عن المقدام بن معدِيْكَرِب قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: (ألا هل عسى رجلٌ يبلغه الحديث عني وهو متكئ على أريكته فيقول: بيننا وبينكم كتاب الله، فما وجدنا فيه حلالًا استحللناه، وما وجدنا فيه حرامًا حرمناه. وإن ما حرم رسول الله كما حرم الله).
[صحيح] - [رواه أبو داود والترمذي وابن ماجه]
المزيــد ...

مقدام بن معدیکرب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ اللہ کے رسولﷺ نے فرمایا : ’’خبردار رہو! قریب ہے کہ کسی آدمی کو میری طرف سے حدیث پہنچے اور وہ اپنے بستر پرٹیک لگائے بیٹھا ہو اور کہے کہ ہمارے اور تمہارے درمیان اللہ کی کتاب رکھی ہے۔ اس میں جو چیز ہم حلال پائیں گے اسی کو حلال سمجھیں گے اور اس میں جو چیز حرام پائیں گے اسی کو حرام جانیں گے۔ (جان لو) بے شک جو چیز رسول اللہ ﷺ نے حرام کی ہے، وہ اسی طرح حرام ہے، جیسے کہ اللہ کی حرام کی ہوئی چیز۔‘‘
صحیح - اسے ابنِ ماجہ نے روایت کیا ہے۔

شرح

اللہ کے رسولﷺ لوگوں کی ایک ایسی قسم کے بارے میں بتا رہے ہیں، جو آپ ﷺ کی حدیث کی تعظیم نہیں کرتے۔ ان میں سے بعض لوگ آپ ﷺ کی سنت کو حجت نہیں مانتے اور پر توجہ نہیں دیتے۔ جب اس طرح کے کسی شخص کے پاس آپ ﷺ کی کوئی حدیث پہنچتی ہے، تو وہ اپنے بستر پر ٹیک لگائے ہوئے بیٹھا اس کا انکار کردیتا ہے اور کہہ دیتا ہے کہ ہمارے اور تمہارے درمیان قرآن رکھا ہے۔ اس میں جو چیز ہم حلال پائیں گے اسی کو ہم حلال سمجھیں گے اور اس میں جو ہم حرام پائیں گے اسی کو حرام جانیں گے۔ لہذا وہ اپنے پاس پہنچنے والی احادیث پر نہ عمل کرتا ہے اور نہ ہی ان کی تصدیق کرتاہے۔ وہ اپنے گمان کے مطابق صرف قرآن کریم کو اپنا مصدر قرار دیتا ہے۔ حالاں کہ اگر وہ قرآن کے مطابق عمل کرتا، تو سنت کو لازم پکڑ لیتا، کیوں کہ قرآن نے نبیﷺ کی اطاعت کرنے کا حکم دیا ہے اور جن لوگوں نے سنت کو نقل کر کے ہم تک پہنچایا ہے، انہی لوگو ں نے قرآ ن کو نقل کر کے ہمیں دینے کا کام کیا ہے۔ اللہ کے نبیﷺ نے آگے بتایا ہے کہ اللہ نے جوکچھ حرام کیا ہے اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ نے جو کچھ حرام کیا ہے، دونوں برابر ہیں۔ رسولﷺ کا حرام قرار دینا اللہ دراصل اللہ ہی کا حرام قرار دینا ہے، کیوں کہ آپ اللہ عز و جل کی بات پہنچانے کے لیے آئے تھے اور آپﷺاپنے من سے کچھ نہیں بولتے تھے۔

ترجمہ: انگریزی زبان اسپینی انڈونیشیائی زبان بنگالی زبان کردی پرتگالی سواحلی
ترجمہ دیکھیں
1: رسولﷺ کی حدیث کی تعظیم کرنا اورآپﷺکے اوامر و نواہی کی تعظیم کرنا۔
2: یہ قرآن کریم کی تعظیم میں داخل ہے۔
3: جسے رسول اللہ صلى الله عليه وسلم نے حرام قرار دیا ہے، وہ اللہ کی حرام کردہ چیزوں میں داخل ہے۔
4: نبیﷺ کی مخالفت کرنا اللہ تعالیٰ کی مخالفت کی طرح ہے۔
5: جوسنت سے اعراض کرے اور قرآن پر اکتفا کرنے کا دعوی کرے، وہ دونوں سے اعراض کرنے والا ہے اور اتباع قرآن کے دعوی میں جھوٹا ہے۔