1. مرکزی
  2. زمرہ جات (کٹیگریز)

حدیث ”ابن آدم نے مجھے جھٹلایا۔ حالاں کہ اسے یہ زیب نہیں دیتا۔ اس نے مجھے گالی دی۔ حالاں کہ اسے یہ زیب نہیں دیتا۔

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ:

عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «قَالَ اللَّهُ: كَذَّبَنِي ابْنُ آدَمَ وَلَمْ يَكُنْ لَهُ ذَلِكَ، وَشَتَمَنِي وَلَمْ يَكُنْ لَهُ ذَلِكَ، فَأَمَّا تَكْذِيبُهُ إِيَّايَ فَقَوْلُهُ: لَنْ يُعِيدَنِي، كَمَا بَدَأَنِي، وَلَيْسَ أَوَّلُ الخَلْقِ بِأَهْوَنَ عَلَيَّ مِنْ إِعَادَتِهِ، وَأَمَّا شَتْمُهُ إِيَّايَ فَقَوْلُهُ: اتَّخَذَ اللَّهُ وَلَدًا وَأَنَا الأَحَدُ الصَّمَدُ، لَمْ أَلِدْ وَلَمْ أُولَدْ، وَلَمْ يَكُنْ لِي كُفْؤًا أَحَدٌ».

ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں :
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : "اللہ تعالی نے کہا : ”ابن آدم نے مجھے جھٹلایا۔ حالاں کہ اسے یہ زیب نہیں دیتا۔ اس نے مجھے گالی دی۔ حالاں کہ اسے یہ زیب نہیں دیتا۔ جہاں تک اس کا مجھے جھٹلانے کی بات ہے، تو یہ دراصل اس کا یہ کہنا ہے کہ میں نے جس طرح اسے پہلی بار پیدا کیا ہے، اس طرح اسے دوبارہ پیدا نہیں کروں گا۔ حالاں کہ میرے لیے اسے پہلی بار پیدا کرنا دوسری بار پیدا کرنے سے آسان نہیں ہے۔ جب کہ اس کا مجھے گالی دینا اس کا یہ کہنا ہے کہ اللہ نے اپنا بیٹا بنا رکھا ہے۔ حالاں کہ میں ایک ہوں۔ بے نیاز ہوں۔ نہ میری کوئی اولاد ہے اور نہ میں کسی کی اولاد ہوں۔ کوئی میرا ہم سر بھی نہیں ہے۔"

صحيح رواه البخاري صحيح البخاري - 4974

شرح

اس حدیث قدسی میں نبی صلی اللہ علیہ و سلم بتا رہے ہيں کہ اللہ عز و جل نے کفار و مشرکین کے بارے میں بتایا کہ وہ اسے جھٹلاتے ہیں اور کمیوں، عیوب اور نامناسب باتوں سے متصف کرتے ہيں, جو کہ ان کے لئے قطعا مناسب نہیں ہے۔
جہاں تک ان کے ذریعے اللہ کو جھٹلائے جانے کی بات ہے، تو یہ دراصل ان کا یہ زعم ہے کہ اللہ موت کے بعد ان کو دوبارہ زندہ نہیں کرے گا، جس طرح پہلی بار عدم سے وجود بخشا تھا۔ اللہ نے ان کا رد کرتے ہوئے کہا کہ جس نے ان کو عدم سے وجود بخشا، وہ ان کو دوبارہ پیدا کر سکتا ہے۔ بلکہ یہ کام اس کے لیے کہیں زیادہ آسان ہے۔ گرچہ (اگر حقیقت کى رو سے دیکھا جائے) تواللہ کے لئے پہلی بار اور دوبارہ پیدا کرنا دونوں برابر ہیں, کیوں کہ وہ ہر چيز پر قادر ہے۔
جب کہ ان کے گالی دینے سے مراد ان کا یہ کہنا ہے کہ اللہ کی اولاد ہے۔ اللہ نے ان کا رد کرتے ہوئے کہا کہ اللہ اکیلا، اپنے ناموں، صفات اور افعال کے اندر ہر طرح کے کمال کی حامل واحد ہستی، ہر نقص و عیب سے پاک اور بے نیاز ہے کہ سب اس کے محتاج ہیں اور وہ کسی کا محتاج نہیں۔ وہ کسی کا والد نہيں، کسی کی اولاد نہيں، کوئی اس کا ہم سر اور مثیل و نظیر بھی نہيں ہے۔

حدیث کے بعض فوائد

  1. اللہ کے کمال قدرت کا اثبات۔
  2. موت کے بعد دوبارہ زندہ کرکے اٹھائے جانے کا اثبات۔
  3. دوبارہ اٹھائے جانے کا انکار کرنے یا اللہ کی اولاد ہونے کا دعوی کرنے والے کا کفر۔
  4. اللہ کا کوئی مثیل و نظیر نہيں ہے۔
  5. اللہ کا وسیع حلم وبردباری اور کافروں کو مہلت دینا کہ شاید توبہ کرلیں اور اس کے در پر لوٹ آئيں۔

تراجم کا مشاہدہ

58 زبان
EN English الإنجليزية
ES Español الإسبانية
ID Indonesia الإندونيسية
UG ئۇيغۇرچە الأيغورية
BN বাংলা البنغالية
FR Français الفرنسية
TR Türkçe التركية
RU Русский الروسية
BS Bosanski البوسنية
SI සිංහල السنهالية
HI हिन्दी الهندية
ZH 中文 الصينية
FA فارسی الفارسية
VI Tiếng Việt الفيتنامية
TL Tagalog تجالوج
KU Kurdî الكردية
HA Hausa الهوسا
PT Português البرتغالية
ML മലയാളം المليالم
TE తెలుగు التلغو
SW Kiswahili السواحيلية
MY မြန်မာ البورمية
TH ไทย التايلندية
DE Deutsch الألمانية
PS پښتو بشتو
AS অসমীয়া الأسامية
SQ Shqip الألبانية
SV Svenska السويدية
AM አማርኛ الأمهرية
NL Nederlands الهولندية
GU ગુજરાતી الغوجاراتية
KY Кыргызча القيرقيزية
NE नेपाली النيبالية
YO Yorùbá اليوروبا
LT Lietuvių الليتوانية
PRS دری الدرية
SR Српски الصربية
SO Soomaali الصومالية
TG тоҷикӣ الطاجيكية
RW Kinyarwanda الكينياروندا
RO Română الرومانية
HU Magyar المجرية
CS Čeština التشيكية
MOS Moore الموري
MG Malagasy المالاجاشية
IT Italiano الإيطالية
OM Oromoo الأورومو
KN ಕನ್ನಡ الكانادا
WO Wolof الولوف
AZ Azərbaycan الأذربيجانية
UZ O‘zbek الأوزبكية
UK Українська الأوكرانية
KA ქართული الجورجية
MK Македонски المقدونية
KM ភាសាខ្មែរ الخميرية
PA ਪੰਜਾਬੀ البنجابية
MR मराठी الماراثية
KMR Kurmancî الكرمنجية
زمرہ جات (کٹیگریز)
  • . .