1. مرکزی
  2. زمرہ جات (کٹیگریز)
  3. فقہ و اصولِ فقہ

حدیث جس کی دو بیویاں ہوں اور اس کا میلان ایک کی جانب ہو، وہ قیامت کے دن اِس حال میں آئے گا کہ اس کا ایک پہلو جھکا ہوا ہو گا"۔

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رضي الله عنه عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:
«مَنْ كَانَتْ لَهُ امْرَأَتَانِ فَمَالَ إِلَى إِحْدَاهُمَا، جَاءَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَشِقُّهُ مَائِلٌ».

ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
"جس کی دو بیویاں ہوں اور اس کا میلان ایک کی جانب ہو، وہ قیامت کے دن اِس حال میں آئے گا کہ اس کا ایک پہلو جھکا ہوا ہو گا"۔

صحيح رواه أبو داود والترمذي والنسائي وابن ماجه وأحمد سنن أبي داود - 2133

شرح

اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم فرما رہے ہیں کہ جس شخص کی ایک سے زیادہ بیویاں ہوں اور ان کے درمیان طاقت بھر انصاف نہ کرے، مثلا اخراجات، رہنے کے لیے گھر کی فراہمی، لباس اور رات گزارنے میں برابری نہ کرے، قیامت کے دن اس کی سزا یہ ہوگی کہ اس کے جسم کا آدھا حصہ ایک جانب جھکا ہوا ہوگا۔ بالکل اسی طرح جیسے اپنے معاملات میں ایک جانب جھکا ہوا تھا۔

حدیث کے بعض فوائد

  1. دو یا دو سے زائد بیوی ہونے کی صورت میں ان کے درمیان انصاف کے ساتھ (حقوق) تقسیم کرنا شوہر پر واجب ہے۔ اس کے لیے یہ حرام ہے کہ دوسری بیویوں کو چھوڑ کر کسی ایک کی طرف مائل ہوجائے، خواہ نان ونفقہ کے معاملہ میں ہو، شب گزاری میں ہو یا حسن معاشرت وغیرہ میں۔
  2. باری اور اس طرح کی دوسری چیزیں جو انسان کے بس میں ہیں، ان کی تقسیم برابر کرنا ضروری ہے۔ رہی بات محبت اور قلبی میلان وغیرہ ایسی چیزوں کی، جو انسان کے بس میں نہيں ہوا کرتیں، تو وہ اس حدیث میں داخل نہيں ہیں۔ اسی طرح کی چیزوں کا ذکر اس آیت میں ہوا ہے: "تم چاہتے ہوئے بھی عورتوں کے درمیان انصاف نہیں کر سکتے۔" [سورہ نساء : 129]
  3. انسان کو اسی جنس کا بدلہ ملے گا جس جنس کا اس کا عمل ہوگا۔ چنانچہ جس طرح مرد دنیا میں ایک بیوی کو چھوڑ کر دوسری کی طرف مائل ہوگیا تھا، اسی طرح قیامت کے دن جب حاضر ہوگا تو اس کا جسم ایک جانب جھکا ہوا ہوگا۔
  4. بندوں کے حقوق کی اہمیت۔ بندوں کے حقوق معاف نہيں ہوں گے۔ کیوں کہ بندے اپنے حقوق کے حصول کے لیے کوشاں رہا کرتے ہيں۔
  5. جب مرد کو یہ خدشہ ہوکہ وہ اپنی بیویوں کے درمیان انصاف نہیں کر پائے گا تو اس کے لیے مستحب ہے کہ ایک ہی بیوی پر اکتفا کرے تاکہ دین میں کوتاہی کا مرتکب نہ ہو۔ اللہ تعالی کافرمان ہے: "لیکن اگر تمہیں برابری نہ کرسکنے کا خوف ہو تو ایک ہی کافی ہے"۔ [النساء: ۳]

تراجم کا مشاہدہ

46 زبان
EN English الإنجليزية
ID Indonesia الإندونيسية
BN বাংলা البنغالية
TR Türkçe التركية
RU Русский الروسية
BS Bosanski البوسنية
SI සිංහල السنهالية
HI हिन्दी الهندية
ZH 中文 الصينية
FA فارسی الفارسية
VI Tiếng Việt الفيتنامية
TL Tagalog تجالوج
KU Kurdî الكردية
HA Hausa الهوسا
PT Português البرتغالية
ML മലയാളം المليالم
TE తెలుగు التلغو
SW Kiswahili السواحيلية
TA தமிழ் التاميلية
MY မြန်မာ البورمية
TH ไทย التايلندية
DE Deutsch الألمانية
PS پښتو بشتو
AS অসমীয়া الأسامية
SQ Shqip الألبانية
SV Svenska السويدية
AM አማርኛ الأمهرية
NL Nederlands الهولندية
GU ગુજરાતી الغوجاراتية
NE नेपाली النيبالية
PRS دری الدرية
SR Српски الصربية
RW Kinyarwanda الكينياروندا
RO Română الرومانية
HU Magyar المجرية
MOS Moore الموري
MG Malagasy المالاجاشية
OM Oromoo الأورومو
KN ಕನ್ನಡ الكانادا
WO Wolof الولوف
UK Українська الأوكرانية
KA ქართული الجورجية
MK Македонски المقدونية
KM ភាសាខ្មែរ الخميرية
PA ਪੰਜਾਬੀ البنجابية
MR मराठी الماراثية