حدیث کی فہرست

سب سے کامل ایمان والا مؤمن وہ ہے، جس کے اخلاق سب سے اچھے ہوں اور تمھارے اندر سب سے اچھا انسان وہ ہے، جو اپنی عورتوں کے حق میں سب سے اچھا ہو۔
عربي الإنجليزية الأوردية
”وہ شرط پوری کی جانے کی سب سے زیادہ مستحق ہے، جس کے ذریعہ تم نے عورتوں کی شرم گاہوں کو حلال کیا “۔
عربي الإنجليزية الأوردية
اللہ کے رسول ﷺ نے ہمیں خطبۂ حاجت سکھایا
عربي الإنجليزية الأوردية
”ولی کے بغیر نکاح نہیں ہے“۔
عربي الإنجليزية الأوردية
’’کوئی مسلمان مرد کسی مسلمان عورت سے متنفر نہ ہو۔ اگر اسے اس کی کوئی خصلت بری لگتی ہے تو اس کی کوئی عادت اسے پسند بھی ہو گی‘‘۔
عربي الإنجليزية الأوردية
جب آدمی اپنی بیوی کو اپنی خواہش پوری کرنے کے لیے بلائے تو اسے فوراً آنا چاہیے اگرچہ وہ تنور پر ہو۔
عربي الإنجليزية الأوردية
”تم میں سے ہر آدمی ذمہ دار ہے اور ہر آدمی اپنے ماتحتوں کے بارے میں جواب دہ ہے؛
عربي الإنجليزية الأوردية
اے نوجوانوں کی جماعت! جو تم میں سے نکاح کرنے کی طاقت رکھتا ہو وہ نکاح کر لے۔ کیوں کہ نکاح نظر کو نیچی رکھنے اور شرم گاہ کو (بُرائی سے) محفوظ رکھنے کا ذریعہ ہے اور اگر کسی میں نکاح کرنے کی طاقت نہ ہو، تو اسے چاہیے کہ روزے رکھے۔ کیوں کہ روزہ اس کی شہوت کو ختم کر دیتا ہے۔
عربي الإنجليزية الأوردية
بیوہ کا نکاح اس وقت تک نہ کیا جائے جب تک کہ اس سے امر (حکم) حاصل نہ کرلیا جائے۔ اور کنواری لڑکی کا نکاح اس وقت تک نہ کیا جائے جب تک کہ اس سے اجازت نہ لے لی جائے۔ صحابہ کرام نے دریافت کیا کہ: اے اللہ کے رسول! اس کی اجازت کیسے ہوگی؟ آپ ﷺ نے فرمایا: اس کی اجازت یہ ہے کہ وہ (اجازت طلب کرنے پر) خاموش رہے۔
عربي الإنجليزية الأوردية
نکاح کا اعلان کرو
عربي الإنجليزية الأوردية
”جو عورت اپنے اولیا کی اجازت کے بغیر نکاح کرے، اس کا نکاح باطل ہے“۔ آپ (صلی اللہ علیہ وسلم) نے یہ بات تین بار فرمائی۔ (پھر فرمایا:) ”اگر مرد نے ایسی عورت سے دخول کرلیا، تو اس کے عوض میں عورت کے لیے مہر ہے۔ اگر ولی آپس میں اختلاف کریں، تو حاکم وقت اس کا ولی ہے، جس کا کوئی ولی نہ ہو"۔
عربي الإنجليزية الأوردية
عورت، عورت کا نکاح نہ کرائے اور نہ عورت خود اپنا نکاح کرے، اس لیے کہ بدکار عورت ہی اپنا نکاح خود کرتی ہے۔
عربي الإنجليزية الأوردية
وہ شخص ملعون ہے، جس نے اپنى عورت سے اس کے دبر میں جماع کیا۔
عربي الإنجليزية الأوردية
