1. مرکزی
  2. زمرہ جات (کٹیگریز)
  3. عقیدہ

حدیث ’’عنقریب تم میں سے ہر شخص سے اس کا رب اس حال میں کلام فرمائے گا کہ آدمی اور اس کے رب کے درمیان کوئی ترجمان نہیں ہو گا

عَنْ عَدِيِّ بْنِ حَاتِمٍ رضي الله عنه قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:
«مَا مِنْكُمْ مِنْ أَحَدٍ إِلَّا سَيُكَلِّمُهُ اللهُ، لَيْسَ بَيْنَهُ وَبَيْنَهُ تُرْجُمَانٌ، فَيَنْظُرُ أَيْمَنَ مِنْهُ فَلَا يَرَى إِلَّا مَا قَدَّمَ، وَيَنْظُرُ أَشْأَمَ مِنْهُ فَلَا يَرَى إِلَّا مَا قَدَّمَ، وَيَنْظُرُ بَيْنَ يَدَيْهِ فَلَا يَرَى إِلَّا النَّارَ تِلْقَاءَ وَجْهِهِ، فَاتَّقُوا النَّارَ وَلَوْ بِشِقِّ تَمْرَةٍ».

عدی بن حاتم رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :
’’عنقریب تم میں سے ہر شخص سے اس کا رب اس حال میں کلام فرمائے گا کہ آدمی اور اس کے رب کے درمیان کوئی ترجمان نہیں ہو گا۔ آدمی اپنی دائیں جانب دیکھے گا تو اسے آگے بھیجے ہوئے عمل ہی نظر آئیں گے، اپنی بائیں جانب دیکھے گا تو ادھر بھی اپنے آگے بھیجے ہوئے عمل ہی دیکھے گا اور اپنے سامنے دیکھے گا تو سامنے اسے جہنم کی آگ کے سوا کچھ نظر نہیں آئے گا۔ چنانچہ تم آگ سے بچو، اگرچہ کھجور کا ایک ٹکڑا (صدقے کرنے) کے ذریعے ہی سے ہو۔‘‘

صحيح متفق عليه صحيح مسلم - 1016

شرح

اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم بتا رہے ہیں کہ قیامت کے دن ہر مومن اللہ تعالی کے سامنے اکیلا کھڑا ہوگا اور اللہ اس سے بلاواسطہ بات کرے گا۔ دونوں کے درمیان بات کا ترجمہ کرنے کے لیے کوئی ترجمان نہيں ہوگا۔ وہ گھبراہٹ کے عالم میں دائيں بائيں دیکھے گا کہ شاید جہنم سے، جو اس کے سامنے موجود ہے، بھاگنے کا کوئی راستہ مل جائے۔ لیکن دائیں دیکھے گا تو اسے اپنے آگے بھیجے ہوئے اچھے اعمال کے سوا کچھ نظر نہيں آئے گا۔ بائیں دیکھے گا تو اسے اپنے آگے بھیجے ہوئے برے اعمال کے سوا کچھ نظر نہيں آئے گا۔ جب کہ آگے دیکھے گا، تو جہنم نظر آئے گی، جس سے وہ بچ کر نکل نہيں سکے گا، کیوں کہ اسے صراط سے گزرنا ہی پڑے گا۔ بعد ازاں اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا: اپنے اور جہنم کے بیچ صدقہ اور نیکی کے کام کو آڑ بنا لو۔ یہ چاہے کسی معمولی چيز، جیسے آدھی کھجور کا صدقہ کرکے ہی کیوں نہ ہو۔

حدیث کے بعض فوائد

  1. صدقہ کرنے خواہ تھوڑا ہی کیوں نہ ہو، اچھے اخلاق و عادات اختیار کرنے، لطف آمیز معاملہ کرنے اور نرمی سے بات کرنے کی ترغیب۔
  2. اللہ تعالی قیامت کے دن اپنے بندے سے اتنا قریب ہوگا کہ ان دونوں کے درمیان کوئی پردہ، کوئی واسطہ اور کوئی ترجمان نہ ہوگا۔ لہذا مومن کو اپنے رب کے حکم کی خلاف ورزی سے بچنا چاہیے۔
  3. انسان کو کسی بھی صدقے کو کم تر نہیں جاننا چاہیے۔ چاہے وہ معمولی ہی کیوں نہ ہو۔ کیوں کہ صدقہ آگ سے حفاظت کا ذریعہ ہے۔

تراجم کا مشاہدہ

52 زبان
EN English الإنجليزية
ES Español الإسبانية
ID Indonesia الإندونيسية
BN বাংলা البنغالية
TR Türkçe التركية
RU Русский الروسية
BS Bosanski البوسنية
SI සිංහල السنهالية
HI हिन्दी الهندية
ZH 中文 الصينية
FA فارسی الفارسية
VI Tiếng Việt الفيتنامية
TL Tagalog تجالوج
KU Kurdî الكردية
HA Hausa الهوسا
PT Português البرتغالية
ML മലയാളം المليالم
TE తెలుగు التلغو
SW Kiswahili السواحيلية
TA தமிழ் التاميلية
MY မြန်မာ البورمية
TH ไทย التايلندية
DE Deutsch الألمانية
PS پښتو بشتو
AS অসমীয়া الأسامية
SQ Shqip الألبانية
SV Svenska السويدية
AM አማርኛ الأمهرية
NL Nederlands الهولندية
GU ગુજરાતી الغوجاراتية
KY Кыргызча القيرقيزية
NE नेपाली النيبالية
LT Lietuvių الليتوانية
PRS دری الدرية
SR Српски الصربية
TG тоҷикӣ الطاجيكية
RW Kinyarwanda الكينياروندا
RO Română الرومانية
HU Magyar المجرية
CS Čeština التشيكية
MOS Moore الموري
MG Malagasy المالاجاشية
OM Oromoo الأورومو
KN ಕನ್ನಡ الكانادا
WO Wolof الولوف
AZ Azərbaycan الأذربيجانية
UK Українська الأوكرانية
KA ქართული الجورجية
MK Македонски المقدونية
KM ភាសាខ្មែរ الخميرية
PA ਪੰਜਾਬੀ البنجابية
MR मराठी الماراثية