس کی تاکید دو چند ہو جاتی ہے۔
  3. نووی کہتے ہیں : اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم پر درود بھیجتے وقت درود و سلام دونوں بھیجے۔ کسی ایک پر اکتفا نہ کرے۔ نہ صرف (صلى الله عليه) کہے اور نہ صرف (عليه السلام)۔
  4. ابو العالیہ اللہ تعالی کے قول : (إن الله وملائكته يصلون على النبي) کے بارے میں کہتے ہیں : لفظ صلاۃ جب اللہ کی جانب سے نبی کے حق میں استعمال ہو، تو اس کے معنی تعریف کرنے کے ہیں اور فرشتوں اور انسانوں کی جانب سے استعمال ہو، تو اس کے معنی دعا کرنے کے ہیں۔
  5. حلیمی کہتے ہیں : اس طرح "اللهم صلّ على محمد" کے معنی ہوئے : اے اللہ! محمد صلی اللہ علیہ و سلم کو دنیا میں عظمت عطا فرما، آپ کے ذکر کو بلند کر کے، آپ کے دین کو غلبہ عطا کر کے اور آپ کی شریعت کو بقا مرحمت فرما کر۔ آخرت میں بھی عظمت عطا فرما، امت کے بارے میں آپ کی سفارش قبول فرما کر، بڑا اجر و ثواب مرحمت کر کے، مقام محمود کے ذریعے پہلے اور بعد کے تمام لوگوں پر آپ کی فضیلت ظاہر کر کے اور موجود مقرب ہستیوں پر آپ کو فوقیت دے کر۔

تراجم کا مشاہدہ

51 زبان
EN English الإنجليزية
ES Español الإسبانية
ID Indonesia الإندونيسية
UG ئۇيغۇرچە الأيغورية
BN বাংলা البنغالية
TR Türkçe التركية
RU Русский الروسية
BS Bosanski البوسنية
SI සිංහල السنهالية
HI हिन्दी الهندية
ZH 中文 الصينية
FA فارسی الفارسية
VI Tiếng Việt الفيتنامية
TL Tagalog تجالوج
KU Kurdî الكردية
HA Hausa الهوسا
PT Português البرتغالية
ML മലയാളം المليالم
TE తెలుగు التلغو
SW Kiswahili السواحيلية
TA தமிழ் التاميلية
MY မြန်မာ البورمية
TH ไทย التايلندية
DE Deutsch الألمانية
PS پښتو بشتو
AS অসমীয়া الأسامية
SQ Shqip الألبانية
SV Svenska السويدية
AM አማርኛ الأمهرية
NL Nederlands الهولندية
GU ગુજરાતી الغوجاراتية
KY Кыргызча القيرقيزية
NE नेपाली النيبالية
LT Lietuvių الليتوانية
PRS دری الدرية
SR Српски الصربية
TG тоҷикӣ الطاجيكية
RW Kinyarwanda الكينياروندا
RO Română الرومانية
HU Magyar المجرية
MOS Moore الموري
MG Malagasy المالاجاشية
OM Oromoo الأورومو
KN ಕನ್ನಡ الكانادا
WO Wolof الولوف
UK Українська الأوكرانية
KA ქართული الجورجية
MK Македонски المقدونية
KM ភាសាខ្មែរ الخميرية
PA ਪੰਜਾਬੀ البنجابية
MR मराठी الماراثية