1. مرکزی
  2. زمرہ جات (کٹیگریز)
  3. فضائل و آداب

حدیث رسول اللہ ﷺ پریشانی کے وقت یہ دعا پڑھا کرتے تھے: ”لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ الْعَظِيمُ الْحَلِيمُ، لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ رَبُّ الْعَرْشِ الْعَظِيمِ، لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ رَبُّ السَّمَوَاتِ وَرَبُّ الْأَرْضِ، وَرَبُّ الْعَرْشِ الْكَرِيمِ“۔ (اللہ کے سوا کوئی معبودِ برحق نہیں، جو عظمت والا اور بُردْبار ہے۔ اللہ کے سوا کوئی معبودِ برحق نہیں، جو عرش عظیم کا رب ہے۔ اللہ کے سوا کوئی معبودِ برحق نہیں جو آسمانوں کا رب ہے، زمین کا رب ہے اور مقام وشرف والے عرش کا رب ہے۔)

عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رضي الله عنهما:
أَنَّ نَبِيَّ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَقُولُ عِنْدَ الْكَرْبِ: «لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ الْعَظِيمُ الْحَلِيمُ، لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ رَبُّ الْعَرْشِ الْعَظِيمِ، لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ رَبُّ السَّمَاوَاتِ وَرَبُّ الْأَرْضِ وَرَبُّ الْعَرْشِ الْكَرِيمِ».

عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے:
رسول اللہ ﷺ پریشانی کے وقت یہ دعا پڑھا کرتے تھے: ”لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ الْعَظِيمُ الْحَلِيمُ، لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ رَبُّ الْعَرْشِ الْعَظِيمِ، لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ رَبُّ السَّمَوَاتِ وَرَبُّ الْأَرْضِ، وَرَبُّ الْعَرْشِ الْكَرِيمِ“۔ (اللہ کے سوا کوئی معبودِ برحق نہیں، جو عظمت والا اور بُردْبار ہے۔ اللہ کے سوا کوئی معبودِ برحق نہیں، جو عرش عظیم کا رب ہے۔ اللہ کے سوا کوئی معبودِ برحق نہیں جو آسمانوں کا رب ہے، زمین کا رب ہے اور مقام وشرف والے عرش کا رب ہے۔)

صحيح متفق عليه صحيح مسلم - 2730

شرح

اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم سخت پریشانی اور شدید غم واندوہ کے وقت یہ دعا پڑھا کرتے تھے: «لا إله إلا الله» اللہ کے سوا کوئی برحق معبود نہیں ہے۔ «العظيم» وہ اپنی ذات، صفات اور افعال میں عظیم مرتبے اور بڑی شان والا ہے۔ «الحليم» وہ بردبار ہے، جو کسی نافرمان بندے کو فورا سزا نہیں دیتا، بلکہ مہلت دیتا ہے۔ کبھی کبھی تو معاف بھی کر دیتا ہے۔ جب کہ اس کے پاس سزا دینے کی پوری طاقت موجود ہے۔ کیوں کہ وہ پروردگار سب کچھ کرنے کی طاقت رکھتا ہے۔ «لا إله إلا الله رب العرش العظيم» اللہ کے علاوہ کوئی سچا معبود نہيں، جو عرش عظیم کا خالق ہے۔ «لا إله إلا الله رب السموات والأرض» اللہ کے علاوہ کوئی معبود برحق نہيں، جو آسمانوں اور زمین کا رب وخالق اور ان کے اندر موجود تمام چیزوں کا خالق، مالک، مصلح اور اپنی مشیت سے ان میں تصرف کرنے والا ہے۔ «رب العرش الكريم» جو عرش عظیم کا خالق ہے۔

حدیث کے بعض فوائد

  1. مصیبتیں اور پریشانیاں آنے پر اللہ سے لو لگانا اور دعا کرنا واجب ہے۔
  2. پریشانی کے وقت یہ دعا کرنا مستحب ہے۔
  3. رحمن کا عرش، جس پر وہ مستوی ہے، سب سے بلند، سب سے بڑی اور سب سے عظیم مخلوق ہے۔ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے اسے عظیم اور کریم سے متصف کیا ہے۔
  4. یہاں بطور خاص آسمانوں اور زمین کا ذکر اس لیے کیا گیا ہے کہ یہ دونوں ہمیں نظر آنے والی عظیم ترین مخلوقات میں سے ہیں۔
  5. طیبی کہتے ہیں: اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے اس حمد وثنا کا آغاز رب کے ذکر سے کیا، تاکہ پریشانی کو دور کرنے کے ساتھ مناسبت رہے، کیوں کہ یہی تربیت کا تقاضا ہے۔ اس میں توحید پر مشتمل تہلیل ہے جو اللہ کو تمام کمیوں اور عیوب سے پاک کرنے کی اصل بنیاد ہے، عظمت کا بیان ہے جو اللہ کی قدرت تامہ پر دلالت کرتی ہے، حلم وبردباری کا ذکر ہے جو علم پر دلالت کرتا ہے، کیوں کہ کسی جاہل کے اندر علم اور کرم جیسے اوصاف کے پائے جانے کا تصور نہيں کیا جا سکتا، جب کہ یہ دونوں صفات اوصاف کریمہ کی بنیاد اور اصل ہیں۔

تراجم کا مشاہدہ

45 زبان
EN English الإنجليزية
ES Español الإسبانية
ID Indonesia الإندونيسية
BN বাংলা البنغالية
TR Türkçe التركية
RU Русский الروسية
BS Bosanski البوسنية
SI සිංහල السنهالية
HI हिन्दी الهندية
ZH 中文 الصينية
FA فارسی الفارسية
VI Tiếng Việt الفيتنامية
TL Tagalog تجالوج
KU Kurdî الكردية
HA Hausa الهوسا
PT Português البرتغالية
ML മലയാളം المليالم
TE తెలుగు التلغو
SW Kiswahili السواحيلية
TA தமிழ் التاميلية
MY မြန်မာ البورمية
TH ไทย التايلندية
DE Deutsch الألمانية
PS پښتو بشتو
AS অসমীয়া الأسامية
SQ Shqip الألبانية
SV Svenska السويدية
AM አማርኛ الأمهرية
NL Nederlands الهولندية
GU ગુજરાતી الغوجاراتية
NE नेपाली النيبالية
PRS دری الدرية
SR Српски الصربية
RO Română الرومانية
HU Magyar المجرية
MOS Moore الموري
MG Malagasy المالاجاشية
KN ಕನ್ನಡ الكانادا
WO Wolof الولوف
UK Українська الأوكرانية
KA ქართული الجورجية
MK Македонски المقدونية
KM ភាសាខ្មែរ الخميرية
PA ਪੰਜਾਬੀ البنجابية
MR मराठी الماراثية