1. مرکزی
  2. زمرہ جات (کٹیگریز)

حدیث مجھے کوئی ایسا عمل بتلائیے جسے اگر میں کرتا رہوں، تو جنت میں داخل ہوجاؤں۔ آپ ﷺنے فرمایا : ’’اللہ کی عبادت کرو، اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہراؤ، فرض نماز قائم کرو، فرض زکوٰة کی ادائيگی کرو اور رمضان کے روزے رکھو۔‘‘

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ:

أَنَّ أَعْرَابِيًّا أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: دُلَّنِي عَلَى عَمَلٍ إِذَا عَمِلْتُهُ دَخَلْتُ الجَنَّةَ، قَالَ: «تَعْبُدُ اللَّهَ لاَ تُشْرِكُ بِهِ شَيْئًا، وَتُقِيمُ الصَّلاَةَ المَكْتُوبَةَ، وَتُؤَدِّي الزَّكَاةَ المَفْرُوضَةَ، وَتَصُومُ رَمَضَانَ» قَالَ: وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لاَ أَزِيدُ عَلَى هَذَا، فَلَمَّا وَلَّى قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنْ سَرَّهُ أَنْ يَنْظُرَ إِلَى رَجُلٍ مِنْ أَهْلِ الجَنَّةِ، فَلْيَنْظُرْ إِلَى هَذَا».

ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ
ایک دیہاتی نبی کریم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کيا کہ اے اللہ کے رسول! مجھے کوئی ایسا عمل بتلائیے جسے اگر میں کرتا رہوں، تو جنت میں داخل ہوجاؤں۔ آپ ﷺنے فرمایا : ’’اللہ کی عبادت کرو، اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہراؤ، فرض نماز قائم کرو، فرض زکوٰة کی ادائيگی کرو اور رمضان کے روزے رکھو۔‘‘ اس دیہاتی نے کہا: اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! میں اس پر کوئی اضافہ نہیں کروں گا۔ جب وہ واپس جانے لگا، تو نبی کريم ﷺ نے فرمایا : ’’جس شخص کو کوئی جنتی ديکھنا پسند ہو، وہ اس شخص کو دیکھ لے۔‘‘

صحيح متفق عليه صحيح البخاري - 1397

شرح

دیہات کا رہنے والا ایک شخص اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم کے پاس آیا، تاکہ آپ اسے کوئی ایسا عمل بتا دیں، جو اسے جنت میں داخل کر دے۔ لہذا آپ نے اسے بتایا کہ جنت میں داخل ہونے اور جہنم سے نجات پانے کی سعادت موقوف ہے ارکان اسلام کی ادائیگی پر، جو اس طرح ہیں : ایک اللہ کی عبادت کرنا اور کسی کو اس کا شریک نہ ٹھہرانا، پانچ وقت کی نمازیں قائم کرنا، جنہیں اللہ نے دن ورات میں اپنے بندوں پر فرض کیا ہے۔ مال کی جو زکاۃ واجب ہے‘ اسے نکال کر مستحقین کو دینا، وقت پر ماہ رمضان کے روزوں کی پابندی کرنا۔ اتنا سننے کے بعد وہ شخص بولا: اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے، میں آپ سے سنے ہوئے فرض اعمال سے نہ زیادہ کروں گا اور نہ کم۔ لہذا جب وہ شخص جانے لگا، تو اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا: جسے کو کوئی جنتی انسان ديکھنا پسند ہو، تو وہ اس شخص کو دیکھ لے۔

حدیث کے بعض فوائد

  1. دعوت کے کام کا آغاز ایک اللہ کی عبادت سے ہونا چاہیے۔
  2. نئے نئے مسلمان ہونے والے انسان کو صرف واجبات سکھانے پر اکتفا کرنا چاہیے۔
  3. یہ ضروری ہے کہ دعوت الی اللہ کا کام بہ تدریج انجام دیا جائے۔
  4. آدمی کو اپنے دین کی بات سیکھنے کا حریص ہونا چاہیے۔
  5. صرف واجبات کی ادائیگی سے بھی انسان کام یاب ہو جائے گا۔ لیکن اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ انسان نوافل کی ادائيگی میں سستی سے کام لے۔ کیوں کہ نوافل کے ذریعے فرائض میں رہ جانے والی کمیوں کو پورا کیا جاتا ہے۔
  6. بطور خاص بعض عبادتوں کا ذکر ان کی اہمیت اور وجوب کی دلیل ہے۔ اس کا مطلب یہ نہیں کہ دیگر عبادتیں واجب نہیں ہیں۔
الملاحظة
حرص الرجل على تَعلُّم أمر دينه.
ماذا
النص المقترح حرص الرجل على تَعلُّم أمر دينه ماهو كان يعرف .

تراجم کا مشاہدہ

59 زبان
EN English الإنجليزية
ES Español الإسبانية
ID Indonesia الإندونيسية
UG ئۇيغۇرچە الأيغورية
BN বাংলা البنغالية
FR Français الفرنسية
TR Türkçe التركية
RU Русский الروسية
BS Bosanski البوسنية
SI සිංහල السنهالية
HI हिन्दी الهندية
ZH 中文 الصينية
FA فارسی الفارسية
VI Tiếng Việt الفيتنامية
TL Tagalog تجالوج
KU Kurdî الكردية
HA Hausa الهوسا
PT Português البرتغالية
ML മലയാളം المليالم
TE తెలుగు التلغو
SW Kiswahili السواحيلية
TA தமிழ் التاميلية
MY မြန်မာ البورمية
TH ไทย التايلندية
DE Deutsch الألمانية
PS پښتو بشتو
AS অসমীয়া الأسامية
SQ Shqip الألبانية
SV Svenska السويدية
AM አማርኛ الأمهرية
NL Nederlands الهولندية
GU ગુજરાતી الغوجاراتية
KY Кыргызча القيرقيزية
NE नेपाली النيبالية
YO Yorùbá اليوروبا
LT Lietuvių الليتوانية
PRS دری الدرية
SR Српски الصربية
SO Soomaali الصومالية
TG тоҷикӣ الطاجيكية
RW Kinyarwanda الكينياروندا
RO Română الرومانية
HU Magyar المجرية
CS Čeština التشيكية
MOS Moore الموري
MG Malagasy المالاجاشية
IT Italiano الإيطالية
OM Oromoo الأورومو
KN ಕನ್ನಡ الكانادا
WO Wolof الولوف
AZ Azərbaycan الأذربيجانية
UZ O‘zbek الأوزبكية
UK Українська الأوكرانية
KA ქართული الجورجية
MK Македонски المقدونية
KM ភាសាខ្មែរ الخميرية
PA ਪੰਜਾਬੀ البنجابية
MR मराठी الماراثية
KMR Kurmancî الكرمنجية
زمرہ جات (کٹیگریز)
  • . .