عَنْ سَلْمَانَ رضي الله عنه قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:
«إِنَّ رَبَّكُمْ حَيِيٌّ كَرِيمٌ، يَسْتَحْيِي مِنْ عَبْدِهِ إِذَا رَفَعَ يَدَيْهِ إِلَيْهِ أَنْ يَرُدَّهُمَا صِفْرًا».

[حسن] - [رواه أبو داود والترمذي وابن ماجه] - [سنن أبي داود: 1488]
المزيــد ...

سلمان رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
"بے شک تمہارا رب با حیا اور سخی ہے۔ وہ اپنی بارگاہ میں اپنے بندے کے اٹھے ہوئے ہاتھوں کو یوں ہی خالی لوٹاتے ہوئے حیا کرتا ہے۔"

[حَسَنْ] - [اسے ابوداود، ترمذی اور ابن ماجہ نے روایت کیا ہے] - [سننِ ابو داود - 1488]

شرح

اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم دعا کے دوران دونوں ہاتھوں کو اٹھانے کی ترغیب دے رہے ہيں اور بتا رہے ہیں کہ اللہ بہت زیادہ حیا والا ہے۔ وہ نوازنے سے گریز نہيں کرتا۔ وہ بندے کا دامن خوشیوں سے بھر دیتا ہے اور اسے نقصانات سے بچاتا ہے۔ وہ کریم ہے اور بن مانگے بھی نوازتا ہے۔ تو بھلا مانگنے کے بعد کیسے نہیں دے گا!! اسے اس بات سے حیا آتی ہے کہ جب کوئی مومن بندہ دعا کے لیے ہاتھ اٹھائے تو اس کے ہاتھوں کو خالی ونامراد لوٹا دے۔

حدیث کے کچھ فوائد

  1. انسان جس قدر اللہ کے سامنے اپنی محتاجگی اور بندگی کا اظہار کرتا ہے، اس کی دعا قبول ہونے کی اتنی ہی زیادہ امید رہتی ہے۔
  2. دعا کی ترغیب۔ دعا کے وقت دونوں ہاتھوں کو اٹھانا مستحب ہے۔ یہ دعا قبول ہونے کا ایک سبب ہے۔
  3. بندوں پر اللہ کا بے پایاں رحم وکرم۔
ترجمہ دیکھیں
زبان: انگریزی زبان اسپینی انڈونیشیائی زبان مزید ۔ ۔ ۔ (43)