1. مرکزی
  2. زمرہ جات (کٹیگریز)
  3. فضائل و آداب

حدیث بے شک شیطان مایوس ہو چکا ہے اس بات سے کہ نمازى لوگ جزیرۃ العرب میں اس کی عبادت کریں گے، لیکن وہ ان کے مابین (عداوت ودشمنی، فتنوں اور اختلافات کو) بھڑکانے کے بارے میں پُر امید ہے"۔

عَنْ جَابِرٍ رضي الله عنه قَالَ: سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ:
«إِنَّ الشَّيْطَانَ قَدْ أَيِسَ أَنْ يَعْبُدَهُ الْمُصَلُّونَ فِي جَزِيرَةِ الْعَرَبِ، وَلَكِنْ فِي التَّحْرِيشِ بَيْنَهُمْ».

جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہيں کہ میں نے اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم کو فرماتے ہوئے سنا:
"بے شک شیطان مایوس ہو چکا ہے اس بات سے کہ نمازى لوگ جزیرۃ العرب میں اس کی عبادت کریں گے، لیکن وہ ان کے مابین (عداوت ودشمنی، فتنوں اور اختلافات کو) بھڑکانے کے بارے میں پُر امید ہے"۔

صحيح رواه مسلم صحيح مسلم - 2812

شرح

اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے بتایا کہ شیطان اس بات سے مایوس ہو چکا ہے کہ نماز کی پابندی کرنے والے مسلمان جزیزۂ عرب میں اس کی عبادت اور بتوں کے سامنے سجدہ کریں گے۔ لیکن آج بھی اس کی خواہش کم نہيں ہوئی ہے۔ آج بھی اس بات کے لیے اس کی کوشش جاری ہے کہ ان کو اکسا کر ان کے درمیان لڑائی، جھگڑا اور فتنہ وفساد برپا کر دیا جائے۔

حدیث کے بعض فوائد

  1. شیطان کی عبادت بت کی عبادت ہے۔ کیوں کہ وہی اس کا حکم دیتا ہے اور اس کی جانب بلاتا ہے۔ قرآن مجید میں ہے کہ ابراہیم علیہ السلام نے اپنے والد سے کہا تھا : "اے ابا جان! شیطان کی عبادت نہ کریں..."
  2. شیطان مسلمانوں کے درمیان دشمنیاں، عداوتیں، جنگیں اور فتنے برپا کرنے کى تگ ودو میں لگا رہتا ہے۔
  3. اسلام میں نماز کا ایک فائدہ یہ ہے کہ یہ مسلمانوں کی باہمی محبت کو برقرار رکھتی ہے اور ان کے درمیان بھائی چارے کے بندھن کو مضبوط کرتی ہے۔
  4. دونوں شہادتوں کے بعد نماز دین کے شعائر میں سب سے زیادہ عظمت والى ہے اور اسی لیے اس حدیث میں مسلمانوں کو مصلِّیوں (نمازیوں) سے تعبیر کیا گیا ہے۔
  5. جزیرۂ عرب کی چند خصوصیات ایسی ہیں، جو دوسرے ممالک اور علاقوں کو حاصل نہیں ہیں۔
  6. اگر کوئی کہے کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم فرما رہے ہیں: "شیطان اس بات سے مایوس ہو چکا ہے کہ مسلمان جزیرۃ العرب میں اس کی عبادت کریں گے۔" جب کہ ہم دیکھتے ہیں کہ جزیرۃ العرب کے کچھ حصوں میں بتوں کی پوجا ہو رہی ہے، تو اس کا جواب یہ ہے کہ اس حدیث میں بات اسلامی فتوحات اور اسلام کے اندر لوگوں کے گروہ در گروہ داخل ہونے کو دیکھ کر شیطان کے دل میں چھانے والی مایوسی کی ہو رہی ہے۔ دراصل یہ حدیث شیطان کے ظن اور توقع کی بات کر رہی ہے۔ لیکن بعد میں اس کے برخلاف ہوا، جس کے پیچھے اللہ کی کوئی مصلحت ہوگی۔

تراجم کا مشاہدہ

49 زبان
EN English الإنجليزية
ES Español الإسبانية
ID Indonesia الإندونيسية
BN বাংলা البنغالية
TR Türkçe التركية
RU Русский الروسية
BS Bosanski البوسنية
SI සිංහල السنهالية
HI हिन्दी الهندية
ZH 中文 الصينية
FA فارسی الفارسية
VI Tiếng Việt الفيتنامية
TL Tagalog تجالوج
KU Kurdî الكردية
HA Hausa الهوسا
PT Português البرتغالية
ML മലയാളം المليالم
TE తెలుగు التلغو
SW Kiswahili السواحيلية
TA தமிழ் التاميلية
MY မြန်မာ البورمية
TH ไทย التايلندية
DE Deutsch الألمانية
PS پښتو بشتو
AS অসমীয়া الأسامية
SQ Shqip الألبانية
SV Svenska السويدية
AM አማርኛ الأمهرية
NL Nederlands الهولندية
GU ગુજરાતી الغوجاراتية
NE नेपाली النيبالية
LT Lietuvių الليتوانية
PRS دری الدرية
SR Српски الصربية
TG тоҷикӣ الطاجيكية
RW Kinyarwanda الكينياروندا
RO Română الرومانية
HU Magyar المجرية
MOS Moore الموري
MG Malagasy المالاجاشية
OM Oromoo الأورومو
KN ಕನ್ನಡ الكانادا
WO Wolof الولوف
UK Українська الأوكرانية
KA ქართული الجورجية
MK Македонски المقدونية
KM ភាសាខ្មែរ الخميرية
PA ਪੰਜਾਬੀ البنجابية
MR मराठी الماراثية