+ -

عن أنس بن مالك رضي الله عنه قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم : "لا عدوى وَلَا طِيَرَةَ، وَيُعْجِبُنِي الفَأْلُ. قالوا: وما الفأل؟ قال: الكلمة الطيِّبة".
[صحيح] - [متفق عليه]
المزيــد ...

انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا :
"بیماری کا ایک سے دوسرے کو لگ جانا اور بد شگونی لینا کوئی چیز نہیں۔ البتہ مجھے فال اچھی لگتی ہے"۔ صحابہ کرام نے پوچھا : فال کیا چیز ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا : ”اچھی بات“۔

صحیح - متفق علیہ

شرح

اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم بتا رہے ہیں کہ عہد جاہلیت کے لوگوں کا یہ عقیدہ باطل ہے کہ بیماری اللہ کے فیصلے اور اس کی لکھی تقدیر کے بغیر ہی ایک شخص سے دوسرے شخص کی جانب منتقل ہو جایا کرتی ہے۔ اسی طرح بدشگونی لینا بھی باطل ہے۔ بدشگونی نام ہے کسی مسموع یا مرئی چیز، جیسے پرندوں، جانوروں، معذور لوگوں، اعداد یا دنوں وغیرہ سے بدفالی لینے کا۔ اس حدیث میں بدشگونی کے لیے " الطيرة" لفظ کا استعمال اس لیے ہوا ہے کہ عہد جاہلیت میں بدشگونی کا یہ طریقہ بہت مشہور تھا۔ ہوتا یہ تھا کہ عرب کے لوگ جب سفر یا تجارت وغیرہ کوئی کام شروع کرنا چاہتے، تو پرندہ اڑا کر دیکھتے۔ اگر پرندہ دائیں اڑتا، تو اسے نیک فال سمجھ کر قدم آگے بڑھاتے اور اگر بائيں اڑتا، تو بدشگونی کے عقیدے کے تحت قدم پیچھے واپس کھینچ لیتے۔

ترجمہ: انگریزی زبان اسپینی انڈونیشیائی زبان ایغور بنگالی زبان فرانسیسی زبان ترکی زبان روسی زبان بوسنیائی زبان سنہالی ہندوستانی چینی زبان فارسی زبان ویتنامی تجالوج کردی ہاؤسا پرتگالی سواحلی پشتو آسامی السويدية الأمهرية الغوجاراتية اليوروبا الدرية الصومالية
ترجمہ دیکھیں
مزید ۔ ۔ ۔