عن علي بن أبي طالب -رضي الله عنه- قال: قال لي رسول الله -صلى الله عليه وسلم-: «قل: اللهم اهْدِنِي، وسَدِّدْنِي». . وفي رواية: «اللهم إني أسألك الهُدَى والسَّدَادَ».
[صحيح] - [رواه مسلم بروايتيه، بزيادة: "وَاذْكُرْ، بِالْهُدَى هِدَايَتَكَ الطَّرِيقَ، وَالسَّدَادِ، سَدَادَ السَّهْمِ".]
المزيــد ...

علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہوئے بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے مجھ سے فرمایا کہ یہ دعا کرو ”اللَّهُمَّ اهْدِني، وسَدِّدْنِي“ اے اللہ! مجھے ہدایت اور راست روی عطا فرما۔ ایک اور روایت میں یہ الفاظ ہیں: ”اللَّهمَّ إنِّي أسْألُكَ الهُدَى والسَّدَادَ“ اے اللہ! میں تجھ سے ہدایت اور راست روی کا طلب گار ہوں۔

شرح

یہ حدیث نبی ﷺ کے جوامع الکلم میں سے ہے۔ اس حدیث میں باوجود کم عبارت کے بہت زیادہ فائدہ اور اثر ہے کیونکہ یہ حدیث اپنے اندر سارے خیر سموئے ہوئے ہے۔ نبیﷺ نے علی رضی اللہ عنہ کو یہ دعا مانگنے کا حکم دیا، آپ ﷺ نے انہیں فرمایا کہ یوں کہو: ”اے اللہ! مجھے ہدایت اور راست روی عطا فرما“۔ ”اهْدِني“ یہ اس بات کی دعا اور امید کا اظہار ہے کہ انہیں ہدایت حاصل ہو یعنی راست روی۔ گویا کہ انہوں نے اللہ تعالی سے کامل ہدایت اور راست روی کا سوال کیا۔ ”وسَدِّدْنِي“ یعنی مجھے توفیق دے اور میرے تمام دینی و دنیوی امور و معاملات میں مجھے راستگی عطا فرما۔ اس لفظ میں یہ معنی ہے کہ غلطی کو درست فرما اور خلل کو ٹھیک کر دے۔ اس لیے اس دعا میں دو امور موجود ہیں: ا۔ ہدایت کی توفیق۔ ب۔ ہدایت اور راستگی پر مسلسل قائم رہنے کی دعا اور کجی و گمراہی کی وجہ سے اس سے نکل نہ جانے کی دعا۔ پس جسے اللہ تعالی یہ دعا مانگنے کی توفیق دے دیتا ہے وہ ہدایت پر ثابت قدم اور راہ ہدایت پر گامزن رہتا ہے اور کجی و گمراہی سے دور رہتا ہے۔

ترجمہ: انگریزی زبان فرانسیسی زبان ہسپانوی زبان ترکی زبان انڈونیشیائی زبان بوسنیائی زبان روسی زبان بنگالی زبان چینی زبان فارسی زبان تجالوج
ترجمہ دیکھیں