1. مرکزی
  2. زمرہ جات (کٹیگریز)
  3. فضائل و آداب

حدیث تم لوگ ہوا کو گالی مت دو۔ اگر اس میں کوئی ناپسندیدہ چیز دیکھو، تو یہ دعا پڑھو: ’’اللهم إنا نَسْأَلُكَ مِن خير هذه الريح، وخير ما فيها، وخير ما أُمِرَتْ به، ونعوذ بك من شر هذه الريح، وشر ما فيها، وشر ما أُمِرَتْ به‘‘۔ ( اے اللہ! ہم تجھ سے اس ہوا کی بہتری اور اس کے اندر جو خیر ہے اور جس خیر کا اسے حکم دیا گیا ہے، اس کا سوال کرتے ہيں۔ اور (اے اللہ!) ہم اس ہوا کے شر سے، اور اس کے اندر موجود شر سے اور جس شر کا اسے حکم دیا گیا ہے اس سے، تیری پناہ مانگتے ہیں)

عَنْ أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ رضي الله عنه قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:
«لاَ تَسُبُّوا الرِّيحَ، فَإِذَا رَأَيْتُمْ مَا تَكْرَهُونَ فَقُولُوا: اللَّهُمَّ إِنَّا نَسْأَلُكَ مِنْ خَيْرِ هَذِهِ الرِّيحِ وَخَيْرِ مَا فِيهَا وَخَيْرِ مَا أُمِرَتْ بِهِ، وَنَعُوذُ بِكَ مِنْ شَرِّ هَذِهِ الرِّيحِ وَشَرِّ مَا فِيهَا وَشَرِّ مَا أُمِرَتْ بِهِ».

ابی بن کعب رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
"تم لوگ ہوا کو گالی مت دو۔ اگر اس میں کوئی ناپسندیدہ چیز دیکھو، تو یہ دعا پڑھو: ’’اللهم إنا نَسْأَلُكَ مِن خير هذه الريح، وخير ما فيها، وخير ما أُمِرَتْ به، ونعوذ بك من شر هذه الريح، وشر ما فيها، وشر ما أُمِرَتْ به‘‘۔ ( اے اللہ! ہم تجھ سے اس ہوا کی بہتری اور اس کے اندر جو خیر ہے اور جس خیر کا اسے حکم دیا گیا ہے، اس کا سوال کرتے ہيں۔ اور (اے اللہ!) ہم اس ہوا کے شر سے، اور اس کے اندر موجود شر سے اور جس شر کا اسے حکم دیا گیا ہے اس سے، تیری پناہ مانگتے ہیں)

صحيح رواه الترمذي سنن الترمذي - 2252

شرح

اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے ہوا کو گالی دینے یا اس پر لعنت کرنے سے منع فرمایا ہے۔ کیوں کہ ہوا اپنے خالق کے حکم سے چلتی ہے۔ کبھی رحمت بن کر آتی ہے اور کبھی عذاب بن کر۔ اس کو گالی دینا دراصل اس کے خالق کو گالی دینا اور اس کے فیصلے پر برہمی کا اظہار کرنا ہے۔ اس کے بعد اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم نے ہوا کے خالق یعنی اللہ سبحانہ و تعالی کی طرف رجوع کر کے اس سے ہوا کی خیر، ہوا کے اندر موجود چيزوں کی خیر اور ہوا جن چیزوں کے ساتھ بھیجی گئی ہے، جیسے بارش وغیرہ، ان کی خیر طلب کرنے اور اللہ ہی سے اس کے شر، اس کے اندر موجود چيزوں کے شر اور اسے جن چیزوں کے ساتھ بھیجا گیا ہے، جیسے فصلوں اور پیڑوں کا نقصان، مویشیوں کو ہلاک اور گھروں کو منہدم کرنا وغیرہ، ان کے شر سے پناہ مانگنے کی جانب رہنمائی کی ہے۔ دراصل اللہ سے یہ چیزیں مانگنا بھی اس کی بندگی کو بروئے عمل لانا ہے۔

حدیث کے بعض فوائد

  1. ہوا کو برا کہنے کی ممانعت؛ کیوں کہ ہوا اللہ کے حکم پر چلنے والی ایک مخلوق ہے۔ لہذا اسے گالی دینا دراصل اس کی تخلیق اور تدبیر کرنے والے کو گالی دینا ہے، جوکہ توحید میں خلل کا باعث ہے۔
  2. الله کی طرف لوٹنا اور اس کی مخلوق کے شر سے پناہ مانگنا۔
  3. ہوا کبھی تو اللہ کے حکم سے خیر لاتی ہے اور کبھی اسی کے حکم سے شر لاتی ہے۔
  4. ابن باز کہتے ہيں: ہوا کو گالی دینا گناہ کا کام ہے۔ کیوں کہ ہوا ایک مخلوق ہے جو اللہ کے حکم سے خیر وشر کے ساتھ آتی ہے۔ لہذا اسے گالی دینا جائز نہيں ہے۔ ہوا پر اللہ کی لعنت ہو، اللہ ہوا کو غارت کرے یا اللہ ہوا میں برکت نہ دے وغیرہ کہنا درست نہیں ہے۔ ایک مومن کا طرز عمل اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم کی رہنمائی کے مطابق ہونا چاہیے۔
  5. ہوا پر قیاس کرتے ہوئے سردی، گرمی، دھوپ اور غبار وغیرہ اللہ کی ديگر مخلوقات کو بھی گالی دینا جائز نہیں، جو اللہ کے حکم کے تابع ہیں۔

تراجم کا مشاہدہ

47 زبان
EN English الإنجليزية
ES Español الإسبانية
ID Indonesia الإندونيسية
UG ئۇيغۇرچە الأيغورية
BN বাংলা البنغالية
TR Türkçe التركية
RU Русский الروسية
BS Bosanski البوسنية
SI සිංහල السنهالية
HI हिन्दी الهندية
ZH 中文 الصينية
FA فارسی الفارسية
VI Tiếng Việt الفيتنامية
TL Tagalog تجالوج
KU Kurdî الكردية
HA Hausa الهوسا
PT Português البرتغالية
ML മലയാളം المليالم
TE తెలుగు التلغو
SW Kiswahili السواحيلية
TA தமிழ் التاميلية
MY မြန်မာ البورمية
TH ไทย التايلندية
DE Deutsch الألمانية
PS پښتو بشتو
AS অসমীয়া الأسامية
SQ Shqip الألبانية
SV Svenska السويدية
AM አማርኛ الأمهرية
NL Nederlands الهولندية
GU ગુજરાતી الغوجاراتية
NE नेपाली النيبالية
YO Yorùbá اليوروبا
PRS دری الدرية
SR Српски الصربية
RO Română الرومانية
HU Magyar المجرية
MOS Moore الموري
MG Malagasy المالاجاشية
KN ಕನ್ನಡ الكانادا
WO Wolof الولوف
UK Українська الأوكرانية
KA ქართული الجورجية
MK Македонски المقدونية
KM ភាសាខ្មែរ الخميرية
PA ਪੰਜਾਬੀ البنجابية
MR मराठी الماراثية