حدیث کی فہرست 27

”صدقہ مال کو گھٹاتا نہيں ہے، بندہ کے عفو و درگزر سے کام لینے سے اللہ اس کی عزت کو مزید بڑھاتا ہے اور جو آدمی اللہ کے لیے تواضع اختیار کرتا ہے، اللہ تعالی اسے بلندیوں سے نوازتا ہے“۔
اللہ تعالی نے فرمایا: ”اے ابن آدم ! خرچ کر، میں تجھ پر خرچ کروں گا“۔
کوئی دن ایسا نہیں جاتا کہ جب بندے صبح کو اٹھتے ہوں تو دو فرشتے آسمان سے نہ اترتے ہوں۔ ایک فرشتہ کہتا ہے کہ اے اللہ! خرچ کرنے والے کو اس کا بدلہ دے اور دوسرا کہتا ہے کہ اے اللہ! روک کر رکھنے والے کے مال کو ہلاک کردے"۔
جو شخص کھجور برابر حلال کمائی میں سے صدقہ کرے، اور جان لینا چاہیے کہ اللہ تعالیٰ صرف مال حلال قبول کرتا ہے، تو اللہ تعالیٰ اسے اپنے داہنے ہاتھ سے قبول کرتا ہے اور پھر اس صدقہ کو صدقہ دینے والے کے لیے اسی طرح پروان چڑھاتا ہے جیسے تم میں سے کوئی شخص اپنے گھوڑے کے بچے کو پالتا ہے یہاں تک کہ وہ (صدقہ یا اس کا ثواب) پہاڑ کی مانند ہو جاتا ہے۔
’’عنقریب تم میں سے ہر شخص سے اس کا رب اس حال میں کلام فرمائے گا کہ آدمی اور اس کے رب کے درمیان کوئی ترجمان نہیں ہو گا
عمل کی چھ قسمیں ہیں اور لوگوں کی چار۔ دو عمل واجب کردینے والے ہیں، ایک عمل کا بدلہ اسی کے مثل ملتا ہے، ایک عمل کا بدلہ دس گنا ملتا ہے اور ایک عمل کا بدلہ سات سو گنا ملتا ہے
اے اللہ کے رسول! سعد کی ماں مر چکی ہے۔ اب آپ بتائيں کہ اس کے حق میں کون سا صدقہ سب سے افضل ہے؟ آپ نے فرمایا: "پانی پلا نا۔" راوی کہتے ہيں: یہ سننے کے بعد انھوں نے ایک کنوا کھدوا دیا اور کہا کہ یہ سعد کی ماں کے لیے۔
مسلمان امانت دار خزانچی جسے کسی چیز کے دینے کا حکم دیا جائے اور وہ اس کی تعمیل کرتے ہوئے اسے پوری طرح بنا کسی کمی کے خوش دلی کے ساتھ اس شخص کو دے جسے دینے کا اسے حکم دیا گیا ہو تو اس کا شمار صدقہ کرنے والوں میں سے ہوتا ہے۔
جو شخص ان بچیوں کی وجہ سے کسی آزمائش میں مبتلا کیا گیا اور اس نے ان کے ساتھ اچھا سلوک کیا تو وہ اس کے لیے دوزخ کی آگ سے آڑ بن جائیں گی۔
بہترین صدقہ اللہ کی راہ میں سایہ دار خیمہ لگانا، یا اللہ کے راستے میں کسی خادم کا عطیہ دینا، یا اللہ کے راستے میں جوان اونٹنی دینا ہے
اوپر والا ہاتھ نیچے والے ہاتھ سے بہتر ہے، اور اوپر والا ہاتھ خرچ کرنے والا ہاتھ ہے اور نیچے والا ہاتھ مانگنے والا ہاتھ ہے۔
حسد صرف دو صورتوں میں جائز ہے۔ ایک تو یہ کہ کسی شخص کو اللہ نے دولت دی ہو اور وہ اسے اس کو راہ حق میں خرچ کرنے پر لگا دیا ہو اور دوسرا یہ کہ کسی شخص کو اللہ نے حکمت ( کی دولت ) سے نوازا ہو اور وہ اس کے ساتھ فیصلہ کرتا ہو اور ( لوگوں کو) اس حکمت کی تعلیم دیتا ہو۔
کس طرح کے صدقہ میں سب سے زیادہ ثواب ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا کہ اس صدقہ میں جسے تم صحت کے ساتھ بخل کے باوجود کرو، تمہیں ایک طرف تو فقیری کا ڈر ہو اور دوسری طرف مال دار بننے کی امید ہو اور ( اس صدقہ خیرات میں ) سستی نہیں ہونی چاہیے کہ جب جان حلق تک آجائے تو اس وقت تم کہنے لگو کہ فلاں کے لیے اتنا اور فلاں کے لیے اتنا ہے حالانکہ وہ تو فلاں کا ہوچکا ہو گا۔
اس میں سے یعنی بکری سے کیا باقی بچا ہے؟ (عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا) نے عرض کیا کہ بجز شانہ کے اور کچھ باقی نہیں رہا۔ آپ ﷺ نے فرمایا: بجز شانہ کے اور سب باقی ہے۔
وہ دینار جسے تم اللہ کی راہ میں خرچ کرتے ہو اور وہ دینار جسے تم غلام پر خرچ کرتے ہو اور وہ دینار جسے تم نے مسکین پر خیرات کردیا اور وہ دینار جسے تم نے اپنے اہل وعیال پر خرچ کیا ہے ان میں سب سے زیادہ ثواب اس دینار کا ہے جسے تم اپنے اہل وعیال پر خرچ کرتے ہو۔
بہترین صدقہ وہ ہے جو بے نیازی سے ہو۔ اوپر والا ہاتھ نیچے والے ہاتھ سے بہتر ہوتا ہے۔ اور تم میں سے ہر کسی کو چاہیے کہ وہ اُن لوگوں کو صدقہ دینے سے شروعات کرے جو اس کے زیرِ پرورش ہوں۔
بہت خوب! یہ تو بڑا فائدہ بخش مال ہے۔ یہ تو بہت ہی نفع بخش مال ہے۔ اور جو بات تم نے کہی میں نے وہ سن لی۔ اور میں مناسب سمجھتا ہوں کہ تم اسے اپنے نزدیکی رشتہ داروں کو دے دو۔
” کیا اللہ نے تمھیں صدقہ کرنے کو کچھ نہيں دیا ہے؟ بے شک ہر بار سبحان اللہ کہنا صدقہ ہے، ہر بار اللہ أکبر کہنا صدقہ ہے، ہر بار الحمد للہ کہنا صدقہ ہے اور ہر بار لاالہ الا اللہ کہنا صدقہ ہے، نیکی کا حکم دینا صدقہ ہے، برائی سے منع کرنا صدقہ ہے، اور تم میں سے کسی کا اپنی بیوی سے صحبت کرنا بھی صدقہ ہے“۔