1. مرکزی
  2. زمرہ جات (کٹیگریز)

حدیث ”جب تم میں سے کسی کو اپنی نماز میں شک ہوجائے اور اسے معلوم نہ ہو کہ اس نے کتنی رکعتیں پڑھ لی ہیں؟ تین یا چار ؟ تو وہ شک کو چھوڑ دے اور جتنی رکعتوں پر اسے یقین ہو ان پر اعتماد کرے اور پھر سلام سے پہلے دو سجدے کرلے۔

عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ رضي الله عنه قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:

«إِذَا شَكَّ أَحَدُكُمْ فِي صَلَاتِهِ، فَلَمْ يَدْرِ كَمْ صَلَّى ثَلَاثًا أَمْ أَرْبَعًا، فَلْيَطْرَحِ الشَّكَّ، وَلْيَبْنِ عَلَى مَا اسْتَيْقَنَ، ثُمَّ يَسْجُدُ سَجْدَتَيْنِ قَبْلَ أَنْ يُسَلِّمَ، فَإِنْ كَانَ صَلَّى خَمْسًا شَفَعْنَ لَهُ صَلَاتَهُ، وَإِنْ كَانَ صَلَّى إِتْمَامًا لِأَرْبَعٍ كَانَتَا تَرْغِيمًا لِلشَّيْطَانِ».

ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
”جب تم میں سے کسی کو اپنی نماز میں شک ہوجائے اور اسے معلوم نہ ہو کہ اس نے کتنی رکعتیں پڑھ لی ہیں؟ تین یا چار ؟ تو وہ شک کو چھوڑ دے اور جتنی رکعتوں پر اسے یقین ہو ان پر اعتماد کرے اور پھر سلام سے پہلے دو سجدے کرلے۔ اگر اس نے پانچ رکعتیں پڑھ لی ہیں تو یہ سجدے اس کی نماز کو جفت (چھ رکعتیں) کردیں گے اور اگر پوری چار رکعات پڑھی ہوں، تو یہ سجدے شیطان کی ذلت و رسوائی کا باعث ہوں گے“۔

صحيح رواه مسلم صحيح مسلم - 571

شرح

اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے بتایا کہ جب کسی نمازی کو اپنی نماز کی رکعتوں کے بارے میں شک و شبہ ہو جائے اور پتہ نہ چل سکے کہ تین رکعت پڑھی ہے یا چار رکعت، تو جس رکعت کے بارے میں شک ہو اسے شمار نہ کرے۔ مثلا اگر تین اور چار کے بارے میں شبہ ہو، تو تین رکعات یقینی ہیں۔ اس لیے چوتھی رکعت پڑھ لے اور سلام پھیرنے سے پہلے دو سجدے کر لے۔
ایسے میں اگر اس نے پہلے ہی چار رکعتیں پڑھ لی ہيں، تو بعد کی ایک رکعت ملاکر پانچ رکعتیں ہو گئيں اور سہو کے دو سجدے ایک رکعت کے عوض میں ہو گئيں۔ اس لیے رکعتیں طاق نہیں جفت ہو گئيں۔ اس کے برعکس اگر زائد رکعت کو ملاکر چار رکعت پڑھی ہے، تو پھر اس نے بغیر کمی بیشی کے اتنی ہی رکعتیں پڑھی ہيں، جتنی پڑھنی چاہیے تھیں۔
ایسے میں سہو کے دو سجدے شیطان کی ذلت و رسوائی کا سامان اور اسے ناکام و نامراد واپس کرنے کی نشانی ثابت ہوں گے۔ کیوں کہ شیطان نے اس کی نماز خراب کرنے کی کوشش تو کی تھی، لیکن ابن آدم نے سجدہ کرکے اسے درست کر لیا، جسے کرنے سے ابلیس نے انکار کر دیا تھا، جب اس نے آدم کو سجدہ کرنے کے سلسلے میں اللہ کے حکم کی تعمیل سے انکار کر دیا تھا۔

حدیث کے بعض فوائد

  1. نماز پڑھ رہے شخص کو جب نماز کی رکعتوں کے بارے میں شک ہوجائے اور بالیقین فیصلہ نہ کر سکے کہ کتنی رکعت پڑھی ہے، تو شک کو پرے رکھ کر یقین کے مطابق کام کرے۔ یعنی کم کو درست مان کر نماز پوری کرے اور سلام پھیرنے سے پہلے سجدۂ سہو کر کے سلام پھیرے۔
  2. سہو کے دونوں سجدے دراصل نماز میں در آنے والے خلل کو دور کرنے اور شیطان کو ناکام و نامراد واپس کرنے کا ذریعہ ہیں۔
  3. اس حدیث میں جس شک کا ذکر ہے، اس سے مراد وہ تردد ہے، جس میں کوئی رجحان نہ پایا جائے۔ اگر ظن وگمان موجود اور وہ غالب ہو جائے، تو اسى پر عمل کیا جائے گا۔
  4. وسوسوں سے لڑنے کی اورشرعی احکام پر عمل کے ذریعہ انہیں دور کرنے کى ترغیب۔

تراجم کا مشاہدہ

57 زبان
EN English الإنجليزية
ES Español الإسبانية
ID Indonesia الإندونيسية
BN বাংলা البنغالية
FR Français الفرنسية
TR Türkçe التركية
RU Русский الروسية
BS Bosanski البوسنية
SI සිංහල السنهالية
HI हिन्दी الهندية
ZH 中文 الصينية
FA فارسی الفارسية
VI Tiếng Việt الفيتنامية
TL Tagalog تجالوج
KU Kurdî الكردية
HA Hausa الهوسا
PT Português البرتغالية
ML മലയാളം المليالم
TE తెలుగు التلغو
SW Kiswahili السواحيلية
TA தமிழ் التاميلية
MY မြန်မာ البورمية
TH ไทย التايلندية
DE Deutsch الألمانية
PS پښتو بشتو
AS অসমীয়া الأسامية
SQ Shqip الألبانية
SV Svenska السويدية
AM አማርኛ الأمهرية
NL Nederlands الهولندية
GU ગુજરાતી الغوجاراتية
KY Кыргызча القيرقيزية
NE नेपाली النيبالية
YO Yorùbá اليوروبا
LT Lietuvių الليتوانية
PRS دری الدرية
SR Српски الصربية
SO Soomaali الصومالية
TG тоҷикӣ الطاجيكية
RW Kinyarwanda الكينياروندا
RO Română الرومانية
HU Magyar المجرية
CS Čeština التشيكية
MOS Moore الموري
MG Malagasy المالاجاشية
OM Oromoo الأورومو
KN ಕನ್ನಡ الكانادا
WO Wolof الولوف
AZ Azərbaycan الأذربيجانية
UZ O‘zbek الأوزبكية
UK Українська الأوكرانية
KA ქართული الجورجية
MK Македонски المقدونية
KM ភាសាខ្មែរ الخميرية
PA ਪੰਜਾਬੀ البنجابية
MR मराठी الماراثية
KMR Kurmancî الكرمنجية
زمرہ جات (کٹیگریز)
  • . .