میں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! ہم میں سے کسى پر اس کى بیوی کے کیا حقوق ہیں؟ آپ ﷺ نے فرمایا : "جب تم کھاؤ تو اسے بھی کھلاؤ، جب تم پہنو یا یوں فرمایا کہ جب تم کماؤ تو اسے بھی پہناؤ، چہرے پر نہ مارو، برا بھلا نہ کہو اور اس سے جدائى اختیار نہ کرو مگر گھر ہی کے اندر"۔
عربي الإنجليزية الأوردية
جس کی دو بیویاں ہوں اور اس کا میلان ایک کی جانب ہو، وہ قیامت کے دن اِس حال میں آئے گا کہ اس کا ایک پہلو جھکا ہوا ہو گا"۔
عربي الإنجليزية الأوردية
عورتوں کے ساتھ اچھا برتاؤ کرو، کیونکہ عورت پسلی سے پیدا کی گئی ہے، اور پسلی کا سب سے ٹیڑھا حصہ اس کا بالائی حصہ ہے، اب اگر تم اسے سیدھا کرنا چاہو تو توڑ دو گے، اور اگر اسے اس کے حال پر چھوڑدو تو ٹیڑھی رہے گی، لہٰذا عورتوں سے اچھا برتاؤ کرو۔
عربي الإنجليزية الأوردية
تم میں سے ایک شخص اپنی بیوی کو غلام کی طرح مارتا ہے، حالانکہ (یہ نہیں سوچتا کہ) شاید وہ اسی دن کے آخری حصہ میں اس سے ہم بستر بھی ہو۔
عربي الإنجليزية الأوردية
قیامت کے دن اللہ کے نزدیک بدترین شخص وہ ہوگا، جو اپنی بیوی سے ملے اور بیوی اس سے ملے اور پھر وہ اس کے راز ظاہر کرتا پھرے۔
عربي الإنجليزية الأوردية
یہ شخص ہمارے ساتھ چلا آیا ہے، اگر آپ چاہیں تو اسے اجازت دے دیں اور اگر چاہیں تو یہ واپس چلا جائے
عربي الإنجليزية الأوردية
میں نے رسول اللہ ﷺ کو دیکھا کہ آپ ﷺ تین انگلیوں سے کھانا کھایا کرتے تھے اور جب کھانے سے فارغ ہوتے تو انھیں چاٹ لیا کرتے تھے۔
عربي الإنجليزية الأوردية
محمد ﷺ کی بیویوں (ازواجِ مطہرات) کے پاس بہت سی عورتیں اپنے خاوندوں کی شکایت لے کر آئی ہیں۔ یہ لوگ تم میں سے بہتر لوگ نہیں ہیں۔
عربي الإنجليزية الأوردية
جب کوئی عورت اپنے خاوند کو ایذا دیتی ہے تو (جنت کی) حوروں میں سے اس مرد کی بیوی (حور) کہتی ہے: اللہ تجھے تباہ کرے! اس شخص کو تکلیف نہ دے، یہ تو تیرے پاس مہمان ہے جو عنقریب تجھے چھوڑ کر ہمارے پاس آنے والا ہے۔
عربي الإنجليزية الأوردية
اگر میں کسی کو (اللہ کے سوا) کسی اور کے لیے سجدہ کرنے کا حکم دیتا تو میں عورت کو حکم دیتا کہ وہ اپنے شوہر کو سجدہ کرے۔
عربي الإنجليزية الأوردية
رسول اللہ ﷺ نے نکاحِ شغار سے منع فرمایا ہے۔
عربي الإنجليزية الأوردية
یا رسول اللہ! میں نے ایک عورت سے شادی کر لی ہے۔ آپ ﷺ نے پوچھا: تو نے اسے بطور مہر کیا دیا ہے؟ انہوں نے جواب دیا: ایک گٹھلی کے ہم وزن سونا۔ آپ ﷺ نے فرمایا: اللہ تمہیں برکت دے ولیمہ کرو اگرچہ ایک بکری ہی سے کیوں نہ ہو۔
عربي الإنجليزية الأوردية
آپ ﷺ کے سامنے عزل کا ذکر کیا گیا، تو فرمایا: تم میں سے کوئی ایسا کیوں کرتا ہے؟ اس لیے کہ جس بھی جان کو اللہ کو پیدا کرنا ہے وہ اسے پیدا کر کے ہی رہے گا۔
