پیش آمدہ مصائب کے اذکار

21حدیث کی فہرست

حدیث کی فہرست 21

”جو شخص کسی جگہ نزول فرمائے اور یہ دعا پڑھے: ”أَعُوذُ بِكَلِمات اللَّهِ التَّامَّاتِ مِنْ شَرِّ مَا خَلَقَ“ (میں اللہ تعالی کی مخلوق کے شر سے اللہ تعالی کے مکمل کلمات کی پناہ چاہتا ہوں) تو اس کے وہاں سے روانہ ہونے تک اسے کوئی چیز نقصان نہیں پہنچا سکے گی۔
مجھے ایک ایسا کلمہ معلوم ہے کہ اگر یہ شخص اسے پڑھ لے، تو اس کا غصہ دور ہو جائے"۔
بخیل وہ شخص ہے، جس کے سامنے میرا ذکر کیا جائے اور وہ مجھ پر درود نہ بھیجے۔
جس نے کھانا کھانے کے بعد یہ دعا پڑھی : "الحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي أَطْعَمَنِي هَذَا وَرَزَقَنِيهِ مِنْ غَيْرِ حَوْلٍ مِنِّي وَلاَ قُوَّةٍ" (ساری تعریف اللہ کے لیے ہے، جس نے مجھے یہ کھانا کھلایا اور اس کى روزی دی, جب کہ اس میں میری طاقت اور قوت کا کوئی دخل نہيں ہے۔ "غُفِرَ لَهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِهِا" تو اس کے گذشتہ سارے گناہ معاف کر دیے جاتے ہیں۔
رسول اللہ ﷺ جب اپنے بستر پر لیٹتے تو اپنے ہاتھوں میں پھونک مارتے اور معوذات (سورہ اخلاص، سورہ فلق اور سورہ ناس) پڑھتے اور دونوں ہاتھوں کو جسم پر پھیر لیتے۔
تمام تعریفیں اس اللہ کے لیے ہیں جس نے ہمیں کھلایا، پلایا، ہماری کفایت کی اور ہمیں ٹھکانہ دیا، کتنے ہی ایسے لوگ ہیں جن کی نہ کوئی کفایت کرنے والا ہے اور نہ کوئی انہیں ٹھکانہ دینے والا۔
کیا میں تمھیں جو کچھ تم نے مانگا ہے، اس سے بہتر چیز نہ بتاؤں؟ جب تم دونوں اپنے بستر پر جاؤ، یا فرمایا کہ جب تم سونے کے لیے جاؤ، تو تینتیس مرتبہ (33) سبحان اللہ، تینتیس مرتبہ (33) الحمد للہ اور چونتیس مرتبہ (34) اللہ اکبر پڑھ لینا۔ یہ تمھارے لیے خادم سے بہتر ہے۔
اے اللہ ! میں تجھ سے اس کی خیر مانگتا ہوں اور جو کچھ اس میں ہے اس کی خیر کا طلب گار ہوں اور جو خیر اس کے ساتھ بھیجی گئی ہے اسے بھی چاہتا ہوں اور میں اس کے شر سے تیری پناہ چاہتا ہوں اورجو کچھ اس کے اندر ہے اس کے شر سے تیری پناہ مانگتا ہوں اور جو شر اس کے ساتھ بھیجا گیا اس سے تیری پناہ کا خواستگار ہوں۔
ہوا اللہ کی رحمت ہے۔ یہ رحمت لے کر آتی ہے اور (بسا اوقات) عذاب لاتی ہے۔ لہٰذا جب تم اسے دیکھو تو اسے برا بھلا مت کہو اور اللہ سے اس کی بھلائی کا سوال کرو اور اس کی برائی سے پناہ مانگو۔
وہ ایک شیطان ہے، جسے خِِنزَب کہا جاتا ہے۔ جب تمھیں اس کے خلل انداز ہونے کا احساس ہو، تو اس سے اللہ کی پناہ مانگو اور اپنی بائیں جانب تین بار تھتکارو
ایک آدمی نبی ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا اور کہنے لگا: اے اللہ کے رسول ﷺ! میں سفر پر جانےکا ارادہ رکھتا ہوں۔ مجھے کچھ زادِ راہ عنایت فرمائیں۔ آپ ﷺ نے فرمایا: اللہ تجھے تقویٰ کا زادِ راہ دے۔
نبی ﷺ جب اپنا دستر خوان اٹھاتے تو فرماتے: الحَمْدُ للهِ حَمْدًا كَثِيرًا طَيِّبًا مُبَارَكًا فِيهِ، غَيْرَ مَكْفِيٍّ، وَلَا مُوَدَّعٍ، وَلَا مُسْتَغْنًى عَنْهُ رَبَّنَا۔
اللہ کے رسول ﷺ جب سفر کرتے، تو سفر کی دشواری، لوٹنے کے وقت کے رنج و غم، خوش حالی کے بعد بدحالی، مظلوم کی بد دعا اور گھر بار اور مال میں بری صورت حال سے پناہ مانگتے تھے۔
جب تم میں سے کوئی شخص بستر پر ليٹنے كا اراده كرے تو پہلے اپنا بستر اپنی ازار کے اندرونی کنارے سے جھاڑ لے کیونکہ وہ نہیں جانتا کہ اس کے پیچھے (اس کی بے خبری میں) کیا چیز اس پر آ گئی ہے۔
بے شک یہ نشانیاں ہیں، جنھیں اللہ تعالیٰ بھیجتا ہے۔ یہ کسی کی موت و حیات کی وجہ سے نہیں آتیں، بلکہ اللہ تعالیٰ ان کے ذریعے اپنے بندوں کو ڈراتا ہے۔ اس لیے جب تم اس طرح کی کوئی چیز دیکھو، تو فوراً اللہ تعالیٰ کے ذکر، دعا اور استغفار میں لگ جاؤ۔
تم لوگ ہوا کو گالی مت دو۔ اگر اس میں کوئی ناپسندیدہ چیز دیکھو، تو یہ دعا پڑھو: ’’اللهم إنا نَسْأَلُكَ مِن خير هذه الريح، وخير ما فيها، وخير ما أُمِرَتْ به، ونعوذ بك من شر هذه الريح، وشر ما فيها، وشر ما أُمِرَتْ به‘‘۔ ( اے اللہ! ہم تجھ سے اس ہوا کی بہتری اور اس کے اندر جو خیر ہے اور جس خیر کا اسے حکم دیا گیا ہے، اس کا سوال کرتے ہيں۔ اور (اے اللہ!) ہم اس ہوا کے شر سے، اور اس کے اندر موجود شر سے اور جس شر کا اسے حکم دیا گیا ہے اس سے، تیری پناہ مانگتے ہیں)
”اس آدمی کی ناک خاک آلود ہو جس کے سامنے میرا ذکر کیا جائے اور وہ مجھ پر درود نہ پڑھے, اس آدمی کی ناک خاک آلود ہو جس کے سامنے رمضان آئے اور نکل جائے اور وہ اپنی مغفرت کا سامان نہ کر سکے اور اس آدمی کی ناک خاک آلود ہو جو اپنے والدین کو بڑھاپے کی حالت میں پائے اور دونوں اسے جنت میں داخل نہ کر سکیں۔