+ -

عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رضي الله عنهما:
أَنَّ نَبِيَّ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَقُولُ عِنْدَ الْكَرْبِ: «لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ الْعَظِيمُ الْحَلِيمُ، لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ رَبُّ الْعَرْشِ الْعَظِيمِ، لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ رَبُّ السَّمَاوَاتِ وَرَبُّ الْأَرْضِ وَرَبُّ الْعَرْشِ الْكَرِيمِ».

[صحيح] - [متفق عليه] - [صحيح مسلم: 2730]
المزيــد ...

عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے:
رسول اللہ ﷺ پریشانی کے وقت یہ دعا پڑھا کرتے تھے: ”لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ الْعَظِيمُ الْحَلِيمُ، لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ رَبُّ الْعَرْشِ الْعَظِيمِ، لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ رَبُّ السَّمَوَاتِ وَرَبُّ الْأَرْضِ، وَرَبُّ الْعَرْشِ الْكَرِيمِ“۔ (اللہ کے سوا کوئی معبودِ برحق نہیں، جو عظمت والا اور بُردْبار ہے۔ اللہ کے سوا کوئی معبودِ برحق نہیں، جو عرش عظیم کا رب ہے۔ اللہ کے سوا کوئی معبودِ برحق نہیں جو آسمانوں کا رب ہے، زمین کا رب ہے اور مقام وشرف والے عرش کا رب ہے۔)

[صحیح] - [متفق علیہ] - [صحيح مسلم - 2730]

شرح

اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم سخت پریشانی اور الجھن کے وقت یہ دعا پڑھا کرتے تھے : «لا إله إلا الله» کے سوا کوئی برحق معبود نہیں ہے۔ «العظيم» وہ اپنی ذات، صفات اور افعال میں اونچے مرتبے اور بڑی شان والا ہے۔ «الحليم» وہ بردبار ہے، جو کسی نافرمان بندے کو فورا سزا نہیں دیتا، بلکہ مؤخر کرتا ہے۔ کبھی کبھی تو معاف بھی کر دیتا ہے۔ جب کہ اس کے پاس سزا دینے کی پوری طاقت موجود ہے۔ کیوں کہ سب کچھ کرنے کی طاقت رکھتا ہے۔ «لا إله إلا الله رب العرش العظيم» اللہ کے علاوہ کوئی سچا معبود نہيں، جو عرش عظیم کا خالق ہے۔ اللہ کے علاوہ کوئی معبود نہيں، جو آسمانوں اور زمین کا رب و خالق اور ان کے اندر موجود تمام چیزوں کا خالق، مالک، مصلح اور متصرف ہے۔ «رب العرش الكريم» جو عرش عظیم کا خالق ہے۔

حدیث کے کچھ فوائد

  1. مصیبتیں اور پریشانیاں آنے پر اللہ سے لو لگانے اور دعا کرنے کی ضرورت۔
  2. پریشانی کے وقت یہ دعا کرنا مستحب ہے۔
  3. رحمن کا عرش، جس پر وہ مستوی ہے، سب سے بلند، سب سے بڑی اور سب سے عظیم مخلوق ہے۔ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے اسے عظیم اور کریم کہا ہے۔
  4. یہاں بطور خاص آسمانوں اور زمین کا ذکر اس لیے کیا گیا ہے کہ یہ دونوں ہمیں نظر آنے والی عظیم ترین مخلوقات میں سے ہیں۔
  5. طیبی کہتے ہیں : اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے اس حمد و ثنا کا آغاز رب کے ذکر سے کیا ہے، تاکہ پریشانی کو دور کرنے کے ساتھ مناسبت رہے، کیوں کہ یہی تربیت کا تقاضا ہے۔ اس میں توحید پر مشتمل تہلیل ہے جو اللہ کو تمام کمیوں اور عیوب سے پاک کرنے کی اصل بنیاد ہے، عظمت کا بیان ہے جو اللہ کی قدرت تامہ پر دلالت کرتی ہے، حلم کا ذکر ہے جو علم پر دلالت کرتا ہے، کیوں کہ کسی جاہل کے اندر علم اور کرم جیسے اوصاف کے پائے جانے کا تصور نہيں کیا جا سکتا، جب کہ یہ دونوں صفات فضل و شرف کو بیان کرنے والے بنیادی اوصاف ہیں۔
ترجمہ: انگریزی زبان اسپینی انڈونیشیائی زبان بنگالی زبان فرانسیسی زبان ترکی زبان روسی زبان بوسنیائی زبان سنہالی ہندوستانی چینی زبان فارسی زبان ویتنامی تجالوج کردی ہاؤسا پرتگالی مليالم تلگو سواحلی تھائی پشتو آسامی السويدية الأمهرية الهولندية الغوجاراتية النيبالية الدرية الرومانية المجرية الموري ภาษามาลากาซี ภาษากันนาดา الولوف الأوكرانية الجورجية المقدونية الخميرية الماراثية
ترجمہ دیکھیں