عربي الإنجليزية الأوردية
رسول اللہ ﷺ نے عثمان بن مظعون رضی اللہ عنہ کو بغیر شادی کے زندگی گزارنے کی اجازت نہیں دی، اگر آپ انہیں اس کی اجازت دے دیتے تو ہم خصی ہو جاتے۔
عربي الإنجليزية الأوردية
میں نے تمہاری شادی اس عورت سے ان سورتوں کے بدلے کر دی جو تمہیں یاد ہے
عربي الإنجليزية الأوردية
ہم نزولِ قرآن کے زمانہ میں عزل کیا کرتے تھے۔ سفیان کہتے ہیں کہ اگر یہ کوئی قابل ممانعت بات ہوتی تو قرآن ہمیں اس سے منع کر دیتا۔
عربي الإنجليزية الأوردية
کسی عورت کو اس کی پھوپھی یا اس کی خالہ کے ساتھ نکاح میں جمع نہ کیا جائے۔
عربي الإنجليزية الأوردية
یہ مسنون ہے کہ جب کوئی شخص ثیبہ کی موجودگی میں کسی باکرہ (کنواری) کو بیا ہ لائے، تو اس کے ہاں سات رات تک قیام کرے اور پھر باریاں مقرر کرے اور اگر کسی ثیبہ (غیر کنواری) سے شادی کرے، تو اس کے ہاں تین رات تک قیام کرے اور پھر باریاں طے کرے۔
عربي الإنجليزية الأوردية
رسول اللہ ﷺ نے حمزہ رضی اللہ عنہ کی بیٹی کے بارے میں فرمایا: وہ میرے لیے حلال نہیں ہے۔ رضاعت کی وجہ سے بھی وہ رشتے حرام ہو جاتے ہیں جو نسب کی وجہ سے حرام ہوتے ہیں اور وہ میرے رضاعی بھائی کی بیٹی ہے۔
عربي الإنجليزية الأوردية
جب تم میں سے کوئی شخص کسی عورت کو نکاح کا پیغام دے تو ہو سکے تو وہ اس چیز (خوبی) کو دیکھ لے جو اسے اس (عورت) سے نکاح کی طرف راغب کر رہی ہے۔
عربي الإنجليزية الأوردية
جاؤ اسے دیکھ لو کیوں کہ یہ تمہارے باہمی رشتے کی پائیداری کے لیے نہایت مناسب ہے۔
عربي الإنجليزية الأوردية
جب اللہ تعالیٰ کسی مرد کے دل میں کسی عورت کو نکاح کا پیغام دینے کا خیال پیدا کرے، تو اس عورت کو دیکھنے میں کوئی حرج نہیں ہے۔
عربي الإنجليزية الأوردية
شادی شدہ لڑکی، اپنے نفس کی اپنے ولی سے زیادہ حق دار ہے اور کنواری لڑکی سے اس کے بارے میں اجازت لی جائے گی اور اس کی خاموشی ہی اس کی اجازت ہے۔
عربي الإنجليزية الأوردية
ایک کنواری لڑکی نبی ﷺ کے پاس آئی اور اس نے یہ بیان کیا کہ اس کے باپ نے اس کا نکاح کردیا ہے جسے وہ ناپسند کرتی ہے چناچہ نبی کریم ﷺ نے اسے اختیار دے دیا۔
عربي الإنجليزية الأوردية
حلالہ کرنے والے اور کرانے والے دونوں پر اللہ تعالیٰ نے لعنت کی ہے۔
عربي الإنجليزية الأوردية
یہودی کہتے تھے کہ اگر عورت سے ہمبستری کے لیے کوئی پیچھے سے آئے گا تو بچہ بھینگا پیدا ہو گا۔ اس پر یہ آیت نازل ہوئی ﴿نِسَاؤُكُمْ حَرْثٌ لَّكُمْ فَأْتُوا حَرْثَكُمْ أَنَّىٰ شِئْتُمْ﴾ ”تمہاری بیویاں تمہاری کھیتی ہیں، سو اپنے کھیت میں آؤ جدھر سے چاہو“۔
