عن عائشة -رضي الله عنها- مرفوعًا: «أيُّما امرأةِ نَكَحَت بغير إذن مَواليها، فنِكاحها باطل»، ثلاث مرات «فإن دخلَ بها فالمهرُ لها بما أصاب منها، فإن تَشاجروا فالسلطان وَلِيُّ مَنْ لا وَلِيَّ له».
[صحيح.] - [رواه أبو داود والترمذي وابن ماجه والدارمي وأحمد.]
المزيــد ...

عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جو عورت اپنے ولی کی اجازت کے بغیر نکاح کرے، اس کا نکاح باطل ہے۔ آپ (ﷺ) نے یہ بات تین بار فرمائی۔ (پھر فرمایا) اگر مرد نے ایسی عورت سے دخول کرلیا، تو اس دخول کے عوض عورت کے لیے اس کا مہر ہے اور اگر ولی آپس میں اختلاف کریں، تو بادشاہ (حاکم وقت) اس کا ولی ہے، جس کا کوئی ولی نہ ہو۔
صحیح - اسے ابنِ ماجہ نے روایت کیا ہے۔

شرح

اس حدیث میں نبی ﷺ نے نکاح کی صحت کے لیے ولی کی اجازت کو شرط قرار دیا ہے۔ اگر عورت ولی کی اجازت کے بغیر شادی کرتی ہے، اس طرح کہ خود عقدِ نکاح کرے، تو اس کا نکاح صحیح نہیں ہے۔ اگر اس طرح کی شادی میں وطی و ہم بستری ہو جاتی ہے، تو مرد و عورت کے درمیان تفریق کرا دی جائے گی اور اس ہم بستری کی وجہ سے عورت مہر کی مستحق ہوگی۔ پھر نبی ﷺ نے بیان کیا کہ اگر عورت کے ولی شادی سے متعلق اختلاف کریں یا خود عورت اپنے ولیوں سے اختلاف کرے، تو اس کا معاملہ سلطان کی طرف منتقل ہو جائے گا اور جس کا ولی نہ ہو سلطان اس کا ولی ہوگا۔

ترجمہ: انگریزی زبان فرانسیسی زبان ترکی زبان انڈونیشیائی زبان بوسنیائی زبان روسی زبان چینی زبان فارسی زبان ہندوستانی ایغور کردی پرتگالی
ترجمہ دیکھیں