1. مرکزی
  2. زمرہ جات (کٹیگریز)

حدیث میں ایک ایسا شخص تھا، جسے بہت زیادہ مذی آتی تھی۔ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سم کے داماد ہونے کے ناتے مجھے شرمندگی محسوس ہو رہی تھی کہ میں آپ سے اس بارے میں پوچھوں۔ چنانچہ میں نے مقداد بن اسود کو پوچھنے کا حکم دیا (اور انھوں نے پوچھا)، تو آپ نے کہا : "وہ اپنا ذکر دھوئے اور وضو کرے۔

عَنْ عَلِيٍّ رضي الله عنه قَالَ:

كُنْتُ رَجُلًا مَذَّاءً وَكُنْتُ أَسْتَحْيِي أَنْ أَسْأَلَ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِمَكَانِ ابْنَتِهِ فَأَمَرْتُ الْمِقْدَادَ بْنَ الْأَسْوَدِ فَسَأَلَهُ فَقَالَ: «يَغْسِلُ ذَكَرَهُ وَيَتَوَضَّأُ». وَلِلبُخَاريِّ: فَقَالَ: «تَوَضَّأْ وَاغْسِلْ ذَكَرَكَ».

علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں:
میں ایک ایسا شخص تھا، جسے بہت زیادہ مذی آتی تھی۔ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سم کے داماد ہونے کے ناتے مجھے شرمندگی محسوس ہو رہی تھی کہ میں آپ سے اس بارے میں پوچھوں۔ چنانچہ میں نے مقداد بن اسود کو پوچھنے کا حکم دیا (اور انھوں نے پوچھا)، تو آپ نے کہا : "وہ اپنا ذکر دھوئے اور وضو کرے۔" صحیح بخاری میں ہے: آپ نے کہا : "وضو کرو اور اپنی شرمگاہ کو دھو لو۔"

صحيح متفق عليه صحيح مسلم - 303

شرح

علی بن ابو طالب رضی اللہ عنہ کہتے ہيں کہ ان کو اکثر مذی نکل جایا کرتی تھی۔ دراصل مذی ایک طرح کا پتلا، چپچپا، سفید پانی ہے، جو شہوت کے وقت یا جماع سے پہلے شرمگاہ سے نکلتا ہے۔ ان کو پتہ بھی نہیں تھا کہ مذی نکلنے کے بعد کیا کرنا چاہیے۔ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم سے پوچھنے میں بھی حیا رکاوٹ بن رہی تھی، کیوں کہ آپ کی بیٹی فاطمہ رضی اللہ عنہا ان کے نکاح میں تھیں۔ لہذا مقداد رضی اللہ عنہ سے کہا کہ وہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم سے اس کے بارے میں پوچھیں۔ چنانچہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم نے جواب دیا کہ وہ پہلے اپنی شرمگاہ کو دھو لیں اور اس کے بعد وضو کر لیں۔

حدیث کے بعض فوائد

  1. علی رضی اللہ عنہ کی فضیلت کہ حیا کو انھوں نے رکاوٹ بننے نہيں دیا اور آپ سے بالواسطہ مسئلہ پوچھ لیا۔
  2. فتوى پوچھنے میں کسی کو نمائندہ بنانے کا جواز۔
  3. کسی مصلحت کی بنا پر انسان وہ باتیں بتا سکتا ہے، جن کو بتانے سے حیا رکاوٹ بنتی ہے۔
  4. مذی ناپاک ہے اور کپڑے اور بدن سے اسے دھونا واجب ہے۔
  5. مذی نکلنے سے وضو ٹوٹ جاتا ہے۔
  6. شرمگاہ کے ساتھ ساتھ دونوں خصیوں کو بھی دھونا ضروری ہے، کیوں کہ ایک دوسری حدیث میں اس کا ذکر آیا ہے۔

تراجم کا مشاہدہ

58 زبان
EN English الإنجليزية
ES Español الإسبانية
ID Indonesia الإندونيسية
UG ئۇيغۇرچە الأيغورية
BN বাংলা البنغالية
FR Français الفرنسية
TR Türkçe التركية
RU Русский الروسية
BS Bosanski البوسنية
SI සිංහල السنهالية
HI हिन्दी الهندية
ZH 中文 الصينية
FA فارسی الفارسية
VI Tiếng Việt الفيتنامية
TL Tagalog تجالوج
KU Kurdî الكردية
HA Hausa الهوسا
PT Português البرتغالية
ML മലയാളം المليالم
TE తెలుగు التلغو
SW Kiswahili السواحيلية
TA தமிழ் التاميلية
MY မြန်မာ البورمية
TH ไทย التايلندية
DE Deutsch الألمانية
PS پښتو بشتو
AS অসমীয়া الأسامية
SQ Shqip الألبانية
SV Svenska السويدية
AM አማርኛ الأمهرية
NL Nederlands الهولندية
GU ગુજરાતી الغوجاراتية
KY Кыргызча القيرقيزية
NE नेपाली النيبالية
YO Yorùbá اليوروبا
LT Lietuvių الليتوانية
PRS دری الدرية
SR Српски الصربية
SO Soomaali الصومالية
TG тоҷикӣ الطاجيكية
RW Kinyarwanda الكينياروندا
RO Română الرومانية
HU Magyar المجرية
CS Čeština التشيكية
MOS Moore الموري
MG Malagasy المالاجاشية
OM Oromoo الأورومو
KN ಕನ್ನಡ الكانادا
WO Wolof الولوف
AZ Azərbaycan الأذربيجانية
UZ O‘zbek الأوزبكية
UK Українська الأوكرانية
KA ქართული الجورجية
MK Македонски المقدونية
KM ភាសាខ្មែរ الخميرية
PA ਪੰਜਾਬੀ البنجابية
MR मराठी الماراثية
KMR Kurmancî الكرمنجية
زمرہ جات (کٹیگریز)
  • . .