عربي الإنجليزية الأوردية
میں نے ارادہ کیا تھا کہ غیلہ (ایام رضاعت یاحمل میں جماع )کرنے سے لوگوں کو منع کردوں، پھر مجھے یاد آیا کہ روم اور فارس کے لوگ ایسا کرتے ہیں اور اس سے ان کی اولاد کو کوئی نقصان نہیں پہنچتا ہے۔
عربي الإنجليزية الأوردية
یہودی کہتے ہیں کہ عزل کرنا چھوٹے انداز میں زندہ درگور کرنا ہے۔ آپ ﷺ نے فرمایا ” یہودی غلط کہتے ہیں ۔ اگر اللہ تعالیٰ اس کو پیدا کرنا چاہے گا تو ، تو اسے ٹال نہیں سکتا۔
عربي الإنجليزية الأوردية
نبی ﷺ نے اپنی کسی بیوی کا ولیمہ دو مُد جو سے کیا تھا۔
عربي الإنجليزية الأوردية
تم اپنے شوہر کے نزدیک بے وقعت نہیں ہو، اگر چاہو تو میں تمہارے پاس تک رہ سکتا ہوں لیکن اگر میں تمہارے پاس سات دن رہوں تو دوسری بیویوں کے پاس بھی سات دن رہوں گا۔
عربي الإنجليزية الأوردية
رسول اللہ ﷺ عائشہ رضی اللہ عنہا کی باری میں ان کے لیے دو دن مختص کیا کرتے تھے، ایک ان کا اپنا دن اور ایک سودہ رضی اللہ عنہا کا دن۔
عربي الإنجليزية الأوردية
جب نبی ﷺ باہر تشریف لے جانا چاہتے (سفر کے لیے) تو اپنی ازواجِ مطہرات میں قرعہ ڈالتے اور جس کا نام نکل آتا انہیں آپ ﷺ اپنے ساتھ لے جاتے تھے۔
عربي الإنجليزية الأوردية
تین کام ایسے ہیں کہ انھیں چاہے سنجیدگی سے کیا جائے یا ہنسی مذاق میں، ان کا اعتبار ہو گا؛ نکاح، طلاق اور رجعت۔
عربي الإنجليزية الأوردية
نبی کریم ﷺ نے خیبر کے دن نکاحِ متعہ اور پالتو گدھوں کا گوشت کھانے سے منع فرمایا۔
عربي الإنجليزية الأوردية
رسول اللہ ﷺ نے صفیّہ رضی اللہ عنہا کو آزاد کرکے ان کی آزادی کو ان کا مہر بنا دیا۔
عربي الإنجليزية الأوردية
اگر وہ میری ربیبہ نہ ہوتی (یعنی میری بیوی کی بیٹی نہ ہوتی) جب بھی میرے لیے حلال نہ ہوتی۔ وہ تو میری رضاعی بھتیجی ہے۔ مجھ کو اور ابوسلمہ دونوں کو ثویبہ نے دودھ پلایا ہے۔ چنانچہ اپنی بیٹیوں اور بہنوں کو میرے سامنے نکاح کے لیے پیش نہ کرو۔
عربي الإنجليزية الأوردية
جو غلام اپنے مالک کی اجازت کے بغیر نکاح کر لے، وہ زانی ہے۔
عربي الإنجليزية الأوردية
جب نبی کریم ﷺ نے ام المؤمنین میمونہ رضی اللہ عنہا سے نکاح کیا تو آپ حالتِ احرام میں تھے اور جب ان سے خلوت کی تو آپ احرام کھول چکے تھے اور ان کا انتقال بھی مقام سرف میں ہوا۔
عربي الإنجليزية الأوردية
رسول اللہ ﷺ نے (غزوۂ) اوطاس کے سال تین (دن) کے لیے متعہ کی رخصت دی اور پھر اس سے منع فرما دیا۔
عربي الإنجليزية الأوردية
بنی بیاضہ کے لوگو! ابوہند سے تم (اپنی بچیوں کی) شادی کرو اور (ان کی بچیوں سے شادی کرنے کے لیے) تم انہیں نکاح کا پیغام دو۔
عربي الإنجليزية الأوردية
ان دونوں میں سے جس کو چاہو طلاق دے دو۔
عربي الإنجليزية الأوردية
غیلان بن سلمہ ثقفی نے اسلام قبول کیا اور جاہلیت میں ان کی دس بیویاں تھیں، وہ سب بھی ان کے ساتھ اسلام لے آئیں، تو نبی اکرمﷺ نے انہیں حکم دیا کہ وہ ان میں سے کسی چار کو منتخب کر لیں۔
عربي الإنجليزية الأوردية
میں نے عائشہ رضی اللہ عنہا سے پوچھا کہ رسول اللہ ﷺ کی بیویوں کا مہر کتنا ہوتا تھا؟ انہوں نے جواب دیا کہ اپنی بیویوں کے لیے آپ ﷺ کا مہر بارہ اوقیہ اور ایک نَش تھا۔
عربي الإنجليزية الأوردية
علی رضی اللہ عنہ نے کہا میں نے فاطمہ رضی اللہ عنہا سے شادی کی تو میں نے رسول اللہ ﷺ سے عرض کیا مجھے ملنے کا موقع عنایت فرمائیں۔ آپ نے فرمایا اسے کچھ (تحفہ) دو، میں نے کہا میرے پاس تو کچھ بھی نہیں ہے! آپ نے فرمایا تمہاری حطمی زرہ کہاں ہے؟
عربي الإنجليزية الأوردية
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے سامنے ایک ایسے شخص کا معاملہ پیش کیا گیا جس نے ایک عورت سے شادی تو کی لیکن اس کا مہر متعین نہ کیا اور اس سے خلوت سے پہلے مر گیا، عبداللہ رضی اللہ عنہ نے کہا: لوگوں سے پوچھو کہ کیا تم لوگوں کے سامنے (رسول اللہ ﷺ کے زمانہ میں) ایسا کوئی معاملہ پیش آیا ہے؟ لوگوں نے کہا: اے ابو عبد الرحمٰن! ہم کوئی ایسی نظیر نہیں پاتے۔تو انہوں نے کہا : میں اپنی عقل و رائے سے کہتا ہوں اگر درست ہو تو سمجھو کہ یہ اللہ کی جانب سے ہے۔
عربي الإنجليزية الأوردية
سب سے بہتر نکاح وہ ہے جس میں آسانی زیادہ ہو۔
عربي الإنجليزية الأوردية
نبی ﷺ نے مدینہ اور خیبر کے درمیان تین دن تک قیام فرمایا اور وہیں صفیہ رضی اللہ عنہا سے خلوت فرمائی۔
عربي الإنجليزية الأوردية
رسول اللہ ﷺ ہم ازواجِ مطہرات کے پاس رہنے کی باری میں بعض کو بعض پر فضیلت نہیں دیتے تھے۔ ایسا دن کم ہی گزرتا تھا کہ آپ ﷺ ہم سب کے پاس نہ آتے ہوں اور بجز جماع کے ہر ایک سے قریب ہوئے بغیر اپنی اس بیوی کے پاس چلے جاتے اور شب باشی کرتے ہوں، جس کی باری ہوتی۔
عربي الإنجليزية الأوردية
سنت یہ ہےکہ جب کوئی شخص پہلے سے شادی شدہ بیوی کی موجودگی میں کسی کنواری عورت سے شادی کرے تو اس کے ساتھ سات دن تک قیام کرے اور پھر باری مقرر کرے اور جب کسی کنواری بیوی کی موجودگی میں پہلے سے شادی شدہ عورت سے نکاح کرے تو اس کے ساتھ تین دن تک قیام کرے اور پھر باری مقرر کرے۔
عربي الإنجليزية الأوردية